پرائیویسی یا نجی زندگی ایسا موضوع ہے جس پر ہمارے معاشرے میں بہت ہی کم معلومات ہیں اور اس پر بہت ہی کم بات ہوتی ہے۔ اور کئی گھرانوں میں تو اس کے بارے میں بات کرنا ہی برا سمجھا جاتا ہےاور اس کو غرور، خودغرضی بھی سمجھا جاتا ہے۔
حالانکہ بین الاقوامی سطح پر پرائیویسی کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ سو ہم اسلام سے پہلے ہم اس بات کا پتہ لگاتے ہیں کہ دنیا ہمارے اس حق کو کس نظر سے دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔
مثلاً اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ (Universal Declaration of Human Rights) کے آرٹیکل 12 میں نجی زندگی، خاندان، گھر اور مراسلت کے تحفظ کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ آسان لفظوں میں پرائیویسی وہ حق ہے جس کے تحت ہر انسان اپنی نجی زندگی کی حدود خود متعین کرتا ہے اور دوسروں کو ان حدود کا احترام کرنا ہوتا ہے۔
پرائیویسی (Privacy) سے مراد فرد کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، نجی معاملات، ذاتی تعلقات، جسمانی حدود اور ڈیجیٹل ڈیٹا پر خود اختیار رکھے، اور یہ طے کرے کہ کون، کب، کتنی اور کس مقصد کے لیے اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔۔
اب آتے ہیں اسلامی اصولوں کی جانب تو اسلام جو کےایک مکمل ضابطۂ حیات ہے آخر وہ اتنے اہم معاملے میں رہنمائی کیوں نہ دے گا،جو انسان کی ظاہری اور باطنی زندگی دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔
جس طرح جان و مال کی حفاظت ضروری ہے، اسی طرح انسان کی عزت، وقار اور نجی زندگی (پرائیویسی) کا تحفظ بھی نہایت اہم ہے۔ قرآن و سنت ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ کسی کی ذاتی زندگی میں بلا اجازت دخل اندازی نہ کی جائے۔
اسلام میں پرائیویسی (نجی زندگی کے احترام) کے
بارے میں متعدد احادیث موجود ہیں۔جن سے ہم رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ، لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ تَتَبَّعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ رَحْلِهِ
(سنن ابوداؤد)
ترجمہ:
اے وہ لوگو جو زبان سے ایمان لائے ہو مگر ایمان دل میں داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیب تلاش نہ کرو، کیونکہ جو اپنے بھائی کے عیب تلاش کرے گا، اللہ اس کے عیب ظاہر کر دے گا، چاہے وہ اپنے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔
بلکہ آپ ﷺ نے یہاں تک فرمایا:
مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
(صحیح مسلم)
ترجمہ:
جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
اسی طرح ایک اور موقع پر رسول رحمتﷺ نے فرمایا:
مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يَفْقَؤُوا عَيْنَهُ
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ترجمہ:
جو شخص کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکے تو گھر والوں کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔
یہ حدیث اس بات کی شدت کو ظاہر کرتی ہے کہ اسلام کسی کی نجی حدود میں مداخلت کو کتنا بڑا جرم قرار دیتا ہے۔
قرآن کریم میں بھی انسان کے اس حق کی حفاظت کی گئی ہے۔اللہ تعالٰی سورہ نور میں ارشادات ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ
(النور: 27)
ترجمہ:
اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے رہنے والوں کو سلام نہ کر لو۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام کسی کی نجی حدود میں بلا اجازت داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
اسلام میں پرائیویسی کا مطلب ہے کسی کے عیب تلاش نہ کرنا،بلا اجازت کسی کے گھر یا نجی معاملات میں دخل نہ دینا بلکہ دوسروں کی عزت اور راز کی حفاظت کرنا۔
یہی تعلیمات ایک بااعتماد اور محفوظ معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں۔
آئیے ہم عہد کریں کہ حتی الامکان اپنی حدود کا خیال رکھیں گے۔۔۔
مدیحہ انور
