کبھی کبھی ہم اپنی زندگی میں ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جو ہر خلاف مزاج بات پر غصہ میں آ جاتے ہیں اور ان کی آواز بلند ہو جاتی ہے،آپ حیران رہ جاتے ہیں کہ میں تو ایک بالکل نارمل بات کی تھی نہ جانے ان کو کیا ہوا ہے؟
یہ بات ممکن ہے کہ کوئی بات آپ کے لئے اہم نہ ہو لیکن دوسرے شخص کو وہ ناپسند ہو ،یہ عین فطرت ہے ۔
کبھی کبھار وقت پڑنے پر آواز بلند کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔لیکن یہ کیا کہ انسان ہر وقت ہی لڑنے مرنے پے آمادہ رہے؟۔ایسا کرنے والا انسان جھگڑالو کہلاتا ہے ۔اختلاف رائے، فکر یا نقطۂ نظر کے فرق کا نام ہے جس میں احترام اور مکالمے کی گنجائش باقی رہتی ہے۔
لڑاکا مزاج ہر اختلاف کو تنازع بنا کر جیتنے یا دوسروں کو رد کرنے کی مسلسل کیفیت کا نام ہے۔
اختلاف شعور اور تنوع کو جنم دیتا ہے، جبکہ لڑاکا مزاج اکثر توازن، تعلق اور مقصد کو متاثر کر دیتا ہے۔
یا یوں کہیں کہ اس کی شخصیت میں توازن نہیں ہوتا ہے۔
توازن یا اعتدال کسی بھی انسان کا بنیادی وصف ہے۔
ہمہ وقت حالت جنگ میں رہنے سے درست موقف بھی کی بھی اہمیت نہیں رہتی۔
رائے دینا، حق کے لیے کھڑا ہونا اور ضرورت پڑنے پر آواز بلند کرنا ایک کسی بھی شخصیت کے لئے مثبت عمل سمجھا جاتا ہے۔ خاموشی ہمیشہ حکمت نہیں ہوتی اور ہر اختلاف سے بچتے رہنا بھی دانش مندی نہیں،کیونکہ ایک صاحب عقل و شعور رائے بھی رکھتا ہے اور وقت پڑنے پر اس کا اظہار بھی کرتا ہے۔نیز ہر مسئلہ پر اگر ہم خاموشی اختیار کر لیں گے تو اختلاف یا مسئلے کا حل کیسے نکلے گا؟
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انسان ہر وقت حالتِ جنگ میں رہے؟ کیا ہر بات کو معرکہ بنا دینا، ہر اختلاف کو ذاتی مسئلہ سمجھ لینا اور ہر لمحہ دفاع یا حملے کی کیفیت میں رہنا درست رویہ ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ جب انسان ہر وقت لڑنے، رد کرنے یا ثابت کرنے کی کیفیت میں رہتا ہے تو اس کی شخصیت میں توازن متاثر ہونے لگتا ہے۔
اختلافِ رائے زندگی کا حصہ ہے، مگر مستقل کشمکش انسان کے اندر ایسی بے چینی پیدا کر دیتی ہے جو سوچ، تعلقات اور فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایسے لوگ اکثر اپنی درست بات بھی ایسے انداز میں پیش کرتے ہیں کہ بات کی تاثیر کم اور تلخی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
آواز بلند کرنا بعض مواقع پر ضروری ہوتا ہے۔ ظلم، ناانصافی، حق تلفی یا اصولی معاملات میں خاموش رہنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ لیکن ہر موضوع کو میدانِ جنگ بنا دینا انسان کو تھکا دیتا ہے اور اس کے اردگرد کے لوگوں کو بھی دور کرنے لگتا ہے۔ غصے اور دفاعی موڈ میں انسان کا دماغ صحیح اور غلط کا فیصلہ نہیں کر پاتا، جس سے اکثر غلط فیصلے ہوتے ہیں۔
ہر وقت دفاعی حالت میں رہنے سے جسم میں ‘سٹریس ہارمونز’ (جیسے کورٹیسول) بڑھتے ہیں، جو دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر اور کمزور مدافعتی نظام کا باعث بنتے ہیں اور دوسری طرف لوگ ایسے افراد سے دور رہنا پسند کرتے ہیں جن کے رویے میں ہمیشہ تلخی اور تنقید ہو۔
ہمہ وقت حالتِ جنگ میں رہنے کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ انسان اپنے اصل مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔ وہ مسئلے کے حل سے زیادہ اپنی برتری ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔ نتیجتاً درست موقف بھی شدت کے شور میں دب جاتا ہے۔
مدیحہ انور خلیل



