Mother ماں

ماں صرف ایک فرد نہیں، بلکہ پوری نسل کی پہلی درسگاہ ہے۔
کہا جاتا ہے: “تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو، میں تمہیں پڑھی لکھی قوم دوں گا۔”
یہ قول نپولین بونا پارٹ  سے منسوب کیا جاتا ہے،حالانکہ  تاریخی  طور پر یہ ثابت  نہیں  ہے۔
لیکن یہ قول چاہے جس سے منسوب ہو، اس کا مفہوم نہایت گہرا اور حقیقت پر مبنی ہے۔جب سے یہ دنیا وجود میں آئی ہے تب سے لیکر آج تک ہر قوم ،ہر قبیلے اور ہر نسل نے ماؤں کی عظمت کو تسلیم کیا ہے۔ماں نہ صرف بچے کو جنم دیتی ہے بلکہ اس کی زندگی  کے ہر مرحلے  میں فیصلہ کن کردار  ادا کرتی ہے۔انسانی تاریخ  کے ہزاروں  گزرے سالوں میں ماں کو ایک بلند مرتبہ دیا گیا ہے۔انسانی  ضمیر ماں  کو ہمیشہ  سے پہچانتا ہے۔ لیکن آج سائنس   ہماری زندگیوں  میں ماؤں کے کردار کی تشریح  اپنے ڈھنگ  سے کرتی ہے۔

سائنس کی نظر میں ایک ماں کا کردار بچے کی پیدائش سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے اور یہ محض پرورش تک محدود نہیں بلکہ بچے کی حیاتیاتی اور نفسیاتی ساخت کی بنیاد بھی بنتا ہے۔ بچے کو آدھے جینز ماں سے ملتے ہیں، جبکہ مائٹوکونڈریا صرف ماں کی طرف سے منتقل ہوتا ہے جو جسم کی توانائی اور میٹابولزم کو متاثر کرتا ہے۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ ذہانت سے متعلق کئی اہم جینز X کروموسوم پر ہوتے ہیں، اور چونکہ ماں کے پاس دو X کروموسوم ہوتے ہیں، اس لیے بچے کی ذہنی نشوونما میں اس کا کردار نمایاں ہو سکتا ہے۔ حمل کے دوران اور دودھ پلانے کے ذریعے ماں اپنے اینٹی باڈیز بچے کو منتقل کرتی ہے جو اس کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ ماں اور بچے کے درمیان محبت، لمس اور قربت سے آکسیٹوسن ہارمون خارج ہوتا ہے جو بچے میں تحفظ، سکون اور جذباتی استحکام پیدا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ ماں کی خوراک، ذہنی سکون اور ماحول حمل کے دوران بچے کے جینز کے کام کرنے کے طریقے پر اثر انداز ہوتے ہیں، جسے ایپی جینیٹکس کہا جاتا ہے۔ یوں سائنس بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ ماں صرف زندگی دینے والی نہیں بلکہ بچے کی ذہانت، صحت، شخصیت اور مستقبل کی اصل معمار ہوتی ہے۔اگر ماں خود کو محفوظ  تصور  نہ کرے یا پریشان  رہے تو بچے کی ساری  زندگی  اسی کیفیت  میں گزرتی ہے۔
پاکستان  میں عورتوں  کی کل آبادی  میں تعداد  تقریبا 49%ہے۔اور ان میں پڑھی لکھی  عورتیں تقریبا 53%ہیں یعنی آدھی عورتیں ان پڑھ ہیں۔
کہاوت  مشہور ہے ایک لڑکا پڑھتا ہے تو ایک فرد تعلیم یافتہ  ہوتا ہے لیکن اگر ایک لڑکی پڑھے تو گویا ایک نسل تعلیم یافتہ ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔”
قرآن و سنت ہمیں بتاتے ہیں کہ ایک نیک، باعلم اور باشعور ماں صرف اپنے بچوں کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔
حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت فاطمہؓ جیسی عظیم خواتین اس کی روشن مثال ہیں۔
اگر ہم ایک مضبوط، بااخلاق اور باشعور قوم چاہتے ہیں تو ہمیں عورت کی تعلیم، تربیت اور عزت کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔
کیونکہ ایک تعلیم یافتہ ماں صرف گھر نہیں سنوارتی، وہ قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔

مدیحہ انور

ماں Mother

Published by khalilmadihaanwar

مدیحہ انور ایک اردو لکھاری ہیں جو ادب، سماج اور احساسات پر لکھتی ہیں۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message
Log In