آج جب ہم ایک آزاد فضا میں سانس لیتے ہیں، اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اور اپنی مسلم شناخت پر فخر کرتے ہیں، تو تاریخ کا وہ ورق خود بخود کھل جاتا ہے جس پر تحریکِ پاکستان کی طویل جدوجہد لکھی ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی تقسیم محض ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ کروڑوں مسلمانوں کے وجود، ان کی تہذیب اور ان کے مستقبل کو ایک مستقل غلامی سے بچانے کی واحد تدبیر تھی۔
قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال نے بہت پہلے بھانپ لیا تھا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کا مقدر صرف اور صرف محکومی ہوگا۔ اسی لیے پاکستان کو برصغیر کے مسلمانوں کی “واحد پناہ گاہ” قرار دیا گیا۔ تاریخ کے موازنے اور آج کے سنگین حالات سے یہ بات ایک اٹل سچائی بن کر سامنے آتی ہے۔
1۔ سنتِ نبویﷺ اور ہجرت کا فلسفہ
جب ہم پاکستان کے قیام اور مسلمانوں کی ہجرت کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں تاریخِ اسلام کا وہ عظیم الشان باب یاد آتا ہے جب مکہ مکرمہ میں قریش کے مظالم حد سے بڑھ گئے۔ مسلمانوں کے لیے اپنے عقیدے پر قائم رہنا اور آزادی سے سانس لینا ناممکن بنا دیا گیا۔ اس کٹھن وقت میں کائنات کے سب سے مقدس رہنما، نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے مسلمانوں کو مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیا۔
• غور طلب بات یہ ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ خود اس وقت مکہ ہی میں موجود تھے اور تمام مظالم کا سامنا کر رہے تھے، لیکن انہوں نے اپنے صحابہ کی جان، مال اور سب سے بڑھ کر ان کے ایمان کے تحفظ کے لیے ایک الگ پناہ گاہ (مدینہ منورہ) کا انتخاب فرمایا۔
• پس ثابت ہوا کہ جب کفر کا نظام مسلمانوں پر غالب آنے لگے اور دین پر عمل کرنا محال ہو جائے، تو ایمان کی حفاظت کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کی طرف ہجرت کرنا عین سنتِ نبویﷺ ہے۔ پاکستان کا قیام بھی اسی نبویؐ فلسفے کا تسلسل تھا تاکہ برصغیر کے مسلمان ایک آزاد اسلامی ماحول میں زندگی بسر کر سکیں۔
2۔ 1947ء کا متحدہ ہندوستان: آبادی اور تناسب کا سچ
تحریکِ پاکستان کے وقت مسلمانوں کی سب سے بڑی تشویش ان کی عددی اقلیت تھی۔ اگر ہم 1947ء کے متحدہ ہندوستان کی مجموعی آبادی (تقریباً 39 سے 40 کروڑ) پر نظر ڈالیں، تو آبادی کا تناسب کچھ یوں تھا:
• ہندو آبادی: تقریباً 70 فیصد (قریب 27 سے 28 کروڑ) کے ساتھ ایک بہت بڑی اور مستقل اکثریت میں تھی۔
• مسلم آبادی: تقریباً 24 فیصد (قریب 9.5 سے 10 کروڑ) کے ساتھ ایک ایسی اقلیت تھی جو پورے برصغیر میں بکھری ہوئی تھی۔
مغربی طرز کی جمہوریت میں جہاں فیصلے “سر گن کر” ہوتے ہیں، اس 70 فیصد اکثریت کے سامنے مسلمانوں کی 24 فیصد آبادی سیاسی طور پر ہمیشہ کے لیے بے بس ہو جاتی۔ قائد اعظم نے اسی “اکثریت کے جبر” (Tyranny of Majority) سے مسلمانوں کو بچانے کے لیے پاکستان کا مطالبہ کیا۔
3۔ نقلِ مکانی کا المیہ: جب تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت خون میں نہا گئی
ایک تاریخی حقیقت جو اکثر فراموش کر دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ تقسیمِ ہند کے وقت یہ طے بالکل نہیں ہوا تھا کہ دونوں طرف کی آبادی مکمل طور پر نقلِ مکانی کرے گی۔ یہ فرض کیا گیا تھا کہ اقلیتیں اپنے اپنے ملکوں میں پرامن رہیں گی۔ لیکن جیسے ہی سرحدیں کھینچی گئیں، انتہا پسند ہندو اور سکھ گروہوں نے مسلمانوں کا ایسا منظم قتلِ عام شروع کیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
• بغیر کسی پیشگی تیاری کے، لاکھوں مسلمانوں کو اپنی صدیوں پرانی جائیدادیں اور گھر بار چھوڑ کر ننگے پاؤں بھاگنا پڑا.
• خون سے لت پت ٹرینیں، کٹی پھٹی لاشیں اور ماؤں بہنوں کی عصمت دری—یہ وہ قیمت تھی جو اس پناہ گاہ (پاکستان) تک پہنچنے کے لیے مہاجرین نے چکائی.
اس ہولناک قتل و غارت اور غیر متوقع ہجرت پر قائد اعظم محمد علی جناح کا دل بری طرح ٹوٹ گیا تھا۔ انہوں نے مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ کرتے ہوئے غمزدہ لیکن پرعزم لہجے میں فرمایا تھا:
“ہمیں ایک ایسی منظم سازش کا سامنا کرنا پڑا جس کا مقصد پاکستان کو اس کے جنم لیتے ہی کچل دینا تھا۔ تاریخ میں اتنے بڑے پیمانے پر آبادی کی نقلِ مکانی کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہمارے حوصلے بلند ہیں، اور کوئی بھی طاقت پاکستان کو مٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی اگر ہم متحد رہے۔”
4۔ موجودہ دور کے تلخ حقائق: اتر پردیش (سنبھل) کا تازہ المیہ
آج بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ بانیانِ پاکستان کی دور اندیشی اور مہاجرین کے بہنے والے خون کی سچائی پر سب سے بڑی مہر ہے۔ حال ہی میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع سنبھل کے ایک گاؤں میں جو افسوسناک واقعہ پیش آیا، وہ مسلم دشمنی کی بدترین مثال ہے:
• وہاں انتظامیہ نے مسلمانوں کی ایک تاریخی و واحد مقامی مسجد کو محض اس بہانے بلڈوزر چلا کر شہید کر دیا کہ وہ مبینہ طور پر غیر قانونی زمین پر بنی تھی۔
• ظلم کی حد یہ ہے کہ اس کارروائی کی اصل وجہ تلاشی کے نام پر مسجد کے اندر سے ملنے والا ایک معصوم اسٹیکر تھا جس پر “I Love Muhammad” لکھا ہوا تھا۔
• انتہا پسند ہندو انتظامیہ نے نامِ محمدﷺ کے اس پرامن اسلامی پوسٹر کو “مذہبی ہم آہنگی بگاڑنے” کا بہانہ بنایا اور الٹا مسجد کے متولی (کیر ٹیکر) سمیت آٹھ بے قصور مسلمانوں پر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ (FIR) درج کر کے جیل بھیج دیا۔
ایک ایسی ریاست جہاں نبی کریمﷺ کے نام کا اسٹیکر ملنے پر مسجدیں ڈھا دی جائیں، وہاں متحدہ ہندوستان کے خواب دیکھنے والوں کے لیے عبرت کا بہت بڑا سامان ہے۔
5۔ برصغیر کے مسلمانوں کی موجودہ مجموعی آبادی کا موازنہ
آج اگر ہم بانیانِ پاکستان کے فیصلے کا وزن کرنا چاہیں، تو ہمیں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی موجودہ مجموعی آبادی (ملا کر) دیکھنی ہوگی۔ آج اس خطے کی صورتحال یہ ہے:
• مجموعی مسلم آبادی (تقریباً 63 سے 65 کروڑ): پاکستان (تقریباً 24 کروڑ)، بھارت (تقریباً 21 سے 22 کروڑ) اور بنگلہ دیش (تقریباً 16 سے 17 کروڑ)۔ یعنی آج اس پورے خطے میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی دنیا میں کسی بھی خطے سے زیادہ ہے۔
• مجموعی ہندو آبادی (تقریباً 110 سے 115 کروڑ): جس کی اکثریت بھارت میں ہے اور کچھ تعداد بنگلہ دیش اور پاکستان میں ہے۔
تناسب کا فرق: اگر یہ تینوں ملک آج ایک ہوتے (متحدہ ہندوستان ہوتا)، تو تقریباً 115 کروڑ ہندوؤں کے سامنے 65 کروڑ مسلمان آج بھی اقلیت ہی ہوتے۔ وہ پاکستان اور بنگلہ دیش جو آج آزاد مسلم ریاستیں ہیں اور جہاں مسلمان خود مختار ہیں، متحدہ ہندوستان کی صورت میں وہ بھی آج مودی اور یوگی جیسے انتہا پسندوں کے ہندوتوا فلسفے کے رحم و کرم پر ہوتے اور ان کا حال بھی سنبھل، کشمیر اور آسام کے مسلمانوں جیسا ہوتا۔
برصغیر کے مسلمانوں کی بقا کی یہ داستان اس وقت تک ادھوری ہے جب تک اس میں موجودہ بھارت کے مسلمانوں کی موجودہ کشمکش اور مظلوم کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کا ذکر نہ کیا جائے۔ آپ کے اس اہم نکتے کو ایک اثر انگیز اور متوازن پیراگراف کی شکل میں ڈھال دیا گیا ہے، جسے آپ بلاگ کے اختتامی حصے (حرفِ آخر سے پہلے) شامل کر سکتے ہیں:
موجودہ بھارتی مسلمان اور مقبوضہ کشمیر: ایک نئی حکمتِ عملی کی پکار
آج ہندوستان میں رہنے والے کروڑوں مسلمان ایک ایسے نازک تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انہیں اپنی بقا، شناخت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نئی اور ٹھوس حکمتِ عملی کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ چاہے یہ فیصلہ ایک نئے سیاسی و سماجی وطن کی فکری جدوجہد کا ہو یا کسی ایسی متحدہ آواز کا جہاں ان کی بات کو دبایا نہ جا سکے، انہیں اب بیدار ہونا پڑے گا۔ لیکن اس تمام تر صورتحال میں ہمیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیور مسلمانوں کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے، جو دہائیوں سے بدترین بھارتی جارحیت، فوجی محاصرے اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ کشمیر کے مسلمانوں نے اپنی آزادی اور مسلم شناخت کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، وہ برصغیر کی تاریخ کا سب سے روشن باب ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی کوئی بھی تحریک یا حکمتِ عملی مظلوم کشمیری بھائیوں کے ذکر اور ان کی اخلاقی و سیاسی حمایت کے بغیر نہ تو مکمل ہو سکتی ہے اور نہ ہی کامیاب۔۔
حرفِ آخر
پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کے لیے محض ایک سیاسی ضرورت نہیں تھا، بلکہ یہ ان کی بقا، عزت، جان و مال اور ایمان کی حفاظت کا واحد قلعہ تھا، جس کی بنیادوں میں سنتِ نبویﷺ کا فلسفہِ ہجرت شامل ہے۔ سنبھل میں مسجد کی شہادت اور 1947ء میں مہاجرین کے خون کے دریا ہمیں روز یاد دلاتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں مستقل غلامی کے جہنم سے نکال کر آزادی کی جنت کا تحفہ دیا تھا۔ ہمیں اس پناہ گاہ کی قدر کرنی چاہیے اور اسے ایک مضبوط، مستحکم اور مثالی اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔




