یہ بات درست ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر طرف مسائل دکھائی دیتے ہیں۔ ظلم و ستم کی خبریں روز ہمارے دلوں کو بے چین کرتی ہیں۔ ہماری بیٹیاں ہوں یا بیٹے، انہیں بعض اوقات ایسے لوگوں سے خطرات لاحق ہیں جنہیں اپنی طاقت، دولت یا اثر و رسوخ پر ناز ہے۔ ہر روز ہمارے کان ایسی خبریں سنتے اور آنکھیں ایسے منظر دیکھتی ہیں کہ بہت دفعہ تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہماری سانس رک رہی ہے اور ان کو برداشت کرنا ہمارے بس سے باہر ہے۔
قانون کمزور دکھائی دیتا ہے اور انصاف ہوتا نظر نہیں آتا، کہیں کرپشن نے نظام کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور کہیں سفارش اور اقربا پروری میرٹ کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔
ایسے حالات میں کبھی کبھی دل میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم نے اس لئے آزادی حاصل کی تھی ؟ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر سوچیں توکیا ہم واقعی آزاد ہیں؟
کرپشن ، مہنگائی، بےراہروی، بےروزگاری ‘امیروں کی حاکمیت اور غریبوں کی ان کے ہاتھوں ذلت ،یہ وحشی درندے جن کے ہاتھوں ہماری بیٹیاں محفوظ نہیں۔۔۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ صرف یہی آزاد ہیں۔۔۔۔
ایسے میں کچھ آوازیں اٹھتی ہیں کہ یہ کیسی آزادی ہے؟ہم نہیں مناتے جشن آزادی ۔۔۔۔
لیکن ذرا ٹھہریے۔
چند لمحے رکیے۔۔۔۔۔
آپ کیا سمجھتے ہیں ان سب کا ذمہ دار “پاکستان “ہے؟
یا ان سب کی قصور وار 14 اگست 1947 کو حاصل ہونے والی آزادی ہے؟
کیا علیحدہ وطن کے حصول کی جدوجہد غلط تھی۔۔۔۔۔۔۔؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو سمندر کے اوپر جھاگ جیسے لوگ ہیں کیا یہ سمندر کے اندر موجود حیات کی گہرائی کو کو بیان کر سکتے ہیں؟
تو اس کا جواب حاصل کرنے کے لئے ہم اپنے ماضی، حال اور مستقبل پر ایک نظر دوڑاتے ہیں اور اپنے ذہنوں میں موجود سوالات اور شبہات کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔۔
اس سال جب ہم اپنا اناسی واں یوم آزادی منا رہے ہیں دنیا کا عالمی نظام درہم برہم ہے ، ہر طرف افراتفری اور جنگیں ہیں۔جہاں جنگ نہیں ہو رہی امن وہاں بھی نظر نہیں آ رہا ۔بھارت، بنگلہ دیش، نیپال ، سری لنکا ہو یا یورپ کا کوئی ملک ہو، آسٹریلیا سے لے کر افریقہ ہر جگہ بے چینی ہے ، خلق خدا سڑکوں پر ہے ۔ آخر کیوں ؟یہ سب کیا چاہتے ہیں ؟
اگر ہم دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے لوگوں کی باتوں کو غور سے سنیں تو جو بات ہمیں معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ سب ایک ہی چیز کی تلاش میں ہیں اور وہ ہے انصاف، امن اور بنیادی انسانی حقوق۔۔۔۔۔
ہر جگہ صاحبان اقتدار وسائل کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔
یہ ساری تحریکیں اور جدوجہد دیکھ کر ہمیں پتا چلتا ہے کہ یہ جن مسائل کی وجہ سے ہم یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ شاید ہم آزاد نہیں ہیں تو یہ صرف ہمارا مسئلہ نہیں ہے ‘ ساری دنیا کے لوگوں کی اکثریت ہی ان کا شکار ہے۔۔
تو آئیے زرا یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آزادی کیا ہوتی ہے؟ اور آزادی حاصل کرنے کے بعد ہم میں اور دنیا میں میں رہنے والے غلام قوموں کی زندگیوں میں کیا فرق ہے؟
آزادی کوئی معمولی نعمت نہیں۔
ہم شاید اس نعمت کی قدر اس لیے نہیں کر پاتے کہ ہم نے اسے اپنی روزمرہ زندگی کا معمول سمجھ لیا ہے۔ ہم اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں’ اپنے ملک کے حالات پر سوال اٹھا سکتے ہیں اور بہتر مستقبل کا مطالبہ کر سکتے ہیں حتی کہ ہم میں موجود کچھ لوگ مختلف محاذوں پر لڑتی اپنی فوج کو گالیاں تک دے سکتے ہیں۔
شہداء کے خون کو یہ کہہ کر بے وقت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ وہ تو تنخواہ ہی جان دینے کی لیتے ہیں۔
یہ سب معمولی باتیں نہیں۔
دنیا میں آج بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو جنگ، جبر، قبضے کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے لیے اپنے گھر، اپنے بچوں اور اپنے مستقبل کا تحفظ بھی ایک خواب بن چکا ہے۔
پاکستان کا قیام محض نقشے پر ایک نئی لکیر کھینچ دینے کا نام نہیں تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک طویل سیاسی جدوجہد کے بعد اپنے مستقبل کے بارے میں ایک اجتماعی فیصلہ کیا تھا۔ اور کسی بھی قوم کا اجتماعی شعور کبھی بھی غلط نہیں ہوتا
تقسیمِ ہند کے دوران لاکھوں انسانوں نے ہجرت کی۔ گھر اجڑے، خاندان بچھڑے، قافلے لٹے اور بے شمار لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ آزادی کی یہ قیمت صرف کتابوں کے صفحات میں نہیں، بہت سے خاندانوں کی نسل در نسل منتقل ہونے والی یادوں میں بھی محفوظ ہے۔
کیا ہم آزاد وطن کی تحقیر محض اس لئے کریں کہ آزادی حاصل ہونے کے بعد ہماری نسلوں کی پرورش درست نہج پر نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔
مسئلہ لوگوں میں ہے۔۔۔۔معاشرے میں ہے۔۔۔۔تربیت میں ہے۔۔۔۔۔
ناں کہ ملک میں اور آزادی حاصل کرنے کے فیصلے میں ۔۔۔۔
سب برائیوں اور ۔معاشرتی خامیوں کے باوجود پاکستان اللہ کہ عطا کردہ نعمتوں میں سب سے پہلے نمبر پر ہے۔۔۔۔
خود احتسابی ضروری ہے لیکن آزادی کی نعمت کو کمتر اور معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔۔۔۔
اس لئے آئیے مل کر آزادی کو محسوس کریں اور دل سے خوشیاں منائیں۔ کیونکہ نعمتوں کی قدر نہ کرنے والوں سے نعمتیں واپس لے لی جاتی ہیں۔۔۔
پاکستان زندہ باد
قائداعظم پائندہ باد

ایک سوال، ایک سفر، اور آزادی کی حقیقت کی تلاش