دردمندی (Empathy): انسان کو انسان بنانے والی صفت — اسلامی تعلیمات اور عصرِ حاضر کی روشنی میں

انسان اگر کبھی غور کرے تو بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ اس انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں ہم جتنے ہر شخص کے حالات سے آگاہ نظر آتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب کے بارے میں علم ہے ۔ اب چاہے وہ خاندان کے افراد  ہوں یا کوئی  قومی یا بین الاقوامی شخصیات ہمیں سب پتہ ہوتا ہے ،کون کہاں سے آ رہا ہے ، کہاں جا رہا ہے،کیا پہن رہا ہے،کیا کھا رہا ہے ،وہ خوش ہے کہ دکھی ۔۔۔غرض کہ ہمیں ہر چیز کا علم ہوتا ہے  لیکن کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ بظاہر ہم پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مگر شاید پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے دور بھی؟
موبائل کی ایک اسکرین پر دنیا بھر کے حالات ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔ کسی شہر میں کوئی حادثہ ہو، کہیں جنگ چھڑ جائے، کوئی شخص اپنی بیماری یا پریشانی بیان کرے یا کسی گھر کا دکھ سوشل میڈیا پر سامنے آئے، ہم چند لمحوں میں سب کچھ دیکھ لیتے ہیں۔ ہم افسوس کرتے ہیں، کوئی تبصرہ لکھتے ہیں، کبھی پوسٹ شیئر کرتے ہیں اور پھر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
لیکن کیا ہم نے واقعی اس انسان کے درد کو محسوس کیا؟
یہ سوال ہمیں Empathy یعنی دردمندی کی طرف لے جاتا ہے۔
دردمندی صرف کسی کے دکھ پر افسوس کرنے کا نام نہیں۔ یہ اس کوشش کا نام ہے جس میں ہم چند لمحوں کے لیے خود کو دوسرے کی جگہ رکھ کر سوچتے ہیں کہ وہ کس کیفیت سے گزر رہا ہوگا۔ شاید آج کے دور میں ہمیں اسی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
Empathy کے لیے اردو میں دردمندی، ہم دلی اور ہم احساسی جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ عام طور پر اسے ہمدردی بھی کہا جاتا ہے، لیکن ہمدردی اور دردمندی میں ایک باریک سا فرق ہے۔ ہمدردی میں ہم دوسرے کے کو دیکھ کر کہتے ہیں: “مجھے آپ کے لیے افسوس ہے۔” دردمندی میں ہم اس سے کچھ آگے بڑھتے ہیں: “میں شاید پوری طرح نہیں جانتا کہ آپ پر کیا گزر رہی ہے، لیکن میں اسے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔”
یہ معمولی سا فرق بظاہر چھوٹا ہے، مگر انسانی رشتوں میں بہت معنی رکھتا ہے۔ کیونکہ ہر انسان ہمیشہ مشورہ نہیں چاہتا۔ کبھی کبھی وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ کوئی اسے سمجھے اور اس کی بات پوری توجہ سے سن لے۔
فرض کریں کوئی شخص اپنے کسی عزیز کو کھو دینے کے بعد آپ کے سامنے بیٹھا رو رہا ہے۔ آپ اس سے کہیں: “اللہ صبر دے، وقت سب ٹھیک کر دے گا۔” یہ ایک اچھی دعا ہے، لیکن ممکن ہے اس لمحے اسے “سب ٹھیک ہو جائے گا” سننے کی ضرورت نہ ہو۔ شاید اسے صرف کسی ایسے شخص کی ضرورت ہو جو اس کے ساتھ بیٹھے اور کہے: “میں جانتا ہوں یہ بہت مشکل وقت ہے۔ اگر آپ بات کرنا چاہتے ہیں تو میں سن رہا ہوں۔”
یہاں دردمندی کا اصل حسن سامنے آتا ہے۔ دردمندی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دوسرے کا مسئلہ اپنے سر لے لیں یا اس کے ہر فیصلے سے اتفاق کریں۔ اس کا مطلب ہے کہ فیصلہ سنانے سے پہلے انسان کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
اگر ہم قرآنِ مجید اور سیرتِ نبوی ﷺ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسروں کے دکھ کا احساس کوئی نیا یا جدید تصور نہیں۔ اسلامی تعلیمات میں رحمت، شفقت، ایثار، عدل اور انسانی احساس بنیادی اخلاقی اقدار میں شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرمایا:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
“اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔” (الانبیاء: 107)
رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دی گئی۔ ایک اور مقام پر فرمایا:
عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
“تمہاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں اور اہلِ ایمان کے لیے نہایت شفیق، مہربان ہیں۔” (التوبہ: 128)
“عزیزٌ علیہ ما عنتم” کے الفاظ خاص طور پر دل کو چھوتے ہیں۔ یعنی لوگوں کی تکلیف رسول اللہ ﷺ پر گراں گزرتی تھی۔ یہی تو دردمندی ہے۔ کسی دوسرے کے دکھ کو صرف دیکھنا نہیں، بلکہ اس دکھ کو اپنے دل پر محسوس کرنا۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ کسی کو سیدھی بات بتا دینا ہی اصلاح ہے، مگر قرآن ہمیں ایک اور حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ
“اور اگر آپ سخت مزاج، سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے۔” (آل عمران: 159)
بات درست ہو، لیکن لہجہ ایسا ہو کہ سامنے والا سننے سے ہی انکار کر دے تو فائدہ کیا؟ کبھی ایک نرم جملہ وہ کام کر دیتا ہے جو لمبی نصیحت نہیں کر پاتی۔ دردمندی ہمیں صرف یہ نہیں سکھاتی کہ کیا کہنا ہے، بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ کب، کیسے اور کس لہجے میں کہنا ہے۔
قرآنِ مجید انصارِ مدینہ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے:
وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ
“اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود انہیں سخت ضرورت ہو۔” (الحشر: 9)
یہاں دردمندی محض احساس نہیں رہتی، عمل بن جاتی ہے۔ کسی بھوکے کو دیکھ کر اس کے لیے افسوس کرنا ایک بات ہے، اور اپنے کھانے میں سے اس کے لیے حصہ نکال دینا دوسری بات۔ کسی پریشان شخص کی مشکل سننا اچھی بات ہے، مگر اپنی سہولت میں سے کچھ وقت نکال کر اس کا ہاتھ تھام لینا اس احساس کو معنی دے دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں ہمیں دردمندی کسی نظریے کی طرح نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے رویے کے طور پر نظر آتی ہے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے نماز لمبی کرنے کا ارادہ کیا، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کر دی، کیونکہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ بچے کے رونے سے اس کی ماں کو کس قدر پریشانی ہوگی۔ (صحیح بخاری)
ذرا اس پہلو پر غور کیجیے۔ نماز جیسی عظیم عبادت میں بھی ایک ماں کے احساس کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ دوسروں کے حالات کا خیال رکھنا اسلام میں کوئی معمولی اخلاقی خوبی نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے، مگر ہم وہی کہیں گے جو ہمارے رب کو پسند ہو۔” (صحیح بخاری)
یہ حدیث ہمارے لیے بہت خوب صورت سبق رکھتی ہے۔ غم آنا ایمان کی کمزوری نہیں۔ آنکھوں میں آنسو آ جانا بھی کمزوری نہیں۔ انسان کا دل ہے تو وہ دکھے گا بھی۔ اسلام ہمیں جذبات سے خالی انسان بننے کا نہیں، بلکہ اپنے جذبات کو ایمان اور صبر کے ساتھ سنبھالنے کا درس دیتا ہے۔
ایک نوجوان رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور ایک سنگین گناہ کی اجازت مانگی۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اسے روکنے لگے، مگر رسول اللہ ﷺ نے اسے قریب بلایا۔ آپ ﷺ نے اس سے سوال کیا کہ کیا وہ یہی چیز اپنی ماں، بیٹی یا بہن کے لیے پسند کرے گا؟ اس نے ہر مرتبہ جواب دیا: نہیں۔ گفتگو کے اختتام پر رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ (مسند احمد)
اس واقعے میں اصلاح کا ایک ایسا انداز نظر آتا ہے جو آج بھی ہمارے لیے قابلِ غور ہے۔ نوجوان کو ذلیل نہیں کیا گیا۔ اس پر چیخا نہیں گیا۔ اسے صرف گناہ گار کہہ کر دور نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے ذہن تک پہنچنے کی کوشش کی گئی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ بات اس کے دل تک پہنچی۔
رسول اللہ ﷺ نے مومنوں کے باہمی تعلق کو ایک جسم سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جب جسم کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار کے ذریعے اس تکلیف میں شریک ہو جاتا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
کتنی گہری مثال ہے۔ اگر ایک انسان تکلیف میں ہے اور باقی معاشرہ بالکل بے خبر ہے تو ہم جسم کے ان اعضا کی طرح ہیں جو ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہوں۔ اسلام ہمیں اس کے برعکس ایک ایسا معاشرہ بنانا چاہتا ہے جہاں دوسرے کی تکلیف ہمیں بے چین کرے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ
“جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ہماری زندگی میں ترقی ضرور ہوئی ہے، مگر ضروری نہیں کہ ہماری روح نے بھی ترقی کی ہے۔سوشل میڈیا نے ہمیں دوسروں کی زندگیوں تک پہنچا دیا ہے۔ ہم کسی کی بیماری، غربت، تنہائی یا گھریلو پریشانی چند سیکنڈ میں دیکھ سکتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب دکھ بہت زیادہ دکھائی دینے لگے تو کبھی کبھی دل اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ ایک خبر ختم نہیں ہوتی کہ دوسری خبر سامنے آ جاتی ہے۔ ایک حادثہ دیکھتے ہیں، پھر اگلی پوسٹ پر چلے جاتے ہیں۔
یہ مسلسل جذباتی دباؤ انسان میں compassion fatigue یعنی احساس کی تھکن پیدا کر سکتا ہے۔ ایسے میں دردمندی کا مطلب ہر خبر پر ٹوٹ جانا نہیں، بلکہ یہ یاد رکھنا ہے کہ ہر خبر کے پیچھے ایک انسان ہے۔
ذہنی دباؤ، اضطراب یا پریشانی سے گزرنے والے شخص سے ہم اکثر فوراً کہتے ہیں: “مثبت سوچو۔””اتنا مت سوچو۔””اللہ پر بھروسہ کرو۔” یہ باتیں اپنی جگہ درست ہو سکتی ہیں، لیکن کبھی وقت اور موقع بھی اہم ہوتا ہے۔ جو شخص اندر سے ٹوٹ رہا ہو، اسے شاید پہلے یہ سننے کی ضرورت ہو: “میں تمہیں سن رہا ہوں۔” یا “تمہیں جو محسوس ہو رہا ہے، اسے میں معمولی نہیں سمجھتا۔”
دردمند انسان ہر مسئلے کا حل اپنے پاس ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ وہ اتنا جانتا ہے کہ کسی کو تنہا محسوس نہ ہونے دینا بھی ایک طرح کی مدد ہے۔
بعض اوقات گھر کے اندر فاصلے کسی بڑے جھگڑے سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو نہ سمجھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ بچہ کچھ کہنا چاہتا ہے اور والدین فوراً فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ شوہر یا بیوی اپنے دن کی پریشانی بیان کرنا چاہتے ہیں اور سامنے والا فوراً حل بتانے لگتا ہے۔ کبھی ہمیں حل سے پہلے صرف سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اپنے بچے سے یہ پوچھنا: “تم ایسا کیوں محسوس کر رہے ہو؟” شاید اس کے لیے “تم غلط ہو” سننے سے کہیں زیادہ قیمتی ہو۔ دردمندی کا مطلب غلط کو صحیح کہنا نہیں، بلکہ غلطی کرنے والے انسان کو بھی انسان سمجھنا ہے۔
ہم ایک ایسے زمانے میں رہ رہے ہیں جہاں اختلاف بہت جلد دشمنی بن جاتا ہے۔ سیاسی اختلاف ہو یا مذہبی، سماجی ہو یا نظریاتی، ہم اکثر دوسرے شخص کی بات سمجھنے سے پہلے اسے غلط ثابت کرنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔ دردمندی اختلاف ختم نہیں کرتی۔ یہ صرف اتنا سکھاتی ہے کہ “میں تم سے اختلاف کر سکتا ہوں، لیکن تمہیں سمجھنے کی کوشش بھی کر سکتا ہوں۔”
قرآن ہمیں عدل کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے:
وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ
“کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔” (المائدہ: 8)
یہاں اسلام ہمیں ایک اہم توازن دیتا ہے۔ دردمندی کا مطلب یہ نہیں کہ جس سے محبت ہو، صرف اسی کا درد محسوس کیا جائے۔ احساس کے ساتھ عدل بھی ضروری ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا بہت زیادہ دردمندی نقصان دہ ہو سکتی ہے؟ اگر ہم ہر انسان کا ہر دکھ اپنے دل پر اٹھا لیں تو شاید خود ہی ٹوٹ جائیں۔ دوسروں کی مدد کرنا اچھی بات ہے، لیکن اپنی حدود کو پہچاننا بھی ضروری ہے۔ ہر مسئلہ حل کرنا ہماری ذمہ داری نہیں اور ہر شخص کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانا بھی ممکن نہیں۔
دردمندی کا مطلب یہ ہے کہ جہاں ہماری مدد ممکن ہو وہاں ہاتھ بڑھائیں، جہاں صرف سننے کی ضرورت ہو وہاں سنیں، اور جہاں ہماری حدود ختم ہوتی ہوں وہاں خود کو بھی سنبھالیں۔ کیونکہ ایک تھکا ہوا دل زیادہ دیر تک کسی دوسرے کے لیے سہارا نہیں بن سکتا۔
دردمندی پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ کسی بڑی قربانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی اس کا آغاز روزمرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہوتا ہے۔ سامنے والے کی بات مکمل ہونے دیں۔ ہر گفتگو کو بحث میں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہر دکھ کا جواب نصیحت نہیں ہوتا۔ کبھی خاموشی سے ساتھ بیٹھنا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
اپنے آپ سے پوچھیں کہ اگر یہی حالات آپ کے ساتھ ہوتے تو آپ کیا محسوس کرتے؟ لوگوں کے بارے میں جلدی فیصلہ نہ کریں۔ ہم کسی انسان کی پوری کہانی نہیں جانتے۔ جو رویہ ہمیں برا لگ رہا ہے، اس کے پیچھے کوئی ایسی وجہ بھی ہو سکتی ہے جس سے ہم ناواقف ہیں۔
اچھا ادب، سوانح، تاریخ اور سیرت انسان کو اپنے محدود تجربے سے باہر نکل کر دوسروں کی زندگیوں کو سمجھنے کا موقع دیتے ہیں۔ کسی کی بات سن لینا، کسی ضرورت مند کی مدد کر دینا، کسی بیمار کی عیادت کرنا یا کسی غم زدہ شخص کے لیے دعا کرنا—یہ سب دردمندی کی عملی صورتیں ہیں۔
اسی طرح سوشل میڈیا سے مناسب وقفہ لینا بھی ضروری ہے۔ دنیا کے ہر دکھ کو ہر وقت اپنے اندر اتار لینا ضروری نہیں۔ اپنے دل کو بھی آرام چاہیے۔
ہماری دنیا میں معلومات کی کمی نہیں۔ ہم ہر موضوع پر پڑھ سکتے ہیں، ہر خبر جان سکتے ہیں اور چند سیکنڈ میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن شاید مسئلہ معلومات کا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھنے میں کتنی دلچسپی رکھتے ہیں۔
قرآن ہمیں رحمت سکھاتا ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں نرم دلی، شفقت، ایثار اور انسان کے احساس کا احترام سکھاتی ہے۔ جدید نفسیات اسے Empathy کہتی ہے۔ نام مختلف ہے، مگر بات ایک ہی ہے: دوسرے انسان کو صرف دیکھنا نہیں، اسے سمجھنے کی کوشش کرنا۔
شاید کسی کے لیے ہماری سب سے بڑی نیکی یہ ہو کہ ہم اسے بغیر فیصلہ سنائے سن لیں۔ شاید کسی کے لیے ہماری سب سے بڑی مدد یہ ہو کہ ہم اس کے دکھ کو معمولی نہ سمجھیں۔ اور شاید کسی کے لیے ہماری سب سے بڑی انسانیت یہی ہو کہ ہم اسے یہ احساس دلا دیں: “تم اکیلے نہیں ہو۔”
کیونکہ علم ہمیں بہت کچھ سکھا سکتا ہے، مگر دردمندی ہی وہ صفت ہے جو علم کو انسانیت میں بدلتی ہے۔

دردمندی (Empathy) کی اہمیت اور اسلامی تعلیمات
دردمندی (Empathy) کی اہمیت اور اسلامی تعلیمات

Published by khalilmadihaanwar

مدیحہ انور ایک اردو لکھاری ہیں جو ادب، سماج اور احساسات پر لکھتی ہیں۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message
Log In