آخر اچھے کردار کو کیسے پہچانا جائے۔۔۔؟

جدید زمانے کے جس دور میں ہم سانس لے رہے ہیں ‘ہر طرف مصنوعی چمک دمک ہے۔ہر کوئی نمائش میں مصروف ہے۔یعنی جس کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی کوشش میں ہے کہ کسی طرح میں اپنے اس حاصل سے دوسرے کو متاثر کر سکے یا نیچا دکھا سکے۔
یہ نمائش کسی بھی چیز کی ہو سکتی ہے…… کسی اعلی ادارے کی ڈگری کی،برانڈڈ کپڑوں کی  ،بیگز اور جوتوں کی۔۔۔۔حتی کی ہیر کلر کی  بھی۔۔۔۔۔
اور  کوئی اپنی لیٹیسٹ گاڑی پر نازاں ہے اور دوسروں کو یہ محسوس کرانا چاہتا ہے کہ دیکھو میرے پاس کیا اعلی اور مہنگی گاڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ کے دیئے ہوئے مال کو خرچ کرنے میں ہرگز کوئی برائی نہیں۔۔۔حدیث میں آتا ہے:
“إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ” (صحیح مسلم)
ترجمہ: “بے شک اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔”
لیکن یہ سب سے کم ظرفی اور لو آ ئی کیو لیول   کی نشانی ہے کہ انسان دوسرے شخص کو اپنی آسانی اور سہولت کے لئے حاصل کی گئی چیزوں سے متاثر کرنے کی کوشش کرے یا اس سے بھی دو قدم آگے جا کر دوسرے کو کم تر ثابت کرنے کی خواہش رکھے اور اس میں اپنی خوشی تلاش کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے لباس، گاڑی، گھر، بینک بیلنس یا ظاہری نمود و نمائش سے نہیں بلکہ اس کے علم، کردار اور اس علم پر عمل سے متعین ہوتی ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے انسانیت پر گہرے نقوش چھوڑے، انہیں ان کی دولت یا ظاہری شان و شوکت کی وجہ سے یاد نہیں رکھا گیا بلکہ ان کے علم، حکمت، اخلاق اور خدمت کی وجہ سے یاد رکھا گیا۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ” (سورۃ الزمر: 9)
ترجمہ: “کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟”
یہ آیت علم کی عظمت کو واضح کرتی ہے۔ اسلام نے علم کو انسان کی بلندی اور ترقی کا ذریعہ قرار دیا ہے، لیکن صرف علم کافی نہیں، بلکہ اس علم پر عمل بھی ضروری ہے۔ بے عمل علم ایسے چراغ کی مانند ہے جو دوسروں کو روشنی دے مگر خود اندھیرے میں رہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ” (المعجم الاوسط للطبرانی)
ترجمہ: “لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔”
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی فضیلت کا معیار اس کا دوسروں کے لیے نفع بخش ہونا ہے، نہ کہ اس کی ظاہری حیثیت یا مالی مقام۔
ایک شخص اعلیٰ ڈگریوں کا حامل ہو سکتا ہے لیکن اگر اس کے اخلاق خراب ہوں، وہ دوسروں کی تذلیل کرے، جھوٹ بولے اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرے تو اس کی تعلیم اس کے کردار کو بلند نہیں کر سکتی۔ اس کے برعکس ایک عام تعلیم یافتہ شخص، جو سچائی، دیانت داری، ہمدردی اور انصاف کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے، معاشرے میں کہیں زیادہ عزت اور احترام حاصل کرتا ہے۔
اسلام نے انسان کی عظمت کا اصل پیمانہ تقویٰ اور کردار کو قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ” (سورۃ الحجرات: 13)
ترجمہ: “بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔”
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا” (جامع ترمذی)
ترجمہ: “تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے سب سے قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے۔”
بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے دور نے ظاہری کامیابی کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے دی ہے۔ لوگ اپنی زندگی کے بہترین لمحات، قیمتی اشیاء اور آسائشیں دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں جبکہ کردار، اخلاق اور علم جیسی حقیقی خوبیاں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ نتیجتاً بہت سے لوگ دوسروں کی ظاہری چمک دمک دیکھ کر احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں، حالانکہ اصل کامیابی کا تعلق اندرونی شخصیت سے ہے، نہ کہ ظاہری سامان سے۔
ایک باکردار انسان جہاں بھی جاتا ہے عزت کماتا ہے۔ اس کی گفتگو میں شائستگی، رویّے میں نرمی، معاملات میں دیانت داری اور فیصلوں میں انصاف جھلکتا ہے۔ ایسے لوگ معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کے پاس چاہے دنیا کی بڑی دولت نہ ہو، لیکن ان کی عزت دلوں میں ہوتی ہے۔
زندگی کا مقصد دوسروں کو متاثر کرنا نہیں بلکہ خود کو بہتر انسان بنانا ہے۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ برانڈز، گاڑیاں اور مہنگی اشیاء وقتی چیزیں ہیں، جبکہ علم، اخلاق اور کردار ایسی دولت ہیں جو زندگی بھر انسان کے ساتھ رہتی ہیں اور مرنے کے بعد بھی انسان کے لیے صدقۂ جاریہ بن سکتی ہیں۔
آخر میں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ دنیا کی نگاہیں اکثر ظاہری چیزوں کو دیکھتی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ” (صحیح مسلم)
ترجمہ: “اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔”
لہٰذا اگر ہم واقعی کامیاب اور باعزت بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی توجہ ظاہری نمائش کے بجائے علم حاصل کرنے، اس پر عمل کرنے اور اپنے کردار کو سنوارنے پر مرکوز کرنی ہوگی۔ یہی وہ پیمانہ ہے جو انسان کی اصل قدر و قیمت متعین کرتا ہے، اور یہی وہ سرمایہ ہے جو ہر دور میں انسان کو بلند مقام عطا کرتا ہے۔

مدیحہ انور

Published by khalilmadihaanwar

مدیحہ انور ایک اردو لکھاری ہیں جو ادب، سماج اور احساسات پر لکھتی ہیں۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message
Log In