مسلسل منفی خبروں کی یلغار کس طرح ہمارے ذہنی سکون، احساسِ تحفظ اور موجودہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے؟


تحریر:مدیحہ انور خلیل
اس دنیا میں ہر طرف افراتفری ہے، دکھ ہیں، جنگیں ہیں اور پریشانیاں ہیں۔ صبح و شام ہر طرف سے بری خبروں کی یلغار ہے۔ انسانی تاریخ نے یقیناً بہت مشکل حالات دیکھے ہیں۔ ظلم و ستم کی بے شمار داستانیں ہمارے کانوں نے سنی ہیں اور تاریخ دانوں نے انہیں کتابوں میں محفوظ کیا ہے۔
آئیے انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے والے واقعات، جنگوں، وباؤں، قحط اور قدرتی آفات کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
اندازاً ہلاکتیں
• طاعون (Black Death، 1346–1353ء): 7.5 سے 20 کروڑ
• دوسری جنگِ عظیم (1939–1945ء): 7 سے 8.5 کروڑ
• منگول (تاتاری) فتوحات: 3 سے 6 کروڑ
• ہسپانوی فلو (1918–1920ء): 1.7 سے 5 کروڑ
• پہلی جنگِ عظیم (1914–1918ء): 1.7 سے 2 کروڑ
• تائپنگ بغاوت (چین، 1850–1864ء): 2 سے 3 کروڑ
• ان لوشان بغاوت (چین، 755–763ء): 1.3 سے 3.6 کروڑ
• 1958–1962ء کا عظیم چینی قحط: 1.5 سے 5.5 کروڑ
• 1931ء کے چین کے سیلاب: 10 سے 40 لاکھ
قدرتی آفات کی چند نمایاں مثالیں
• 1556ء کا شاآنشی زلزلہ (چین): تقریباً 8 لاکھ 30 ہزار اموات؛ تاریخ کا سب سے مہلک زلزلہ۔
• 2004ء بحرِ ہند سونامی: تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار اموات۔
• 1935ء کوئٹہ زلزلہ: تقریباً 30 ہزار سے 60 ہزار اموات۔
• 1970ء بھولا سائیکلون (بنگلہ دیش): تقریباً 3 سے 5 لاکھ اموات۔
ان اعداد سے واضح ہوتا ہے کہ وباؤں اور قحط نے مجموعی طور پر جنگوں سے بھی زیادہ انسانوں کی جانیں لی ہیں، جبکہ دوسری جنگِ عظیم جدید تاریخ کا سب سے مہلک مسلح تنازع تھا۔ قدیم واقعات کے اعداد مختلف تاریخی ذرائع میں کچھ فرق کے ساتھ ملتے ہیں، اس لیے انہیں تخمینی سمجھا جاتا ہے۔
لیکن پہلے اور آج کے زمانے میں ایک بنیادی فرق ہے۔ آج دنیا کے کسی بھی کونے میں رونما ہونے والی خبر لمحوں میں پوری دنیا تک پہنچ جاتی ہے۔ مسلسل منفی خبروں کی یلغار انسانوں میں اضطراب، ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کے احساس میں نمایاں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص خود امن و سکون سے زندگی گزار رہا ہو تب بھی وہ مطمئن نہیں رہ پاتا۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید اگلی مصیبت اسی کے دروازے پر دستک دینے والی ہے۔ یہی احساس اسے اپنی موجودہ نعمتوں سے صحیح طور پر لطف اندوز ہونے سے بھی محروم کر دیتا ہے اور ایک انجانا خوف مسلسل اس کے ساتھ رہتا ہے۔
آج کی اس ترقی یافتہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ ہر طرح کی خبر تک فوری رسائی ہے۔ انسان نے صدیوں تک خبر حاصل کرنے کے لیے سفر کیے، مگر آج خبر خود انسان کے تعاقب میں ہے۔ بدقسمتی سے اچھی خبر ہر جگہ نہیں پہنچتی، لیکن بری خبر دنیا کے ہر انسان تک ضرور پہنچ جاتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان ان دکھوں کا بوجھ بھی اٹھانے لگا ہے جن کا وہ خود کبھی حصہ نہیں تھا، اور رفتہ رفتہ وہ ہر چیز کو ایک منفی عینک سے دیکھنے لگتا ہے۔
اللہ کے نبی ﷺ کی دعاؤں میں ایک دعا یہ بھی تھی:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا
ترجمہ:
“اے اللہ! میں تجھ سے نفع دینے والا علم، پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں۔”
(سنن ابن ماجہ)
اسی لیے ہر خبر پر نظر رکھنا ضروری نہیں۔ سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنی اور پوری انسانیت کی خیر کی دعا کریں اور اس کی مخلوق پر اس کی رحمت طلب کریں۔ ضروری نہیں کہ جو کچھ آنکھیں دیکھ رہی ہوں اور کان سن رہے ہوں، وہ مکمل حقیقت بھی ہو۔ اس پرفتن دور میں ہم جتنا غیر ضروری خبروں سے خود کو محفوظ رکھیں گے، اتنا ہی اپنے ایمان، ذہنی سکون اور قلبی اطمینان کی حفاظت کر سکیں گے۔