زندگی آزمائشوں کا نام ہے۔ کبھی خوشی کی صورت میں، کبھی غم کی شکل میں، اور کبھی ایسے حالات میں جب انسان اپنی بساط سے باہر محسوس کرتا ہے۔ ایسے مواقع پر صبر اور توکل وہ دو چراغ ہیں جو مومن کے راستے کو روشن رکھتے ہیں۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ” (البقرہ: 153)
یعنی بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
یہ آیت ہمیں یقین دلاتی ہے کہ صبر محض برداشت کا نام نہیں بلکہ اللہ کی معیت اور مدد کا ذریعہ ہے۔ویسے تو سب پیغمبر صابر ہوئے اور اللہ کے کام کے راستے میں ان کو جتنی بھی مشکلات آئیں ان کو انہوں نے خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔
لیکن جب ہم صبر کی بات کرتے ہیں تو سب سے روشن مثال حضرت ایوب علیہ السلام کی ہے۔ مال و دولت، اولاد اور صحت—سب کچھ چھن گیا، مگر زبان پر شکوہ نہ آیا۔ آپؑ نے ان تمام مشکلات کے جواب میں صرف اتنا ہی فرمایا:
“اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ”
(مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے)۔
یہ دعا صبر کے ساتھ امید اور توکل کی اعلیٰ مثال ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف صحت لوٹائی بلکہ پہلے سے بڑھ کر نعمتیں عطا فرمائیں۔
اللہ نے قرآن مجید میں اہل ایمان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو جب تکلیف پہنچی ہے تو وہ وہ کہتے ہیں(انا للہ وانا الیہ راجعون )یعنی کے ان کو پہنچنے والی کوئی بھی تکلیف ان کے ایمان کو ڈگمگا نہیں سکتی ۔
نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی کا ہر لمحہ آپ کے صبر عظیم کا گواہ ہے۔نبوت کے اعلان کے بعد اپنوں اور غیروں کی طرف سے آپ کو کیا کیا مشکلات نہ پیش آئیں۔ لیکن کوئی بھی دکھ اور تکلیف آپ کو اس کارعظیم سے ہلا نہ سکا۔توکل کا عظیم منظر ہمیں ہجرت کے موقع پر نظر آتا ہے جب حضرت محمد ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ غارِ ثور میں موجود تھے۔ دشمن دروازے تک پہنچ چکے تھےاور ان کے پاؤں بھی دیکھے جا سکتے تھے ۔ اس نازک لمحے میں بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا”
(غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے)۔
یہ جملہ توکل کی معراج ہے—وسائل کم ہوں، خطرہ قریب ہو، مگر دل مطمئن ہو کہ ہم راہ راست پر ہیں اور یہ کہ اللہ کی مدد شاملِ حال ہے۔صبر اور توکل کا آپس میں گہرا تعلق ہے
صبر انسان کو گھبراہٹ سے بچاتا ہے اور توکل اسے مایوسی سے نکالتا ہے۔ صبر کے بغیر توکل ادھورا ہے، اور توکل کے بغیر صبر خالی خولی اور بے ثمر برداشت بن جاتا ہے۔ مومن پہلے اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے، پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔ یہی اصل توکل ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے:
“صبر ایمان کے لیے ایسا ہے جیسے جسم کے لیے سر۔”
یعنی صبر کے بغیر ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔
موجودہ دور کی تیز رفتار زندگی میں بے چینی عام ہے۔ معاشی دباؤ، گھریلو مسائل اور سماجی تقاضے انسان کو تھکا دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر ہم ہر مشکل پر صبر اختیار کریں اور ہر فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیں تو دل کو سکون ملتا ہے۔
صبر ہمیں مضبوط بناتا ہے، اور توکل ہمیں مطمئن۔
صبر آزمائش میں سہارا ہے، اور توکل کامیابی کا وسیلہ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں صبر کرنے اور کامل توکل اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
خوش رہیے اس یقین کے ساتھ کے اللہ آپ کی تکلیفوں اور کوششوں کو دیکھ رہا ہے۔
مدیحہ انور
