متاع الغرور “A fleeting, deceptive worldly possession”

اسرائیل   ایک ایسی جنگ  لڑ رہا ہے جس کا اختتام  اسکی  اپنی تباہی پر ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔اور میں یہ اس لئے نہیں کہ رہی کہ احادیث  سے یہ بات  ثابت  ہے۔گو کہ جو کچھ اللہ  کے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم  نے فرمایا  وہ سب حق ہے۔ بلکہ میری اس رائے کی وجہ اس کا ظالم اور ناجائز ہونا ہے یعنی آپ نے پہلے  مظلومیت کا ڈھونگ رچا کر توکسی کے گھر پر پناہ لی پھر آہستہ  آہستہ  اس پر قبضہ کیا پھر  اس کے گھر والوں  کو وہاں سے نکالا اور جو وہاں بچ رہے آپ نے ان پر ظلم کرنا شروع  کر دیا کہ جو میری  بات نہیں مانے گا میں اس کو قتل کردوں گا۔
آپ نے صرف  اسی پر اکتفا  نہیں کیا بلکہ اسکے آباو اجداد  کے طرز زندگی  کو اپنا بتانا شروع  کر دیا  کہ میرے آباو اجداد اس جگہ ایسے  رہتے تھے۔
۔اس کے کلچر اور تہذیب  کو دنیا میں اپنے نام  سے پیش  کرنا شروع  کر دیا ‘اس کے گھر کا نام  بدل کر نیا نام  رکھ دیا یعنی ہر طرح  سے اس گھر کو   اس کے اصل مکینوں کی شناخت  سے جدا کر دینے کی پوری کوشش کی۔
دوسری وجہ بلکہ اس کی پوزیشن  جوکہ مڈل ایسٹ  میں ہے۔ہر طرف مسلمان  ہیں۔ایک چھوٹے سے علاقے پر ظلم و ستم سے قبضہ  کر کے سمجھ  رہا ہے کہ شاید  میں کوئی بہت بڑا فاتح  ہوں اور وہ قبضہ بھی  اس نے اپنے بل بوتے  پر نہیں کیا بلکہ دنیا کی بڑی طاقتوں  سے طاقت ادھار لے کر کیا ہے۔
لیکن اس دھوکے   اور غرور  میں آ کر بد مست ہاتھی کی طرح ایران  پر چڑھ  دوڑا ہےاور اعلان  کر رہا ہے کہ سارے مڈل ایسٹ  پر قبضہ کروں گا حالانکہ صرف ایران پر ہی  اکیلا  حملہ کرنے کی ہمت  آج بھی نہیں ہے۔۔
ایک چھوٹے سے علاقے پر تو پچھلے 80 سال سے اکیلا قبضہ کر نہیں سکا  پورے عرب پر کیسے کرے گا؟
یہ بات درست  ہے کہ 1967کے بعد عربوں  نے کبھی اسرائیل  کے ساتھ جنگ نہیں کی اور انہوں نے جنگ کی بجائے  اپنی معاشی ترقی  پر توجہ دی ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ان پر قبضہ ہو سکتا ہے۔
تھوڑے  سے فلسطینی  تو تمہارے قابو میں نہیں آ رہے تو کروڑوں عرب کیسے قابو میں کرو گے؟
اگر یہ عرب لڑنے پر آ جائیں تو تمہیں بچنے کی راہ  نہیں ملے گی اگرچہ  آج کے مہلک ہتھیاروں  کی بدولت  خون بہت بہہ جائے گا زمین بھی شاید  بنجر ہوجائے۔ لیکن یاد رہے اہل مدینہ آج بھی موجود  ہیں جنہوں  نے تمہارے  اباواجداد کو دھوکہ  دہی  اور عہد شکنی کی وجہ سے نکالا  تھا۔۔۔۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ  کے جانشین یہیں موجود ہیں ۔اسلام  آیا اور آج تک موجود  ہےلیکن تم اور تمہارے  آباواجداد جہاں  کہیں گئے نکالے گئے۔ وہ کہیں بھی  مستقل آباد  نہیں ہو پائےوجہ تم لوگوں  کی عادتیں  ہیں ۔۔۔۔دھوکہ بازی،سود ،جھوٹ  ،لڑائی  ،فساد فی الارض اور اللہ  کی نافرمانی۔۔تم نہیں بدلے۔۔۔۔اللہ  کا قانون  بھی نہیں  بدلے گا۔۔۔۔
عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يَرْحَمَكُمْ ۚ وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ حَصِيرًا
ترجمہ:
“امید ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے، لیکن اگر تم دوبارہ (سرکشی کی طرف) لوٹو گے تو ہم بھی (عذاب کی طرف) لوٹ آئیں گے، اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ بنا رکھا ہے۔”
سورۃ الاسراء (بنی اسرائیل)، آیت: 8

مدیحہ انور

Published by khalilmadihaanwar

مدیحہ انور ایک اردو لکھاری ہیں جو ادب، سماج اور احساسات پر لکھتی ہیں۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message
Log In