موت: اختتامِ زندگی نہیں، صبحِ دوام کا آغاز

تحریر:مدیحہ انور خلیل

“موت اختتامِ زندگی نہیں، بلکہ صبحِ دوام کا آغاز ہے۔ ہر اختتام اپنے ساتھ ایک نئی ابتدا لے کر آتا ہے
موت اسلام کی نظر میں اختتام نہیں بلکہ ابدی زندگی کا آغاز ہے۔ قرآن، حدیث اور علامہ اقبال کے افکار کی روشنی میں ایک فکری و روحانی مضمون۔

موت… ایک ایسا لفظ جس کا نام سنتے ہی دل کی دھڑکنیں جیسے ایک لمحے کو ٹھہر سی جاتی ہیں۔ باوجود  اس کے کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے، پھر بھی انسان جب بھی اس کے بارے میں سوچتا ہے  تو پریشان  ہو جاتا ہے۔موت کے ساتھ ایک انجانا خوف منسلک ہےکہ جب کوئی مر جاتا ہے تو نجانے اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟وہ کہاں جاتا ہے؟
انسان اپنی تمام تر ترقی، علم، طاقت اور اختیار کے باوجود اس حقیقت کے سامنے بے بس ہے۔ یہ وہ سچ ہے جس پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہر پیدا ہونے والا ایک دن اس کے دروازے پر ضرور پہنچتا ہے۔ ہم ہر روز اپنے سامنے ہر عمر اور ہر مذہب  کے انسان کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں،یوں موت ہمارے لئے کوئی اجنبی  شئے نہیں ہے۔
ہمیشگی کی زندگی  پانا انسان  کی ہمیشہ خواہش رہی ہے۔ زمانہء قدیم  سے ہی  لوگوں نے اس کے لئے  کوشش  کی  اور سائنس  کے اس دور میں  بھی سائنسدان لمبی زندگی  پانے کے لئے کوشاں  ہیں ۔ان سب کے باوجود موت سے مفر نہیں ۔
قرآن مجید انسان کو بار بار یاد دلاتا ہے:
﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾
“ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔”

غور کیجیے، قرآن یہ نہیں کہتا کہ ہر جان ختم ہو جائے گی، بلکہ فرماتا ہے کہ ہر جان موت کا ذائقہ چکھے گی۔ ذائقہ کسی چیز کے اختتام کا نہیں بلکہ ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ گویا موت ایک دروازہ ہے، منزل نہیں۔
اسلامی تصورِ حیات میں دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔ یہاں ہر خوشی عارضی ہے، ہر غم وقتی ہے، ہر کامیابی محدود ہے اور ہر ناکامی بھی ہمیشہ نہیں رہتی۔ اگر یہ دنیا دائمی ہوتی تو نہ جوانی ڈھلتی، نہ محبتیں بچھڑتیں، نہ موسم بدلتے اور نہ انسان اپنے پیاروں کو رخصت کرتا۔ دنیا کی یہی ناپائیداری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل گھر کہیں اور ہے۔
سورۂ العنکبوت میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾
“اور بے شک آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے، کاش یہ لوگ جانتے ہوتے۔”
کتنی حیرت کی بات ہے کہ ہم اس عارضی دنیا کو “اصل زندگی” سمجھ کر اس کے لیے سب کچھ قربان کر دیتے ہیں، جبکہ قرآن ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ حقیقی زندگی تو وہ ہے جس کا کوئی اختتام نہیں۔
موت کا شعور انسان کو زندگی سے بے زار نہیں کرتا، بلکہ اسے زندگی کا مقصد عطا کرتا ہے۔ جسے معلوم ہو کہ ہر لمحہ امانت ہے، وہ وقت ضائع نہیں کرتا۔ جو جانتا ہو کہ ہر لفظ لکھا جا رہا ہے، وہ زبان کی حفاظت کرتا ہے۔ جسے یقین ہو کہ ہر عمل کا حساب ہونا ہے، وہ انصاف، دیانت اور رحم کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
“لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز، یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔”
اس حدیث کا مقصد انسان کو مایوسی میں دھکیلنا نہیں بلکہ غفلت سے بیدار کرنا ہے۔ موت کی یاد غرور کو توڑتی ہے، تکبر کو نرم کرتی ہے، دل میں عاجزی پیدا کرتی ہے اور انسان کو اپنی حقیقت سے روشناس کراتی ہے۔
آج کا انسان موت سے اس قدر خوف زدہ کیوں ہے؟ شاید اس لیے کہ اس نے دنیا کو ہی اپنی آخری منزل بنا لیا ہے۔ جب منزل یہی دنیا ہو تو موت سب کچھ چھین لینے والی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن جب منزل آخرت ہو تو موت راستہ بدلنے کا نام بن جاتی ہے، نہ کہ وجود کے مٹ جانے کا۔
قدرت کا ہر منظر ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔ خزاں کے بعد بہار آتی ہے، رات کے بعد صبح طلوع ہوتی ہے، بارش کے بعد زمین پھر سے سرسبز ہو جاتی ہے۔ اگر فطرت میں کوئی چیز ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہوتی تو انسان، جو اشرف المخلوقات ہے، اس کا سفر بھی موت پر ختم کیسے ہو سکتا ہے؟
علامہ اقبال نے اس حقیقت  کو یوں بیان کیا ہے۔
“موت کو سمجھے ہے غافل اختتامِ زندگی
یہ ہے شامِ زندگی، صبحِ دوامِ زندگی۔”
موت انسان کی زندگی  ختم ہو جانے کا نام  نہیں ہے بلکہ ایک نہ ختم ہونے  والی زندگی کی شروعات  ہے۔یوں کہیے کہ یہ وہ مقام ہے جو انسان اپنی محنت کے صلے میں پاتا ہے۔

موت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ انسان اپنے ساتھ کچھ نہیں لے جاتا۔ نہ اس کا گھر، نہ بینک بیلنس، نہ شہرت، نہ عہدہ۔ اگر کچھ ساتھ جاتا ہے تو وہ اس کا کردار، اس کی نیت، اس کی عبادت، اس کی خدمتِ خلق اور اس کے چھوڑے ہوئے نیک اثرات ہیں۔ اسی لیے داناؤں نے کہا ہے کہ انسان کی اصل زندگی اس کے سانسوں سے نہیں، بلکہ اس کے اعمال سے پہچانی جاتی ہے۔
علامہ اقبال نے بھی موت کو فنا نہیں، بلکہ ایک ارتقا کے طور پر دیکھا۔ ان کے نزدیک مومن کے لیے موت ایک نئی پرواز ہے، کیونکہ اس کی روح ایک محدود دنیا سے نکل کر اپنے حقیقی سفر کی طرف روانہ ہوتی ہے۔
آخرکار، موت کا خوف اسی دل میں زیادہ ہوتا ہے جو دنیا کو ہمیشہ کی رہائش سمجھ بیٹھا ہو۔ جس دل میں یقین ہو کہ اس کا رب رحمان و رحیم ہے، اس کے لیے موت ایک امید بھی ہے، ایک ملاقات بھی اور ایک نئی صبح بھی۔
آئیے، ہم اپنی زندگی کو اس شعور کے ساتھ گزاریں کہ ہر دن ہمیں ابدیت کے قریب لے جا رہا ہے۔ اپنے دلوں کو کینہ، حسد اور غرور سے پاک کریں، اپنے اعمال کو سنواریں، اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں۔ کیونکہ جب شامِ زندگی اترے گی تو یہی اعمال صبحِ دوام کی پہلی کرن بنیں گے۔
پس موت سے ڈرنے کے بجائے اس زندگی سے ڈرنا چاہیے جو مقصد کے بغیر گزر جائے، کیونکہ موت اختتام نہیں، بلکہ اس حقیقت سے ملاقات ہے جس کے لیے ہم اس دنیا میں بھیجے گئے تھے۔


Published by khalilmadihaanwar

مدیحہ انور ایک اردو لکھاری ہیں جو ادب، سماج اور احساسات پر لکھتی ہیں۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message
Log In