انسان کیوں نہیں بدلتا؟
کبھی کبھی ہم کسی بات کو اتنی بار سنتے ہیں کہ لگتا ہے اب اس سے زیادہ واضح بات اور کیا ہوگی۔
سچ بولنا چاہیے، کسی کا حق نہیں مارنا چاہیے، چوری نہیں کرنی چاہیے، دھوکا نہیں دینا چاہیے، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنی چاہیے۔
ہم یہ سب جانتے ہیں۔
پھر سوال یہ ہے کہ جاننے کے باوجود انسان بدلتا کیوں نہیں؟
سعادت حسن منٹو کا ایک قول اسی سوال کو بڑی سادگی، مگر گہری معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے رکھتا ہے:
«”اگر ایک ہی بار جھوٹ نہ بولنے اور چوری نہ کرنے کی تلقین کرنے پر ساری دنیا جھوٹ اور چوری سے پرہیز کرتی تو شاید ایک ہی پیغمبر کافی ہوتا۔”»
منٹو کا یہ جملہ پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں سب سے پہلے یہی سوال آتا ہے کہ آخر انسان کو ایک ہی بات بار بار کیوں سمجھانی پڑتی ہے؟
شاید اس لیے کہ انسان صرف عقل سے نہیں بدلتا۔
وہ جانتا ہے کہ جھوٹ بری چیز ہے، مگر کبھی اپنا فائدہ اسے سچ سے زیادہ عزیز لگنے لگتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ کسی کا حق مارنا غلط ہے، مگر خواہش، لالچ یا ضرورت کے سامنے اصول کمزور پڑ جاتے ہیں۔
وہ دوسروں کو سچائی کا درس دیتا ہے، لیکن جب وہی امتحان اس کی اپنی ذات پر آتا ہے تو معاملہ بدل جاتا ہے۔
یہ انسانی فطرت کا ایک عجیب پہلو ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیاں بہت جلد دیکھ لیتے ہیں، مگر اپنی غلطیوں کے لیے ہمارے پاس بے شمار جواز موجود ہوتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں:
“مجبوری تھی۔”
“سب ہی تو ایسا کرتے ہیں۔”
“میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔”
اور یوں انسان اپنے ضمیر کو خاموش کرنے کے لیے الفاظ کا سہارا لے لیتا ہے۔
شاید اصل تبدیلی اسی وقت شروع ہوتی ہے جب انسان اپنے لیے بنائے ہوئے ان جوازوں کو پہچان لیتا ہے۔
صرف جاننا کافی نہیں
ہماری زندگی میں ایسی کتنی ہی باتیں ہیں جو ہمیں معلوم ہیں، مگر ہماری عادتوں کا حصہ نہیں بن پاتیں۔
ہم جانتے ہیں کہ غصہ نقصان دیتا ہے، پھر بھی غصہ کرتے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ معافی دل کو ہلکا کرتی ہے، پھر بھی برسوں ناراضی سنبھالے رکھتے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ وقت قیمتی ہے، پھر بھی اسے معمولی چیزوں میں ضائع کر دیتے ہیں۔
اس کا مطلب شاید یہ ہے کہ علم راستہ دکھا سکتا ہے، لیکن راستے پر چلنے کا فیصلہ انسان کو خود کرنا پڑتا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں نصیحت، عمل میں تبدیل ہوتی ہے۔
انسان کو بار بار یاد دہانی کیوں چاہیے؟
شاید اس لیے کہ انسان بھولنے والی مخلوق ہے۔
وہ اچھی بات سنتا ہے، متاثر ہوتا ہے، کچھ دیر سوچتا ہے اور پھر روزمرہ کی مصروفیات اسے دوبارہ وہیں لے آتی ہیں جہاں سے وہ چلا تھا۔
اسی لیے اچھی بات کا بار بار دہرایا جانا بے معنی نہیں۔
ایک نصیحت شاید ذہن تک پہنچتی ہے،
دوسری دل پر دستک دیتی ہے،
اور کبھی تیسری یا چوتھی بار وہی بات انسان کے اندر کوئی تبدیلی پیدا کر دیتی ہے۔
لیکن شرط یہ ہے کہ انسان سننے سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو دیکھنے پر آمادہ ہو۔
دوسروں کو بدلنے سے پہلے
ہم اکثر چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر والے بدل جائیں، معاشرہ بدل جائے، لوگ سچ بولنے لگیں، دوسروں کے رویے بہتر ہو جائیں۔
لیکن شاید سب سے مشکل سوال یہ نہیں کہ “دوسرے کیوں نہیں بدلتے؟”
بلکہ یہ ہے:
“میں خود کہاں بدلنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں؟”
اگر ہم ہر نصیحت کو دوسروں کے لیے سمجھنے کے بجائے کبھی اپنے لیے بھی سنیں تو شاید بہت کچھ بدل سکتا ہے۔
انسان کا سب سے مشکل سفر باہر کی دنیا سے اپنے اندر کی دنیا تک کا سفر ہے۔
اور اس سفر میں کوئی دوسرا ہمارے قدم نہیں اٹھا سکتا۔
راستہ دکھایا جا سکتا ہے،
سمجھایا جا سکتا ہے،
یاد دلایا جا سکتا ہے،
مگر چلنا خود پڑتا ہے۔
شاید اسی لیے ہمیں اچھی بات بار بار سننے کی ضرورت رہتی ہے۔
اور شاید اسی لیے ایک پیغام کے بعد دوسرا پیغام آتا رہا، تاکہ انسان کو بار بار یاد دلایا جا سکے کہ اصل کامیابی صرف یہ جان لینا نہیں کہ سچ کیا ہے، بلکہ سچ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لینا ہے۔
آخر میں سوال پھر وہی رہ جاتا ہے:
انسان کیوں نہیں بدلتا؟
شاید اس لیے کہ بدلنے کے لیے صرف بات کا سمجھ میں آ جانا کافی نہیں۔۔۔
انسان کو اپنے اندر سے بدلنے پر آمادہ ہونا پڑتا ہے۔
اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں فکر، عمل بن جاتی ہے۔
— فکرو عمل کے نقوش
تحریر: مدیحہ انور خلیل
