ویسے تو دنیا میں مسلمانوں پر کہیں بھی ظلم ہو اہل پاکستان ہمیشہ ہی ان کا دکھ محسوس کرتے ہیں لیکن کشمیر اہل پاکستان کے لئے ہمیشہ ہی ایک جذباتی معاملہ رہا ہے۔
اسی سال ہو گئے اس معاملے کو ، قیام پاکستان کے وقت جو نوجوان تھے ان میں سے اکثریت اب اس دار فانی سے کوچ کرچکی ہے۔ لیکن ہر نسل نے اپنی اولاد کو یہی بتایا کہ کشمیری ہمارے بھائی ہیں اور ہم ان کو کبھی بھی انڈیا کے ظلم و ستم سہنے کے لئے تنہا نہیں چھوڑا اور نہ ہی چھوڑیں گے ، اس لئے بچو تم بھی ان سے منہ نہ موڑنا۔۔۔۔آزادی سے لے کر اب تک یہ تیسری نسل ہے ، جو کشمیر کے لئے اپنا تن من دھن قربان کرنے کو تیار ہے۔
ہاں یہ ضرور ہے کبھی یہ تحریک تیز ہوئی اور کبھی ایسا معلوم ہونے لگا کہ شاید آزادی کی یہ جدوجہد ختم ہو گئی ہے۔یہ سب حکومتی ایوانوں کی پالیسیاں ہوں تو ہوں لیکن عام پاکستانی کے دل میں ہمیشہ اہل کشمیر کا درد رہا۔
ہر پاکستانی ماں ، بہن اور بیٹی نے جب بھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے کشمیر کی آزادی کے لیے دعا کئے بغیر کبھی اپنی دعا کو ختم نہیں کیا۔
ہندوستان نے آرٹیکل 370 ہٹایا اور جموں و کشمیر میں کرفیو لگا دیا ۔میری اس بات کو اگر مبالغہ آرائی نہ سمجھا جائے تو میں یہ ضرور کہوں گی کہ میں نے آتی جاتی ہر سانس میں کشمیر کے لوگوں کے لئے خیریت کی دعا مانگی۔
اتنا عرصہ گزر گیا ، لگ بھگ ایک صدی ہی ہو گئی اہل پاکستان اہل کشمیر کی حمایت کرنے سے نہیں تھکے اور نہ ہی انہوں نے سوچا کہ چھوڑو مقبوضہ کشمیر کو۔۔۔
جتنا کشمیر ہمارے پاس ہے ہے اسی کو اپنے ملک میں ضم کرتے ہیں اور چین سے زندگی گزارتے ہیں۔کیا فائدہ اتنی جنگیں لڑنے کا۔۔۔۔۔۔
لیکن پچھلے کچھ دنوں سے ہماری آنکھوں نے جو دیکھا اور کانوں نے جو سنا ، اس نے ہمارے دلوں کو بہت تکلیف دی۔ناقابل بیان رنج ہوا۔
اگر کہیں کوئی انتظامی کوتاہی ہے یا مہنگائی ہے تو کیا صرف آزاد کشمیر میں ہے؟باقی پاکستان چین سے زندگی گزار رہا ہے؟ اتنا فساد کہ بات قتل وغارت تک آ گئی؟
جہاں تک سوال ہے مہاجرین کی سیٹوں کا ، یہ تو اپنے بھائیوں سے بیزاری معلوم ہوتی ہے۔آپ ایسے نہیں کر سکتے یہ تو کھلا کھلا شہداء کے خون سے غداری کی مانند ہے۔ظلم تو مقبوضہ کشمیر والے سہہ رہے ہیں اور یہ مہاجرین چاہے اب پاکستان میں آرام سے زندگی گزار رہے ہیں ، پھر بھی یہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی علامتی طور پر نمائندگی کرتے ہیں اور علامتوں کی بہت اہمیت ہے۔
ہاں احتجاج کرنا حق ہے لیکن اگر اس احتجاج کے نتیجے میں فتنہ و فساد ہو اور بھائی بھائی کے ہاتھوں قتل ہو تو یہ احتجاج یا حقوق کا مطالبہ نہیں بلکہ فساد ہے اور فساد پھیلانے والے کی بد نیتی کا مظہر بھی ہے۔۔
اقبال کا کیا کہنا کتنی اچھی بات کہی کہ۔۔۔۔۔
اللہ سے کرے دور ، تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ۔۔۔
غیروں سے لڑو تو زخم تکلیف نہیں دیتے اور اگر لڑائی اپنوں سے ہی ہو جائے تو نا صرف جسم دکھتا ہے بلکہ دل بھی پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔اللہ ملک پاکستان اور کشمیر دونوں پر اپنا کرم کرے اور دشمنوں اور منافقوں سے محفوظ رکھے آمین۔۔۔۔
پاکستان زندہ باد
