غزوۂ احزاب اور آج کا پاکستان  میں مماثلت — آزمائش کے دن اور امید کی روشنی



تاریخِ اسلام کے صفحات میں ہمیں  بعض  ایسے مواقع ملتے ہیں جب حالات بظاہر انتہائی مشکل نظر آتے ہیں اور یوں محسوس  ہوتا ہے کہ شاید  اب اسلام  شکست کھا جائے گا مگر عین اسی وقت  اللہ کی مدد آتی ہے اور بازی پلٹ  جاتی ہے۔
انہی میں سے ایک عظیم واقعہ غزوۂ احزاب (خندق) کا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب مدینہ منورہ کے خلاف مختلف قبائل اور دشمن طاقتیں متحد ہو کر حملہ آور ہوئیں اور مدینہ میں منافقین  کی زبان درازی عروج  پر تھی ۔ مسلمان تعداد میں کم تھے، وسائل محدود تھے اور دشمن چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھا۔گویا کہ سارے عرب کے ساتھ ساتھ  مدینہ کے اندر بھی ایک جنگ جاری تھی۔

قرآن مجید اس منظر کو یوں بیان کرتا ہے:
“إِذْ جَاءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ”
(سورۃ الاحزاب: 10)
ترجمہ:
“جب وہ تم پر اوپر سے بھی چڑھ آئے اور نیچے سے بھی، اور آنکھیں پتھرا گئیں اور دل گلے تک آ پہنچے۔”
یہ وہ وقت تھا جب بظاہر ہر طرف خوف، سازشیں اور آزمائشیں تھیں۔ منافقین بددل کرنے والی باتیں کر رہے تھے،یعنی اہل ایمان  پر ایسا وقت شاید ہی پہلے  کبھی  آیا ہو۔جبکہ مخلص اہل ایمان کا حال قرآن نے یوں بیان کیا:
“هَٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ”
(الاحزاب: 22)
یعنی سچے مومنوں نے کہا:
“یہی وہ وعدہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔”

ہم پاکستان  کو مدینہ ثانی کہتے ہیں۔حیرت انگیز  طور پر پاکستان  کی پہلی جنگ 1965 میں ہم نے اپنے سے بہت بڑے دشمن کو شکست  دی جبکہ 1971 کی جنگ میں  بیرونی سازشوں  کے ساتھ ساتھ پاکستان  کو اندرونی معاملات  کی وجہ سے شکست  ہوئی۔۔کچھ لوگ  ان جنگوں  کو غزوۂ بدر اور غزوۂ احد سے بھی مماثل قرار  دیتے ہیں۔
اگر ہم آج کے پاکستان کے حالات پر نظر ڈالیں تو ہمیں بھی کئی طرح کی مشکلات نظر آتی ہیں۔ سیاسی کشمکش، معاشی دباؤ، بے یقینی اور معاشرتی تقسیم نے قوم کو ایک عجیب اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسائل ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔
اور اس پر یہود و ہنود  کا گٹھ جوڑ اور ہمارے  افغان  بھائیوں کا منافقین  والا رویہ  اور پاکستان  پر دہشت گردانہ  حملہ آوروں  کی حمایت۔۔۔۔
بظاہر  یوں معلوم  ہوتا  ہے کہ شاید  اس دفعہ  کفار کا پاکستان  کو تباہ  کرنے کا منصوبہ  کامیاب ہوجائے۔(خدانخواستہ )
لیکن تاریخ کا سبق یہی ہے کہ مشکل حالات ہمیشہ مستقل نہیں ہوتے۔ غزوۂ احزاب میں بھی آخرکار اللہ کی مدد آئی اور دشمن کی ساری سازشیں ناکام ہو گئیں۔
قرآن کہتا ہے:
“وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا”
(الاحزاب: 25)
ترجمہ:
“اور اللہ نے کافروں کو ان کے غصے کے ساتھ ہی واپس لوٹا دیا، وہ کوئی فائدہ نہ پا سکے۔”
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب قومیں صبر، حکمت اور اتحاد کا راستہ اختیار کرتی ہیں تو مشکل سے مشکل حالات بھی بدل سکتے ہیں۔ آزمائشیں دراصل قوموں کے حوصلے، ایمان اور کردار کو پرکھنے کے لیے آتی ہیں۔
آج ہمیں بھی ضرورت ہے کہ مایوسی اور انتشار کے بجائے امید، صبر اور اجتماعی شعور کو اختیار کریں۔ اختلاف رائے اپنی جگہ، مگر قومی مفاد اور اخلاقی اصولوں کو مقدم رکھنا ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں بحران سے نکال سکتا ہے۔ اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، سحر ضرور طلوع ہوتی ہے۔

مدیحہ انور

Published by khalilmadihaanwar

مدیحہ انور ایک اردو لکھاری ہیں جو ادب، سماج اور احساسات پر لکھتی ہیں۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message
Log In