Let Go  چھوڑ دینا بھی جینے کا ہنر ہے

بہت  دفعہ  ہم اس دکھ  میں  زندگی  گزارتے ہی چلے جاتے ہیں کہ ہمیں  فلاں  چیز  مل جاتی  تو کتنا اچھا  ہو جاتا۔یا نہ جانے فلاں  شخص  نے میرے ساتھ  ایسا  کیوں  کیا ‘وہ ایسے کیوں  بولا ؟ یا اس نے میرے ساتھ  بات کیوں نہ کی؟ کیا میں ایسے سلوک  کی حقدار تھی/تھا؟یعنی ہم اپنی زندگی  کو ایسے بے معنی  اور  بے مقصد  چیزوں اور باتوں  میں  الجھا لیتے ہیں کہ دن رات انہی  کا غم مناتے رہتے  ہیں اور اپنی زندگی  میں  آنے  والی خوشیوں  اور اچھے لمحوں  کا ادراک  ہی نہیں  کر پاتے۔
ہماری زندگی کی سب سے بڑی الجھن یہ نہیں کہ ہمیں کیا ملا، بلکہ یہ ہے کہ ہم کسے چھوڑ نہیں پاتے۔
انگریزی اصطلاح “Let Go” بظاہر دو سادہ الفاظ ہیں، مگر اپنے اندر ایک مکمل فلسفہ سمیٹے ہوئے ہیں۔
اس کا مطلب صرف کسی چیز سے دستبردار ہونا نہیں، بلکہ دل، سوچ اور احساس کے بوجھ کو آزاد کرنا ہے۔
ہم اکثر رشتے، یادیں، ناکامیاں، شکوے اور وہ سوالات تھامے رکھتے ہیں جن کے جواب کبھی ملنے ہی نہیں ہوتے۔ یہی گرفت ہمیں اندر سے توڑتی رہتی ہے۔ انگلش  شاعرہ الزبتھ بشپ کی ایک نظم The art میں اس نے اس کے بارے میں  بہت  ہی زبردست  طریقے  سے کہا ہے۔۔۔۔

The art of losing isn’t hard to master;
so many things seem filled with the intent
to be lost that their loss is no disaster.

Lose something every day. Accept the fluster
of lost door keys, the hour badly spent.
The art of losing isn’t hard to master.

Then practice losing farther, losing faster:
places, and names, and where it was you meant
to travel. None of these will bring disaster.

I lost my mother’s watch. And look! my last, or
next-to-last, of three loved houses went.
The art of losing isn’t hard to master.

I lost two cities, lovely ones. And, vaster,
some realms I owned, two rivers, a continent.
I miss them, but it wasn’t a disaster.

—Even losing you (the joking voice, a gesture
I love) I shan’t have lied. It’s evident
the art of losing’s not too hard to master
though it may look like (Write it!) like disaster.

آخر” چھوڑو جانے دو” کا کیا مفہوم  ہے؟اس بات کو سمجھتے ہیں ۔اس کا مطلب  ہے کہ
جو ہمارے قابو میں نہیں، اسے قبول کرنا اور جو ہمیں  نقصان  دے رہا ہے اسے چھوڑ  دینا ہے۔
ماضی کو سبق بنانا ہے سزا نہیں اور یہ کسی تکلیف دہ بات کو چھوڑ دینا کمزوری  نہیں  ہے بلکہ بلند  شعور  کی علامت  ہے۔
کیونکہ  اللہ  کے نبی  صل اللہ علیہ والہ وسلم  نے بھی  ہمیں  بتایا  ہے کہ  ہمارے اوپر ہماری  جان کا بھی حق  ہے ۔ہم میں  سے اچھے لوگ  کبھی  کبھی  دوسروں  کے رویوں  یا بد سلوکی کا انتقام  خود کو کوس کر لیتے ہیں  یا خود ترسی کا شکار  ہو جاتے ہیں کہ شاید  ہماری  کوشش  میں  کوئی  کمی تھی؟
اسے بار بار یاد کر کے خود کو کوستے رہتے ہیں۔اسی طرح       وہ پر خلوص شخص بار بار کسی کے بدلتے رویّے کو جواز دیتا رہتا ہے اور کہتا ہے کہ  آہستہ  آہستہ  سب ٹھیک  ہو جائے  گا۔لیکن ایسا نہیں ہوتا۔عقلمند انسان وہی ہے جو یہ جان لے کہ کب تک دوسرے کو اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کا موقع دینا ہے اور کب خاموشی سے اپنی راہ بدل لینی ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ: جو بار بار تکلیف دے،
اسے چھوڑ دینا خود سے محبت ہے۔Let Go یہاں انتقام نہیں، خود کو بچانا ہے۔    اور یہ ہمیں سکھاتا ہے  کہ ناکامی کو یاد رکھو     مگر خود کو اس میں قید نہ کرو ورنہ ماضی کی زنجیر مستقبل کے پاؤں باندھ دیتی ہے۔ میرے ساتھ یہ کیوں ہوا؟    یہ شکوے دل میں رکھ کر ہم خود کو ہی جلائے رکھتے ہیں، جبکہ سامنے  والا مطمئن  زندگی  گزار رہا ہوتا ہے۔Let Go کا مطلب  ہے                      
خود کو خود کو سکون دینا۔”جانے د ینا” آخر  اتنا کیوں  کیوں مشکل ہوتا ہے؟ آخر  کیوں  ہم میں  سے اکثریت  یہ کام  نہیں  کر پاتی؟اسکی کئی وجوہات  ہوتی ہیں۔۔۔۔
کیونکہ ہم جذباتی طور پر جُڑ جاتے ہیں اور ہمیں تبدیلی  سے خوف آتا  ہے۔اور کبھی  ہم کنٹرول  کھونا نہیں چاہتے۔    مگر یاد رکھیں جو چیز آپ کو توڑ رہی ہو اسے پکڑنا وفاداری  نہیں بلکہ  ناسمجھی ہے۔  دین بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ جو تمہارے اختیار میں نہیں، اسے رب کے سپرد کر دو۔ جب انسان کا توکل اللہ  پر مضبوط  ہو جاتا ہے تو Let Go        کرنا آسان ہو جاتا ہے

Let Go کا مطلب ہار ماننا نہیں
بلکہ اپنی توانائی کو درست جگہ صرف کرنا ہے۔
کچھ چیزیں چھوڑ دی جائیں تودل ہلکا ہو جاتا ہے,سوچ صاف  ہو جاتی  ہے اور زندگی  آگے بڑھنے  لگتی ہے۔

مدیحہ انور

Published by khalilmadihaanwar

مدیحہ انور ایک اردو لکھاری ہیں جو ادب، سماج اور احساسات پر لکھتی ہیں۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message
Log In