یہ دنیا دکھوں کا گھر ہے، مگر منزل نہیں | دکھ، آزمائش اور صبر

یہ دنیا دکھوں کا گھر ہے۔آدم و حوا علیہما السلام  نے جب اس دنیا میں پہلا قدم رکھا تو وہ گہرے دکھ  اور رنج و الم میں مبتلا تھے۔
اللہ تعالٰی قرآن میں  ہمیں یاد دلاتا ہے:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ
“بے شک ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا۔”
(سورۃ البلد: 4)
اس دن سے لے کر آج تک انسان کی زندگی  میں پریشانیوں اور تکلیفوں  کے دن زیادہ  ہیں اور خوشی کے تھوڑے۔
بقول  میر تقی میر
شادی و غم میں جہاں کی ایک سے دس کا ہے فرق
عید کے دن ہنسئے تو دس دن محرم روئیے
لہذا ہر ایک کو اپنے  حصے کے دکھوں میں سے بہرحال گزرنا ہے۔  ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ  یہ دنیا اگرچہ دکھوں کا گھر ہے  لیکن ہر گزرتا دن ہمیں  ایک ایسے گھر کی طرف سفر بھی کرا رہی ہے جہاں دکھ نہیں ہوں گے۔
قرآن کہتا ہے:
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
“پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔”
(سورۃ الشرح: 5-6)
غور کیجیے، قرآن یہ نہیں کہتا کہ مشکل کے بعد آسانی ہے؛ بلکہ کہتا ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یعنی انسان اگر غور کرے تو اسے اپنے دکھ کے اندر بھی کسی نہ کسی شکل میں آسانی، سبق، تربیت یا نئی سمت کا دروازہ مل سکتا ہے۔
بعض دکھ ہمیں توڑنے نہیں، بدلنے آتے ہیں۔ جس طرح  سونا آگ میں تپ کر کندن بنتا ہے اسی طرح جب ہمارا خالق  ہمیں مضبوط  بنانا چاہتا ہے تو وہ ہمیں آزمائشوں  سے گزارتا ہے ۔کیونکہ صرف  وہی ہے جو ہماری چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے۔
جب بھی کسی کو کوئی دکھ، تکلیف،  پریشانی یا کوئی  آزمائش  آتی ہے ،نادانی میں  لوگ سمجھتے  ہیں کہ شاید  ہمارا  خالق ہمیں بھول گیا ہے لیکن درحقیقت  وہ تکلیف  اصل میں ایسی ہوتی ہے جب ہم کسی بلندی  پر چڑھتے ہوئے محسوس  کرتے ہیں۔
کچھ ناکامیاں ہمیں اپنے رب کے قریب کر دیتی ہیں اور ہمیں اپنے اندر چھپی صلاحیتوں سے متعارف کراتی ہیں۔ کچھ انتظار ہمیں صبر سکھاتے ہیں اور تنہائی ہمیں  اپنے باطن کی آواز سننے کا موقع دیتی ہیں۔
زندگی کی سب سے بڑی دانائی شاید یہی ہے کہ انسان دکھ سے فرار کے بجائے اس کا مفہوم تلاش کرنا سیکھ لے۔
درحقیقت یہ دنیا آزمائش گاہ ہے اور یہی  دنیا کی سب سے بڑی حقیقت  ہے کہ یہ منزل نہیں، سفر ہے۔
اور سفر میں کبھی دھوپ ہوتی ہے، کبھی سایہ، کبھی راستہ آسان ہوتا ہے اور کبھی قدم لہولہان ہو جاتے ہیں۔ مگر مسافر کی کامیابی اس میں نہیں کہ اس نے سفر میں کتنے دکھ دیکھے، بلکہ اس میں ہے کہ ان دکھوں کے باوجود وہ اپنے راستے سے کتنا وابستہ رہا۔
اس لیے اگر آج زندگی مشکل ہے، دل بوجھل ہے اور راستے طویل محسوس ہو رہے ہیں تو شاید یہ یاد رکھنا کافی ہے:
یہ وقت بھی گزر جائے گا۔
کسی بھی انسان کی خوبی کا علم یہیں سے ہوتا ہے کہ وہ زندگی  کے دونوں  زاویوں یعنی خوشی اور غم کے ساتھ کس طرح نمٹتا ہے۔
دل دے تو اس مزاج کا پروردگار دے
جو رنج کی گھڑی بھی خوشی سے گزار دے
داغ دہلوی




تحریر  :مدیحہ انور خلیل

Published by khalilmadihaanwar

مدیحہ انور ایک اردو لکھاری ہیں جو ادب، سماج اور احساسات پر لکھتی ہیں۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message
Log In