بے غرضی صرف کسی کے لیے کچھ کر دینے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی خوبصورت کیفیت ہے جہاں انسان اچھائی کے بدلے کسی صلے، شکریے یا اعتراف کا انتظار نہیں کرتا۔ کچھ اعمال پھولوں کی طرح ہوتے ہیں؛ خاموشی سے خوشبو دیتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔
کبھی کبھی زندگی میں ہمیں ایسے لوگ ملتے ہیں جو ہمارے لیے کچھ ایسا عمل کر دیتے ہیں جس کی ہمیں اس لمحے بہت ضرورت ہوتی ہے ، ان کی خوبی صرف یہ نہیں ہوتی کہ وہ مشکل وقت میں ہمارے کام آئے اصل خوبی ان کے اس رویے میں ہے کہ بدلے میں وہ کچھ نہیں مانگتے۔ نہ شکریے کی خواہش، نہ تعریف کی طلب، نہ یہ انتظار کہ کبھی ہم بھی ان کے کام آئیں گے۔ وہ بس اپنا فرض سمجھ کر، یا شاید اپنے دل کی آواز پر، کسی کے لیے آسانی پیدا کر دیتے ہیں ۔
گو ایسے لوگ آج کے زمانے میں کم دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے اس بےغرض عمل سے ماحول اور معاشرے میں خوشبو پھیل جاتی ہے اور اس مہک سے وہ بدبو جو خودغرض لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوتی معدوم ہو جاتی ہے۔
ہماری زندگی میں اب اکثر چیزیں کسی نہ کسی حساب سے جڑی ہوئی ہیں۔ تعلق ہو تو توقع ساتھ چلتی ہے، دوستی ہو تو جواباً توجہ چاہیے، کسی کی مدد کریں تو دل کے کسی کونے میں یہ خیال ضرور رہتا ہے کہ وقت پڑنے پر وہ بھی ہمارے کام آئے گا۔ کبھی کبھی تو محبت بھی ایک خاموش لین دین بن جاتی ہے۔ ہم دیتے ہیں اور لاشعوری طور پر سامنے والے سے کچھ واپس ملنے کی امید رکھتے ہیں۔
شاید اسی لیے بے غرضی ہمیں اتنی خوبصورت لگتی ہے، کیونکہ اس میں حساب نہیں ہوتا۔
بے غرضی میں یہ نہیں کہ انسان اپنی ذات کو بھلا دے یا ہر شخص کے لیے خود کو قربان کرتا رہے۔ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ہم کسی کے ساتھ اچھا سلوک صرف اس لیے کریں کہ اچھا سلوک کرنا ہماری فطرت کا حصہ ہے۔ کسی کی مدد اس لیے کریں کہ اس وقت اسے مدد کی ضرورت ہے، نہ کہ اس لیے کہ کل ہمیں بھی اسی شخص کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
کسی پریشان انسان کی بات سن لینا بھی ایک طرح کی بے غرضی ہے۔ کبھی کسی کے لیے چند اچھے الفاظ کہہ دینا، کسی کی کامیابی پر دل سے خوش ہونا، کسی کے دکھ میں خاموشی سے شریک ہوجانا، یا کسی کے لیے ایسی دعا کرنا جس کا اسے کبھی علم ہی نہ ہو۔۔۔ یہ سب وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ دوسروں کے لیے کچھ بڑا کرنا ہی نیکی ہے، حالانکہ بعض اوقات ایک نرم جملہ بھی کسی انسان کے پورے دن کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔
اور شاید بے غرضی کی سب سے خوبصورت صورت یہی ہے کہ ہم کسی کے ساتھ اس وقت کھڑے ہوں جب اس کے پاس ہمیں دینے کے لیے کچھ بھی نہ ہو۔
ماں کی محبت کو دیکھیں تو بے غرضی کا مطلب اور بھی واضح ہوجاتا ہے۔ ماں اپنی اولاد کے لیے نہ جانے کتنی خواہشیں چھوڑ دیتی ہے، کتنی راتیں جاگتی ہے، کتنی پریشانیاں اپنے اندر رکھ لیتی ہے، مگر ہر قربانی کا حساب نہیں رکھتی۔ وہ یہ نہیں سوچتی کہ میں نے تمہارے لیے اتنا کیا، اب تم مجھے کیا دو گے۔
شاید ماں ہمیں زندگی کا پہلا سبق یہی دیتی ہے کہ محبت میں حساب نہیں ہوتا۔
لیکن جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں، زندگی ہمیں بہت کچھ سکھا دیتی ہے۔ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہر شخص ہمارے جیسا نہیں سوچتا۔ جس کے لیے ہم نے وقت نکالا، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے لیے وقت نکالے۔ جس کا راز ہم نے سنبھال کر رکھا، ممکن ہے وہ ہماری بات دوسروں تک پہنچا دے۔ جس کے مشکل وقت میں ہم اس کے ساتھ کھڑے رہے، شاید ہمارے مشکل وقت میں وہ کہیں نظر نہ آئے۔
یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان کے اندر ایک سوال پیدا ہوتا ہے:
آخر میں نے اتنا سب کیوں کیا؟
شاید اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم نے وہ سب اس لیے کیا کیونکہ اس وقت وہ ہمارے کردار کا تقاضا تھا۔ سامنے والے کا رویہ اس بات کا فیصلہ نہیں کرتا کہ ہم اچھے تھے یا برے۔
کسی کی ناشکری ہماری نیکی کو ختم نہیں کردیتی۔
کسی کی بے وفائی ہمارے خلوص کو جھوٹا نہیں بنا دیتی۔
اور کسی کا بدل جانا اس بات کو غلط ثابت نہیں کرتا کہ ہم نے کبھی اس کے لیے سچے دل سے کچھ کیا تھا۔
ہاں، یہاں ایک بات ضرور سمجھنے کی ہے کہ بے غرضی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم ہر زیادتی برداشت کرتے رہیں۔ اچھا انسان ہونا اور خود کو مسلسل تکلیف میں رکھنا دو الگ باتیں ہیں۔
ہم کسی کو معاف کرسکتے ہیں، مگر ضروری نہیں کہ اسے دوبارہ وہی اختیار بھی دے دیں جس سے وہ ہمیں تکلیف پہنچا چکا ہے۔
ہم مدد کرسکتے ہیں، مگر کسی کو اپنی نرمی کا فائدہ اٹھانے کی اجازت دینا ضروری نہیں۔
ہم محبت کرسکتے ہیں، مگر اپنی عزتِ نفس کو قربان کیے بغیر۔
دین بھی ہمیں نیکی کے ساتھ اخلاص کا سبق دیتا ہے۔
قرآنِ کریم میں نیک لوگوں کی ایک کیفیت بیان ہوئی ہے:
“إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا”
یعنی ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔
(سورۃ الإنسان: 9)
یہ آیت مجھے ہمیشہ یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ نیکی کی اصل خوبصورتی شاید اسی وقت سامنے آتی ہے جب اس کے پیچھے کسی انسان سے کچھ حاصل کرنے کی خواہش نہ ہو۔
لیکن شاید زندگی کی پختگی یہی ہے کہ انسان ہر اچھے عمل کے بدلے اچھا ردعمل مانگنا چھوڑ دے۔
ہم کسی کے لیے اچھا کریں اور پھر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں۔
اگر وہ یاد رکھے تو بھی ٹھیک۔
اگر بھول جائے تو بھی ٹھیک۔
اگر شکریہ ادا کرے تو بھی خوشی۔
اگر نہ کرے تو بھی دل میں ملال نہ ہو۔
کیونکہ جو کام ہم نے صرف لوگوں کے لیے کیا ہوگا، اس کا صلہ بھی لوگوں سے ہی مانگیں گے۔ لیکن جو کام اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے، اس کا حساب انسانوں کے ہاتھ میں نہیں رہتا۔
شاید اسی لیے بے غرضی انسان کو اندر سے آزاد کرتی ہے۔
جب ہم دوسروں سے توقعات کم کرتے ہیں تو شکایتیں بھی کم ہوجاتی ہیں۔ پھر کسی کا جواب نہ دینا ہمیں اتنا نہیں توڑتا، کسی کا بھول جانا ہماری اپنی قدر کم نہیں کرتا، اور کسی کا بدل جانا ہمیں اپنی نیکی پر شرمندہ نہیں کرتا۔
ہم صرف یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے اپنی طرف سے جو بہتر تھا، وہ کیا۔
باقی لوگوں کا معاملہ ان کا ہے۔
زندگی بہت مختصر ہے۔ ہم اگر ہر تعلق کا حساب رکھتے رہے تو شاید تعلق کی خوبصورتی ہی ختم ہوجائے۔
ہم دنیا سے بہت کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر شاید اصل خوبصورتی اس میں ہے کہ جاتے جاتے ہم یہ سوچ سکیں:
میں نے کسی کے دل پر بوجھ نہیں رکھا۔
جہاں ممکن ہوا، آسانی پیدا کی۔
جہاں ممکن ہوا، کسی کا ہاتھ تھاما۔
اور جہاں کچھ کرنا ممکن نہ تھا، وہاں کم از کم کسی کے لیے دل سے دعا کی۔
شاید یہی بے غرضی ہے۔
خاموشی سے اچھا کرنا۔۔۔
اور پھر اپنے کیے ہوئے اچھے کام کو بھی خاموشی سے بھول جانا۔
— مدیحہ انور خلیل
فکرو عمل کے نقوش
