عورتیں جاب کیوں کرتی ہیں؟

عورتیں جاب کیوں کرتی ہیں؟
جیسے ہی آپ  نے یہ پڑھا ہوگا ،ساتھ  ہی آپ کے ذہن  میں  اپنے معاشی  حالات، معاشرتی  توقعات اور خاندانی  روایات  کے حساب سے کوئی  نہ کوئی  جواب ضرور  آیا ہو گا اور کچھ  نوکری  پیشہ  عورتوں کا چہرہ  بھی  تصور میں  آیا ہوگا۔لیکن  کیا کوئی  ایسا بھی  ہے جس نے گھر کے کام  کو بھی جاب سمجھا اور اس کے دماغ  میں  گھر کا کام کرتی ماں ،بہن ،بھابھی  یا بیوی  آئی ہو؟اگر کسی کے ذہن میں  آیا ہے تو کمنٹ  باکس  میں  ضرور  بتائیے۔۔
یہ سوال بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے پیچھے صدیوں کی معاشرت، حالات کی جکڑن، اور بدلتی ہوئی دنیا کی دھڑکن سنائی دیتی ہے۔ عورت کا جاب کرنا کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں، بلکہ بہت سی مجبوریوں، ضرورتوں اور کبھی کبھار خوابوں کا مجموعہ ہے۔
سب سے پہلی اور بڑی وجہ معاشی ضرورت ہے۔ آج کا دور ایک کمائی پر گزارا کرنے کا متحمل نہیں۔ مہنگائی، بچوں کی تعلیم، علاج اور بنیادی ضروریات—اکثر گھر عورت کے ہاتھ مضبوط کیے بغیر نہیں چل پاتے۔ بہت سی عورتیں شوق سے نہیں، مجبوری میں جاب کرتی ہیں تاکہ گھر کی کشتی ڈوبنے سے بچی رہے۔
دوسری وجہ خود اعتمادی اور خود کفالت ہے۔ تعلیم یافتہ عورت یہ چاہتی ہے کہ وہ بوجھ نہیں، سہارا بنے۔ اس کی کمائی اسے عزتِ نفس دیتی ہے، فیصلہ سازی میں آواز دیتی ہے، اور مشکل وقت میں کسی کے رحم و کرم پر نہ ہونےکا حوصلہ دیتی ہے۔
کچھ عورتیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے کام کرتی ہیں۔ علم، ہنر اور قابلیت اگر استعمال میں نہ آئے تو زنگ آلود ہو جاتی ہے۔ جاب ان کے لیے پہچان، شناخت اور مقصد کا ذریعہ بنتی ہے—یہ احساس کہ وہ بھی معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہی ہیں۔
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سی عورتیں مجبوراً جاب کرتی ہیں: بیوہ ہونا، طلاق، شوہر کی بے روزگاری یا غیر ذمہ داری—یہ سب اس سوال کا خاموش جواب ہیں۔ ایسے میں جاب شوق نہیں، بقا بن جاتی ہے۔
اگر آپ ایسے مرد ہیں  جو سمجھتے ہیں کہ کمانا مرد کی ذمہ داری ہے تو گھر  میں  رہ کر آپ کی اولاد  کی تربیت  کرتی اور گھر  کے انتظامات  سنبھالتی  عورت  کو acknowledge  کریں۔ورنہ مشرق کی عورت  بھی  مغربی عورت  کی طرح اگر لازمی طور پر کمانے لگی تو گھر (جو کہ دونوں کا ہے،) بکھر  جائے گا۔ یاد رکھیں
عورت کا جاب کرنا بغاوت نہیں، حالات سے مکالمہ ہے۔ یہ ضد نہیں، ضرورت ہے۔ اور جہاں یہ انتخاب ہو، وہاں اسے عزت اور سہولت کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے—کیونکہ مضبوط عورت دراصل مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔

مدیحہ انور

Published by khalilmadihaanwar

مدیحہ انور ایک اردو لکھاری ہیں جو ادب، سماج اور احساسات پر لکھتی ہیں۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message
Log In