زندگی اک سفر ہے سہانا

الحمدللہ  anthology میں میری ایک  لکھی ہوئی نئی کہانی شائع  ہوگئی ہے۔۔۔۔۔امید ہے پڑھنے والوں کو پسند آئے گی۔۔۔۔hocpublications.com  نے اس کو شائیں کیا ہے۔آپ ان کی ویب سائٹ  پر جاکر آڈر کر سکتے ہیں ۔ ریفرینس باکس میں میرا نام مدیحہ_انور  ضرور  مینشن  کریں ۔۔۔بہت شکریہ https://hocpublications.com/book/midnight-radio/ مڈ نائٹ ریڈیویہ کہانیوں کا ایک مجموعہContinue reading “زندگی اک سفر ہے سہانا”

ذہنی سکون اور ڈیجیٹل ڈی ٹاکس/Mental Peace and Digital Detox

آج کے دور میں جبکہ موبائل فون، سوشل میڈیا اور مسلسل نوٹیفیکیشنز ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ ہم بظاہر دنیا سے جڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں لیکن حقیقت  میں ہم میں سے اکثریت  اس کوشش  میں ہوتی ہے کہ جلدی  جلدی  ہم اپنا کام مکمل کریں تا کہ اپنا موبائل  فون اٹھاContinue reading “ذہنی سکون اور ڈیجیٹل ڈی ٹاکس/Mental Peace and Digital Detox”

علم کا حصول  منزل نہیں ۔۔۔۔زاد راہ ہے۔۔/”Knowledge is not a destination; it is sustenance for journey

علم حاصل کرنا ہر دور میں ہی پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہےاور ہر ذی شعور انسان کی یہ کوشش رہی کہ وہ تعلیم حاصل کرے لیکن انٹرنیٹ کے اس دور میں جب ہر طرف معلومات کا سیلاب ہے ،گلی گلی سکول کھل چکے ہیں تو علم کا حصول ہماری زندگیوں کا جزوContinue reading “علم کا حصول  منزل نہیں ۔۔۔۔زاد راہ ہے۔۔/”Knowledge is not a destination; it is sustenance for journey”

Mother ماں

ماں صرف ایک فرد نہیں، بلکہ پوری نسل کی پہلی درسگاہ ہے۔ کہا جاتا ہے: “تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو، میں تمہیں پڑھی لکھی قوم دوں گا۔”یہ قول نپولین بونا پارٹ  سے منسوب کیا جاتا ہے،حالانکہ  تاریخی  طور پر یہ ثابت  نہیں  ہے۔ لیکن یہ قول چاہے جس سے منسوب ہو، اس کا مفہومContinue reading “Mother ماں”

Let Go  چھوڑ دینا بھی جینے کا ہنر ہے

بہت  دفعہ  ہم اس دکھ  میں  زندگی  گزارتے ہی چلے جاتے ہیں کہ ہمیں  فلاں  چیز  مل جاتی  تو کتنا اچھا  ہو جاتا۔یا نہ جانے فلاں  شخص  نے میرے ساتھ  ایسا  کیوں  کیا ‘وہ ایسے کیوں  بولا ؟ یا اس نے میرے ساتھ  بات کیوں نہ کی؟ کیا میں ایسے سلوک  کی حقدار تھی/تھا؟یعنی ہمContinue reading “Let Go  چھوڑ دینا بھی جینے کا ہنر ہے”

عورتیں جاب کیوں کرتی ہیں؟

عورتیں جاب کیوں کرتی ہیں؟جیسے ہی آپ  نے یہ پڑھا ہوگا ،ساتھ  ہی آپ کے ذہن  میں  اپنے معاشی  حالات، معاشرتی  توقعات اور خاندانی  روایات  کے حساب سے کوئی  نہ کوئی  جواب ضرور  آیا ہو گا اور کچھ  نوکری  پیشہ  عورتوں کا چہرہ  بھی  تصور میں  آیا ہوگا۔لیکن  کیا کوئی  ایسا بھی  ہے جس نےContinue reading “عورتیں جاب کیوں کرتی ہیں؟”

اسلام میں اپنی ذات کے حقوق۔۔۔۔۔۔۔ایک بھولا ہوا فریضہ

ہم عموماً حقوق کی بات کرتے ہیں تو والدین، اولاد، شریکِ حیات اور معاشرے کے حقوق یاد آتے ہیں؛ مگر اسلام نے ایک اور اہم حق بھی سکھایا ہے ،جس  کو اکثر اوقات  ہم بھول  جاتے ہیں یا نظرانداز  کر دیتے ہیں اور وہ ہے  اپنی ذات کا حق۔ یہ خود غرضی نہیں کہ انسانContinue reading “اسلام میں اپنی ذات کے حقوق۔۔۔۔۔۔۔ایک بھولا ہوا فریضہ”

علم اور عمل ساتھ ساتھ

علم حاصل  کرنا  ہر دور میں ہی پسندیدگی  کی نظر  سے دیکھا جاتا رہا ہےاور ہر ذی شعور  انسان کی یہ کوشش  رہی کہ وہ تعلیم  حاصل  کرے لیکن انٹرنیٹ  کے  اس دور میں جب ہر طرف  معلومات  کا سیلاب ہے ،گلی گلی سکول کھل چکے ہیں تو علم کا حصول ہماری  زندگیوں  کا جزوContinue reading “علم اور عمل ساتھ ساتھ”

آخر اچھے کردار کو کیسے پہچانا جائے۔۔۔؟

جدید زمانے کے جس دور میں ہم سانس لے رہے ہیں ‘ہر طرف مصنوعی چمک دمک ہے۔ہر کوئی نمائش میں مصروف ہے۔یعنی جس کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی کوشش میں ہے کہ کسی طرح میں اپنے اس حاصل سے دوسرے کو متاثر کر سکے یا نیچا دکھا سکے۔ یہ نمائش کسی بھی چیزContinue reading “آخر اچھے کردار کو کیسے پہچانا جائے۔۔۔؟”

کب بولنا ہے… اور کب خاموش رہنا ہے؟یہ سوال جتنا سادہ لگتا ہے، زندگی میں اتنا ہی گہرا ہے۔اللہ  کے آخری  پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔۔”أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا”یعنی”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں،  تو ہم انہیں دو عالی مرتبت اشخاص سے اس معاملے کو سمجھنے  کی کوشش  کرتے ہیں۔نبی  کریم صلی   اللہ علیہ وسلم کا فرمان  ہے: “جو خاموش رہا، وہ فلاح پا گیا” جبکہ  حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بات کرنے کے معاملے  میں قول ہے: “بولو تاکہ پہچانے جاؤ” تو پھر سوال یہ ہے کہ… کب بولیں؟ اور کب خاموش رہیں؟کیونکہ انسان کی پہچان اس کی گفتگو سے ہوتی ہے—الفاظ اس کے شعور، ظرف اور کردار کا آئینہ ہوتے ہیں۔اس لئے جب انسان  بولتا ہے تو وہ درحقیقت  اپنا تعارف  کرا رہا ہوتا ہے چاہے  وہ اپنے بارے میں گفتگو  نہ بھی کر رہا ہو۔جبکہ  اگر کوئی شخص  اگر خاموش  ہے اور  وہ کسی محفل میں بات  نہیں بھی کر رہا تویہ خاموشی اس کے کردار  کی کمزوری کی  نہیں، بلکہ حکمت کی علامت ہے۔تو کیسے تعین ہو کہ کب بولنا  درست ہے اور کب خاموش  رہنا صحیح۔۔۔ہمیں ان دونوں  عظیم الشان  ہستیوں  کے اسوہ حسنہ سے پتا  چلتا  ہے کہ۔✔️ جب حق دبایا جا رہا ہو — بولو✔️ جب کسی کی عزت پر حرف آ رہا ہو — بولو✔️ جب سچ کہنا ضروری ہو — بولولیکن۔۔۔۔۔❌ جب بات صرف انا کی ہو  اور اپنی ذات  کی ہوتو — خاموش رہو❌ جب الفاظ کسی کا دل توڑ سکتے ہوں — خاموش رہو❌ جب بحث بے مقصد ہو — خاموش رہویاد رکھیں… ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، اور ہر بات کرنا بہادری نہیں ہوتا۔خاموشی اگر سچ چھپانے کے لیے ہو تو بزدلی ہے، اور اگر فتنے کو روکنے کے لیے ہو تو عبادت ہے۔آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کب بولنا چاہیے اور کب خاموش رہنا بہتر ہے؟مدیحہ انور#fikr_o_amal_ke_naqoosh #madihaanwar #silence #مدیحہ_انور #فکرو_عمل_کے_نقوش

Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message
Log In