Poverty: The real problem or failure of the system

غربت: حقیقی مسئلہ یا نظام کی ناکامی؟

انسانوں  میں  دولت کی کمی یا زیادتی ہمیشہ  سے رہی ہے۔ یہ اللہ  کا نظام  ہے کہ کسی کے کے پاس اتنا مال ہے کہ اس کی سات نسلوں  کے لئے  کافی ہے اور کوئی اگلے  وقت کے کھانے کے لئے جدوجہد  کر رہا پے۔ لیکن  اگر غربت اتنی بڑھ جائے  کہ دنیا میں کروڑوں  کی تعداد  میں لوگ  خط غربت  سے نیچے  زندگی  بسر  کر رہے ہوں   تو انسان  سوچنے پر مجبور  ہو جاتا ہے کہ کیا اس دنیا کہ مالک نے واقعی  کچھ لوگوں  کو زندگی  دینے کے بعد بھوک سے مرنے کے لئے چھوڑ  دیا ہے؟
بنظر غائر اگر کوئی  دیکھے تو یہی کہے گا کہ شاید  یہی تقسیم خداوندی  ہے اور ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔۔لیکن کیوں؟آخر اس خالق نے اپنے بندوں  کے ساتھ  ایسا سلوک  کیوں کیا؟
تو چلیں آئیے دیکھتے  ہیں کہ آخر اسلام  اس معاملے  میں  ہماری کیا رہنمائی  کرتا ہے۔
  اسلام کے مطابق ہر انسان اپنا رزق ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر جان دار کا رزق اس کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دیا ہے۔ یہ رزق مقرر ہے، لیکن اس کے حصول کے لیے جائز کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور رزق کے حصول میں (حلال طریقہ) اختیار کرو، کیونکہ کوئی بھی شخص اپنے مقررہ رزق کو مکمل کیے بغیر نہیں مرے گا، اگرچہ اسے حاصل کرنے میں کچھ تاخیر ہی کیوں نہ ہو جائے”۔
ایک دوسری حدیث کے مطابق، جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو فرشتہ اس کے رزق، عمر، اور عمل کو لکھ دیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان: “اے لوگو! تم میں سے کوئی بھی اپنے مکمل رزق کو حاصل کیے بغیر نہیں مرے گا” (سنن کبریٰ للبیہقی، حدیث: 10405)۔
رزق کا معاملہ مکمل طور پر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
ہر انسان کی پیدائش کا مقصد اور اس کی روزی مقرر ہے۔
حلال رزق کے لیے محنت کرنا لازم ہے، لیکن پریشان ہونا ضروری نہیں کیونکہ اللہ رازق ہے۔
تو  چلیں یہ تو ثابت  ہوا کہ اللہ  اپنی مخلوق  سے بے پروا نہیں ہےاور اس نے ہر ایک کے حصے کا رزق  ،کم ہو یا زیادہ، پیدا کیا ہے۔تو پھر آخر کیا وجہ  ہے کہ کچھ  لوگ فاقوں  کی وجہ سے مر جاتے ہیں؟ ان کے حصے  کا رزق آخر کہاں  گیا؟

ایسی غربت جس میں کچھ  لوگ  فاقہ کشی کا شکار ہوں اور چند لوگوں  کا مال ان کی نسلوں  کے لئے  بھی وافر ہو کو حقیقی غربت نہیں بلکہ  سسٹم کی ناکامی سمجھا جاتا ہے نہ کہ کسی فرد کی ذاتی کوتاہی کا نتیجہ ۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جہاں معاشی پالیسیاں، تعلیم تک غیر مساوی رسائی، اور سماجی تحفظ کے ناقص نظام لوگوں کو آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔
غربت کی جڑیں ناقص معاشی، سیاسی اور سماجی اداروں میں پیوست ہیں۔ ان اداروں کا ناقص  نظام
شہریوں کو بنیادی اور ضروری وسائل فراہم کرنےمیں ریاستی ناکامی کا نتیجہ ہے۔
یہ کوئی اخلاقی نقص یا محنت کی کمی نہیں، بلکہ ایک ایسی “سزا ہے جو اس جرم کے بدلے ملتی ہے جو آپ نے کیا ہی نہ ہو”۔
دوسری بڑی وجہ  نظامی مسائل میں مواقع کی عدم فراہمی، تعصب، اور کم آمدنی والے علاقوں میں تعلیم کے لیے فنڈز کی کمی شامل ہیں۔
اگرچہ بعض لوگ انفرادی محنت کو مالی بہتری کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، لیکن ماہرین کی بڑی تعداد اس بات پر متفق ہے کہ جب رہائش کے اخراجات اجرتوں سے زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں، تو یہ سسٹم کی ناکامی لوگوں کو غربت کے چکر میں جکڑ لیتی ہے۔

  اقوام متحدہ (UN) اور اس کے ذیلی اداروں (جیسے UNDP اور OPHI) کے مطابق، دنیا میں 1ارب سے زائد افراد شدید غربت کا شکار ہیں، جس کی بنیادی وجوہات میں پرتشدد تنازعات، جنگیں، کمزور معاشی ڈھانچہ، اور تعلیم و صحت تک عدم رسائی شامل ہیں۔ تقریبا 40 فیصد غریب آبادی جنگ زدہ یا غیر مستحکم ممالک میں رہتی  ہے۔
افریقہ اور دیگر غریب ممالک میں غربت ایک عالمی اور مقامی نظامی ناکامی کا امتزاج ہے۔ ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف (IMF) اور ورلڈ بینک کی بعض پالیسیاں افریقہ میں غربت کم کرنے میں ناکام رہی ہیں، جس سے صورتحال مزید ابتر ہوئی ۔بہت سے افریقی ممالک قدرتی وسائل (تیل اور معدنیات) سے مالا مال ہونے کے باوجود بدترین غربت کا شکار ہیں، کیونکہ ان وسائل کا فائدہ عوام کے بجائے کرپٹ اشرافیہ  اور ترقی یافتہ  ممالک کو پہنچتا ہے۔
افریقہ میں تقریباً 567 ملین افراد لکڑی پر کھانا پکاتے ہیں اور 510 ملین سے زائد افراد بیت الخلا جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جو ایک گہری سسٹمک محرومی کی نشاندہی کرتا ہے ۔ طاقت کا غلط استعمال اور سیاسی عدم استحکام سرمایہ کاری اور ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے ۔
موسمیاتی آفات نے بھی غربت کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستان  میں ہر سال آنے والے سیلاب نے کروڑوں لوگوں کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا ہے۔
غربت  کے اس چکر کے نکلنے  کے لئے ایسے پرخلوص قائدین  کی ضرورت  ہے جو غریبوں  کی پریشانیوں  کا صحیح  معنوں  میں ادراک  کریں اور ان کے حل کیلئے  کوششیں  بھی  کریں۔

مدیحہ انور

Published by khalilmadihaanwar

مدیحہ انور ایک اردو لکھاری ہیں جو ادب، سماج اور احساسات پر لکھتی ہیں۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message
Log In