ہم ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں اکثر اختلافِ رائے کو بدتمیزی، بغاوت یا دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ اختلاف، اگر سلیقے اور شعور کے ساتھ ہو، تو یہ کسی بھی معاشرے کی فکری صحت کی علامت ہوتا ہے۔ جہاں صرف ایک ہی آواز بولنے کی اجازت ہو، وہاں سوچ مر جاتی ہے اور سوال دفن ہو جاتے ہیں۔
اختلافِ رائے ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ عقلِ انسانی محدود ہے اور ہر شخص سچ کو اپنے زاویے سے دیکھتا ہے۔ لیکن جب ایک ہی بات کے مختلف زاویے سامنے آتے ہیں تو حقیقت کا نقشہ زیادہ واضح ہوتا ہے۔ یہی اختلاف ہمیں جمود سے بچاتا ہے، غلط فیصلوں پر نظرِ ثانی کا موقع دیتا ہے اور بہتر راستوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
اسلامی تاریخ اس بات کی روشن مثال ہے کہ اختلاف ہمیشہ فساد نہیں ہوتا۔ صحابۂ کرامؓ اور ائمۂ دین کے درمیان فقہی و اجتہادی اختلافات موجود تھے، مگر ان اختلافات کی بنیاد اخلاص، ادب اور حق کی تلاش تھی۔ کسی نے دوسرے کی مختلف رائےکو انا کا مسئلہ نہیں بنایا،
نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ میری امت میں اختلاف باعث رحمت ہے۔
بدقسمتی سے آج ہم اختلاف کو ذاتی حملہ سمجھنے لگے ہیں۔ دلیل کے جواب میں لہجہ سخت ہو جاتا ہے، اور مکالمے کی جگہ محاذ آرائی لے لیتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ نہ سچ سامنے آتا ہے، نہ اصلاح کی کوئی صورت باقی رہتی ہے۔ حالانکہ صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں مختلف آرا کو سننے کا حوصلہ موجود ہو۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اختلاف اور انتشار میں فرق ہے۔ اختلاف شائستگی، احترام اور دلیل کے دائرے میں ہو تو رحمت بنتا ہے، اور اگر اس میں تضحیک، الزام اور نیت کی خرابی شامل ہو جائے تو وہ اختلاف نہیں بلکہ فساد ہوتا ہے۔
کبھی بھی اختلافِ رائے کو دبانا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہمیں اختلاف جینے کا سلیقہ سکھایا جائے۔ کیونکہ جہاں اختلاف ختم ہو جائے، وہاں سوچ بھی ختم ہو جاتی ہے—اور سوچ کے بغیر کوئی معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا۔
مدیحہ انور
