دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کی زندگی بالکل ہموار ہو، جسے کسی مسئلے کا سامنا نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی ایک ایسی سڑک ہے جو کبھی سیدھی، کبھی کچی، اور کبھی بے حد ناہموار ہوتی ہے۔ اس سڑک پر چلتے ہوئے ہمیں ہر طرح کے موڑ، جھٹکے اور رکاوٹیں ملتی ہیں۔مگر اصل سوال یہ نہیں کہ سڑک کیسی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم ڈرائیونگ کیسے کرتے ہیں۔کچھ لوگ اپنی زندگی کی گاڑی کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: “میں کیا کروں، حالات ہی ایسے ہیں”، اور یوں وہ اپنی سمت، اپنی رفتار، حتیٰ کہ اپنی منزل کا اختیار بھی کھو دیتے ہیں۔ ان کے لیے ہر مشکل ایک جواز بن جاتی ہے، ہر رکاوٹ ایک بہانہ۔اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو سڑک کے ناہموار ہونے کے باوجود اپنی گرفت مضبوط رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر موڑ پر بریک کب لگانی ہے، رفتار کب کم کرنی ہے، اور کب ہمت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ وہ حالات کو الزام دینے کے بجائے اپنی مہارت کو بہتر بنانے پر توجہ دیتے ہیں۔زندگی بھی بالکل ایسی ہی ہے۔ہمیں ہر لمحہ مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم فوراً حل کر سکتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہماری بساط سے باہر ہوتے ہیں۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جہاں ہماری اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ یہاں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ مسئلہ کتنا بڑا ہے، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہم اس کے سامنے خود کو کتنا سنبھال پاتے ہیں۔اپنے ردعمل پر قابو رکھنا، اپنے جذبات کو متوازن رکھنا، اور مشکل حالات میں بھی اپنے ذہن کو پرسکون رکھنا—یہی وہ اصل صلاحیت ہے جو ایک مضبوط انسان کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔کیونکہ سچ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ حالات کو کنٹرول نہیں کر سکتے، لیکن ہم اپنے ردعمل کو ضرور کنٹرول کر سکتے ہیں۔اگر حالات خراب ہو جائیں تو یہ کہنا آسان ہے کہ “میرے مسائل ہی ایسے تھے کہ حل ممکن نہ تھا”، مگر اصل ہمت یہ ہے کہ انسان خود سے سوال کرے: “میں نے ان حالات میں خود کو کیسے سنبھالا؟”زندگی کی سڑک ہمیشہ ہموار نہیں ہوگی، مگر اگر ہماری گرفت مضبوط ہو، تو ہم ہر ناہمواری کو عبور کر سکتے ہیں۔مدیحہ انور
کب بولنا ہے… اور کب خاموش رہنا ہے؟یہ سوال جتنا سادہ لگتا ہے، زندگی میں اتنا ہی گہرا ہے۔اللہ کے آخری پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔۔”أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا”یعنی”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں، تو ہم انہیں دو عالی مرتبت اشخاص سے اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: “جو خاموش رہا، وہ فلاح پا گیا” جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بات کرنے کے معاملے میں قول ہے: “بولو تاکہ پہچانے جاؤ” تو پھر سوال یہ ہے کہ… کب بولیں؟ اور کب خاموش رہیں؟کیونکہ انسان کی پہچان اس کی گفتگو سے ہوتی ہے—الفاظ اس کے شعور، ظرف اور کردار کا آئینہ ہوتے ہیں۔اس لئے جب انسان بولتا ہے تو وہ درحقیقت اپنا تعارف کرا رہا ہوتا ہے چاہے وہ اپنے بارے میں گفتگو نہ بھی کر رہا ہو۔جبکہ اگر کوئی شخص اگر خاموش ہے اور وہ کسی محفل میں بات نہیں بھی کر رہا تویہ خاموشی اس کے کردار کی کمزوری کی نہیں، بلکہ حکمت کی علامت ہے۔تو کیسے تعین ہو کہ کب بولنا درست ہے اور کب خاموش رہنا صحیح۔۔۔ہمیں ان دونوں عظیم الشان ہستیوں کے اسوہ حسنہ سے پتا چلتا ہے کہ۔✔️ جب حق دبایا جا رہا ہو — بولو✔️ جب کسی کی عزت پر حرف آ رہا ہو — بولو✔️ جب سچ کہنا ضروری ہو — بولولیکن۔۔۔۔۔❌ جب بات صرف انا کی ہو اور اپنی ذات کی ہوتو — خاموش رہو❌ جب الفاظ کسی کا دل توڑ سکتے ہوں — خاموش رہو❌ جب بحث بے مقصد ہو — خاموش رہویاد رکھیں… ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، اور ہر بات کرنا بہادری نہیں ہوتا۔خاموشی اگر سچ چھپانے کے لیے ہو تو بزدلی ہے، اور اگر فتنے کو روکنے کے لیے ہو تو عبادت ہے۔آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کب بولنا چاہیے اور کب خاموش رہنا بہتر ہے؟مدیحہ انور#fikr_o_amal_ke_naqoosh #madihaanwar #silence #مدیحہ_انور #فکرو_عمل_کے_نقوش