مرد اور عورت۔۔۔۔۔رفیق ناں کہ رقیب



اللہ تعالٰی  نے جب اس دنیا کو تخلیق  کیا تو اس کو آباد کرنے کے لئے آدم علیہ السلام  کو پیدا کیا اور پھر ان کا ساتھ دینے کے لئے حضرت حوا کو پیدا کیا۔انسان کو ہمیشہ  ساتھ کی ضرورت  ہوتی ہے ۔اگر کوئی ساتھی ، کوئی دکھ درد اور خوشیاں بانٹنے والا نہ ہو تو جنت  میں ہونا بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔
اقبال نے اپنی کتاب “ضرب کلیم “میں اپنی ایک نظم عورت  کے عنوان سے تحریر  کی ہے کہ۔۔۔۔۔

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشتِ خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کا دُرِ مکنوں
مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں

یعنی اقبال فرماتے ہیں کہ اس دنیا کی خوبصورتی، رونق اور رنگینی عورت کے وجود کی بدولت ہے۔ اگر عورت نہ ہو تو کائنات بے رنگ اور اداس ہو جائے۔  زندگی کے اندر جینے کا جو جذبہ، تڑپ اور سوز (گرمی) موجود ہے، وہ عورت کے دم سے ہے۔ وہ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں کائنات کو زندگی بخشتی ہے۔ آخری شعر میں اقبال کہتے ہیں کہ عورت نے شاید افلاطون کی طرح فلسفے کی کتابیں نہ لکھی ہوں، لیکن افلاطون جیسے عظیم مفکر کو جنم دینے اور اس کی تربیت کرنے والی بھی ایک عورت (ماں) ہی ہے۔ 

زندگی محض سانسوں کے چلنے کا نام نہیں، بلکہ تعلقات کی خوشبو، احساس کی نمی اور رفاقت کی روشنی سے اس کا حسن قائم رہتا ہے۔

انسان کی اس داستانِ حیات میں مرد اور عورت دو مخالف کردار نہیں بلکہ ایک ہی کائنات کے دو ایسے رنگ ہیں جو مل کر زندگی کی تصویر مکمل کرتے ہیں۔ ان کا رشتہ برتری یا کشمکش کا نہیں، بلکہ محبت، احترام اور تکمیل کا رشتہ ہے۔
نہ جانے کب  ایسا ہوا کہ مردوں نے وہ طاقت جو اللہ  نے انہیں  عورتوں کی حفاظت  کے لئے دی تھی، انہی پر استعمال  کرنا شروع  کر دی۔۔جنہیں قوام اور نگہبان  بنایا تھا وہ آقا اور مالک بن بیٹھے اور دوسری طرف عورت  جو کہ اپنے ہر روپ میں مرد کے لئے راحت کا سبب ہے چاہے وہ ماں ہو،بیوی  ہو بہن ہو یا بیٹی، وہ ان کے مقابل کھڑی ہو گئی۔ حالانکہ  جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ قدرت نے دونوں کو ایک جیسا نہیں بنایا دونوں  اپنی خصوصیات  کے لحاظ سے جدا   ہیں۔کیونکہ حسن ہمیشہ تنوع میں ہوتا ہے، مشابہت میں نہیں۔ مرد کے حصے میں کہیں استحکام، ذمہ داری اور تحفظ آیا تو عورت کے دامن میں لطافت، احساس اور سکون رکھ دیا گیا۔ یہی فرق فاصلے پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک دوسرے کی کمی پوری کرنے کے لیے ہے۔
عورت بظاہر جتنی مضبوط دکھائی دے، اس کے باطن میں احساسات کی ایک نہایت لطیف دنیا آباد ہوتی ہے۔ بعض اوقات ایک سخت لہجہ، ایک بے احتیاط جملہ یا ایک تلخ رویہ اس کے دل پر وہ اثر چھوڑ جاتا ہے جو مدتوں باقی رہتا ہے۔ شاعر نے شاید اسی کیفیت کو یوں بیان کیا:
تو نے تلخی سے بات کیا کر دی
دل نے دکھنے کی انتہا کر دی
اسلام نے بھی عورت کے مقام اور اس کے احساسات کی نزاکت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے سفر کے دوران، جب اونٹوں کی رفتار تیز ہو رہی تھی اور عورتیں سواری پر موجود تھیں، تو ارشاد فرمایا:
“رويدك يا أنجشة، لا تكسر القوارير”
(اے انجشہ! آہستہ چلو، آبگینوں کو نہ توڑو۔)
یہ الفاظ محض سفر کی رفتار کم کرنے کی ہدایت نہیں تھے بلکہ انسانی تعلقات کا ایک دائمی اصول تھے۔ یہاں “قواریر” یعنی آبگینے کا لفظ عورتوں کی بے قدری کے لیے نہیں بلکہ ان کی نزاکت، لطافت اور احساس کی قدر دانی کے لیے استعمال ہوا۔ گویا یہ تعلیم دی گئی کہ عورت کے ساتھ معاملہ کرتے وقت صرف الفاظ نہیں، لہجہ بھی نرم ہونا چاہیے؛ صرف حقوق نہیں، جذبات کا بھی خیال ہونا چاہیے۔
یہاں آبگینہ کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ ایسی شفافیت کی علامت ہے جسے بے احتیاطی سے دھندلا دیا جاتا ہے اور محبت سے روشن رکھا جاتا ہے۔
مرد اور عورت کا تعلق تب خوبصورت بنتا ہے جب مرد اپنی قوت کو نرمی کے ساتھ جوڑے اور عورت اپنی محبت کو اعتماد کے ساتھ۔ رشتے حکم سے نہیں، حسنِ سلوک سے زندہ رہتے ہیں۔ محبت میں جیتنے والا وہ نہیں جو غالب آ جائے، بلکہ وہ ہے جو دوسرے کے دل کو محفوظ رکھ لے۔
آخرکار، زندگی کا اصل حسن اسی میں ہے کہ مرد عورت کو سمجھنے کی کوشش کرے اور عورت مرد کی رفاقت کو محسوس کرے۔ کیونکہ جب تعلقات میں احترام، نرمی اور محبت شامل ہو جائے تو گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں رہتا، دلوں کی پناہ گاہ بن جاتا ہے ورنہ شیطان ان دونوں  کو بہکا کر بہت دور لے جا سکتا ہے ۔آدم وحوا  اگر  شیطان  کے رنگین وعدوں  کے جال میں آئے تو جنت سے نکالے جا سکتے ہیں۔

مدیحہ انور خلیل

مرد اور عورت  ۔۔۔۔رفیق ناں کہ رقیب

Published by khalilmadihaanwar

مدیحہ انور ایک اردو لکھاری ہیں جو ادب، سماج اور احساسات پر لکھتی ہیں۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message
Log In