دردمندی (Empathy): انسان کو انسان بنانے والی صفت — اسلامی تعلیمات اور عصرِ حاضر کی روشنی میں

دردمندی محض کسی کے دکھ پر افسوس کرنے کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کے احساسات کو سمجھنے اور ان کے درد کو محسوس کرنے کا نام ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں جانیے کہ دردمندی انسانی کردار کو کیسے سنوارتی ہے اور آج کے دور میں اس کی ضرورت کیوں بڑھ گئی ہے۔

یہ دنیا دکھوں کا گھر ہے، مگر منزل نہیں | دکھ، آزمائش اور صبر

یہ دنیا دکھوں کا گھر ہے۔آدم و حوا علیہما السلام  نے جب اس دنیا میں پہلا قدم رکھا تو وہ گہرے دکھ  اور رنج و الم میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالٰی قرآن میں  ہمیں یاد دلاتا ہے:لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ“بے شک ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا۔”(سورۃ البلد: 4)اس دن سے لےContinue reading “یہ دنیا دکھوں کا گھر ہے، مگر منزل نہیں | دکھ، آزمائش اور صبر”

حد نافذ کریں! — معصوم بیٹیوں کے لیے انصاف کب؟

حد نافذ کریںپوری قوم دکھ اور کرب میں مبتلا  ہے ۔ہر روز ایک نیا واقعہ۔۔۔۔۔ہر روز ایک نئی حوا کی بیٹی۔۔۔۔۔۔ عمر اٹھارہ مہینے    عمر :ساڑھے چار سال عمر:چھ سالعمر:دس سال عمر:بارہ سال عمر:اکیس سالعمر:چالیس سال عمر:ستر سال ۔۔۔۔۔۔۔؟جی ہاں عمر اٹھارہ مہینے اور ستر سال بھی ۔۔۔۔پتھر اٹھائیں اور سنگسار کریں ۔۔۔۔پھانسی نہیں عبرتناکContinue reading “حد نافذ کریں! — معصوم بیٹیوں کے لیے انصاف کب؟”

Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message
Log In