23 مارچ 1940 وہ روشن دن ہے جب مسلمانانِ ہند نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اپنے اس ارادے کا اعلان کیا جس کے بارے میں وہ بہت عرصے سے سوچ رہے تھے۔۔ یعنی مسلمانوں کی علیحدہ اسلامی ریاست۔۔۔۔
یہ قائداعظم کی دور اندیش سوچ تھی جس نے بھانپ لیا تھا کہ کثیر تعداد میں ہندوؤں کی موجودگی میں مسلمان کبھی بھی اپنی رائے کو ہندوستان میں لاگو نہیں کرا سکیں گے۔
تب بھی اور آج بھی بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ آخر علیحدہ ہونے کی کیا ضرورت تھی؟ سب صدیوں سے اکٹھے رہ ہی رہے تھے تو پھر مسلمانوں کے لئےایک علیحدہ ملک کیوں ضروری تھا؟
اقبال نے کہا ہے ناں
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو
آتی نہیں کچھ کام یہاں عقل خدا داد
اے مرد خدا تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل
جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد
مسکینی و محکومی و نومیدیٔ جاوید
جس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
مسلمان ہونے کا مطلب صرف نمازیں پڑھنے یا روزہ رکھنے تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے ساتھ معاملات کیسے چلانے ہیں اور دنیا میں کیسے رہنا ہے یہ سب بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔اسلام ایک عملی مذہب ہے یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔اس لئے میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان مسلمانان برصغیر کی ایک اہم سیاسی ضرورت تھی۔۔۔ مسلمان جو کہ تعداد میں ہندوؤں سے کم تھے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ وہ کبھی بھی اپنی بات نہیں منوا سکیں گے۔ کیونکہ قائداعظم جانتے تھے کہ اس جدید طرز جمہوریت میں جس کی تعداد زیادہ ہوگی بات بھی اسی کی مانی بھی اسی کی جائے گی۔
اس کے علاوہ انہوں نے کانگریس میں رہ کر جان لیا تھا کہ جب ہندوؤں کو حکومت ملے گی تو وہ کسی اور مذہب کے لوگوں کو تو شاید کچھ نہ کہیں لیکن مسلمانوں سے ضرور لڑیں گے اور ان کو ضرور نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ مسلمانوں نے اس برصغیر پر ایک ہزار سال حکومت کی تھی ۔بقول اقبال۔۔۔۔۔۔
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
ہندوستان کے بہت بڑے بڑے علمائے دین اور سیاسی شخصیات نے پاکستان بننے کی مخالفت کی اور قائداعظم کے اس علیحدہ ملک بنانے کے نظریے کو غلط جانا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ قائداعظم درست تھے اور انہوں نے آنے والے وقت کو بھانپ لیا تھا اور اس بات کی اہمیت جتنی اجاگر ہو کر آج سامنے آئی ہے پہلے شاید کبھی ایسا نہ ہوا تھا۔
ہندوستان کے کروڑوں مسلمان امتِ مسلمہ میں کوئی آواز نہیں رکھتے بلکہ دنیا میں کہیں بھی ان کی رائے کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔اسرائیل کو بھارتی حکومت سپورٹ کرتے ہوئے کوئی پروا نہیں کرتی کہ بیس یا بائیس کروڑ مسلمان کیا چاہتے ہیں۔لیکن الحمدللہ پاکستان ہر جگہ اپنا موقف بڑی جرات مندی سے پیش کر رہا ہے نہ صرف اپنا موقف بیان کر رہا ہے بلکہ اسے پذیرائی بھی مل رہی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ایگریمنٹ میں پاکستان نے جو شبانہ روز محنت کی ہے وہ سب کے سامنے ہے اور دنیا اس کو مان بھی رہی ہے۔ یہی دوقومی نظریہ ہے کہ ہم تم سے علیحدہ ہیں ہماری سوچ اور ہے طرز زندگی بھی تم سے جدا ہے اور ہم دنیا سے اپنے معاملات بھی کسی اور طریقے سے طے کریں گے۔26 کروڑ لوگ بہت بڑی تعداد ہیں۔ ایک ایسی بڑی اکائی میں رہنا ،جہاں اکثریت آپ سے بالکل مخالف نظریات رکھتی ہو، اپنے وجود کو بے معنی کر لینا ہے۔
🤲 اللہ تعالیٰ بانیانِ پاکستان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ہمیں پاکستان کی قدر کرنے اور اس کی حقیقی روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
❓ آپ کے خیال میں آج کے دور میں پاکستان کے قیام کی سب سے بڑی اہمیت کیا ہے؟

Pakistan _ well timed decision
پاکستان۔۔۔۔ایک بروقت فیصلہ