ڈگری بمقابلہ ہنر: کامیابی کے لیے آج کیا زیادہ ضروری ہے؟

تحریر: مدیحہ انور خلیل

ڈگری بمقابلہ ہنر: کامیابی کے لیے آج کیا زیادہ ضروری ہے؟



ایک وقت تھا جب میٹرک یا بی اے کی ڈگری بھی معزز نوکری اور روشن مستقبل کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ والدین پیٹ کاٹ کر بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلاتے تھے تاکہ وہ معاشرے میں سر اٹھا کر جی سکیں اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکیں۔ ڈگری صرف تعلیم کی علامت نہیں تھی بلکہ عزت، قابلیت اور کامیابی کا ایک معتبر حوالہ بھی سمجھی جاتی تھی۔ لیکن آج منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ یونیورسٹیوں سے اعلیٰ نمبروں اور ڈگریوں کے ساتھ نکلنے والے نوجوان ملازمتوں کی تلاش میں پریشان دکھائی دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں نہیں، مگر اپنے ہنر کی بدولت وہ اچھی آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ یہی بدلتی ہوئی صورتِ حال ہمیں ایک اہم سوال کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے: کیا واقعی جدید دور میں ڈگری کی اہمیت ختم ہو چکی ہے، یا کامیابی کے لیے ہنر زیادہ ضروری ہو گیا ہے؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈگری محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں۔ تعلیم انسان کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یونیورسٹی اور کالج کا ماحول انسان کو نظم و ضبط، تحقیق، گفتگو، اختلافِ رائے کو سمجھنے، لوگوں سے تعلق قائم کرنے اور مسائل کو ایک منظم انداز میں حل کرنے کا شعور دیتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم انسان کے ذہنی افق کو وسیع کرتی ہے اور اسے مختلف نظریات، خیالات اور علوم سے روشناس کراتی ہے۔ اس لیے ڈگری کو مکمل طور پر غیر ضروری قرار دینا بھی درست نہیں۔ بہت سے شعبے ایسے ہیں جہاں باقاعدہ تعلیمی قابلیت کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، استاد اور کئی دوسرے پیشوں کے لیے مخصوص تعلیمی اسناد اور تربیت بنیادی ضرورت ہیں۔

تاہم مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ڈگری کو قابلیت کا آخری پیمانہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ جدید دنیا میں ملازمت اور کاروبار کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ آج بہت سے شعبوں میں ادارے صرف یہ نہیں دیکھتے کہ امیدوار نے کہاں سے تعلیم حاصل کی ہے، بلکہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ عملی طور پر کیا کر سکتا ہے۔ گرافک ڈیزائننگ، پروگرامنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، کنٹینٹ رائٹنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیٹا اینالٹکس اور دیگر کئی شعبوں میں عملی مہارت کی اپنی ایک الگ قدر ہے۔ یہاں ایک مضبوط پورٹ فولیو بعض اوقات محض ایک ڈگری سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ پورٹ فولیو یہ دکھاتا ہے کہ انسان نے جو کچھ سیکھا ہے، اسے عملی طور پر استعمال بھی کر سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان اگر صرف ڈگری حاصل کرنے پر اکتفا کرے اور اپنی عملی صلاحیتوں کو نظر انداز کر دے تو تعلیم اور روزگار کے درمیان ایک خلا پیدا ہو سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ مسئلہ اس لیے بھی نمایاں ہے کہ ہم نے طویل عرصے تک تعلیم کا مقصد صرف اچھی ملازمت حاصل کرنا سمجھا۔ بچے اسکول سے یونیورسٹی تک نمبروں کی دوڑ میں شامل رہتے ہیں، مگر اس دوران ان کی تخلیقی صلاحیت، عملی تجربہ اور بدلتی ہوئی دنیا کی ضروریات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت اکثر پسِ پشت چلی جاتی ہے۔

دوسری طرف یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ہر بے روزگار گریجویٹ کی مشکل کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس کے پاس ہنر نہیں۔ روزگار کے مواقع، معاشی حالات، صنعت کی طلب، تجربے کی کمی اور تعلیمی نظام سمیت بہت سے عوامل کسی فرد کے کیریئر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے مسئلے کو صرف “ڈگری بمقابلہ ہنر” کی دوئی میں دیکھنا شاید درست تصویر پیش نہ کرے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم انسان کو علم بھی دے اور اسے عملی زندگی کے لیے تیار بھی کرے۔

ہمیں اپنے تعلیمی رویے پر بھی غور کرنا ہوگا۔ اگر ایک طالب علم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہا ہے تو اسے صرف امتحانات میں اچھے نمبر لینے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اسے اپنی تعلیم کے ساتھ کوئی عملی ہنر سیکھنے، انٹرن شپ کرنے، چھوٹے منصوبوں پر کام کرنے اور اپنے کام کا پورٹ فولیو بنانے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ اسی طرح والدین کو بھی بچوں کے مستقبل کا فیصلہ صرف روایتی پیشوں کی بنیاد پر نہیں کرنا چاہیے۔ ہر بچہ ڈاکٹر، انجینئر یا سرکاری افسر بننے کے لیے پیدا نہیں ہوتا۔ کسی میں لکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے، کوئی ٹیکنالوجی میں بہتر ہوتا ہے، کوئی فنون میں، کوئی کاروبار میں اور کوئی لوگوں کے ساتھ کام کرنے میں۔ بچے کی صلاحیت کو پہچاننا اور اسے درست سمت میں پروان چڑھانا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔

اصل کامیابی شاید ڈگری یا ہنر میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے میں نہیں، بلکہ دونوں کو ایک دوسرے کا معاون بنانے میں ہے۔ ڈگری ہمیں علم، بنیاد اور فکری وسعت دے سکتی ہے، جبکہ ہنر اس علم کو عملی زندگی میں استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ تعلیم اگر سمت متعین کرتی ہے تو ہنر اس سمت میں آگے بڑھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

آج کے دور میں صرف ڈگری کا ہونا شاید کافی نہ ہو، لیکن ڈگری کی اہمیت کو مکمل طور پر ختم سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ڈگری کو منزل نہیں بلکہ سفر کا ایک حصہ سمجھیں اور اس کے ساتھ اپنی عملی صلاحیتوں کو بھی مسلسل بہتر بناتے رہیں۔ کیونکہ آنے والی دنیا میں شاید سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ “آپ نے کیا پڑھا ہے؟” بلکہ یہ بھی پوچھا جائے گا کہ “آپ جو جانتے ہیں، اسے عملی طور پر کیا کر سکتے ہیں؟”

شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ڈگری اور ہنر ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے تکمیل کنندہ بن جاتے ہیں۔

ڈگری بمقابلہ ہنر، ڈگری یا ہنر، جدید دور میں ہنر کی اہمیت، تعلیم اور ہنر، نوجوانوں کا مستقبل، روزگار اور ہنر

Published by khalilmadihaanwar

مدیحہ انور ایک اردو لکھاری ہیں جو ادب، سماج اور احساسات پر لکھتی ہیں۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message
Log In