علم حاصل کرنا ہر دور میں ہی پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہےاور ہر ذی شعور انسان کی یہ کوشش رہی کہ وہ تعلیم حاصل کرے لیکن انٹرنیٹ کے اس دور میں جب ہر طرف معلومات کا سیلاب ہے ،گلی گلی سکول کھل چکے ہیں تو علم کا حصول ہماری زندگیوں کا جزو لا ینفک بن چکا ہے۔
ہر شخص کی خواہش ہے کہ اگر وہ پڑھ نہیں سکا تو کم از کم اس کی اولاد ضرور پڑھ لکھ جائے۔
کالج اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونا علم کی معراج سمجھ لیا گیا ہے۔
انسانی تاریخ کا یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ انسان علم حاصل کرنے میں تو بہت آگے بڑھ گیا ہے، مگر معلوم یوں ہوتا ہے کہ جیسے اس علم کو عمل میں ڈھالنے میں پیچھے رہ گیا ہے۔ جوں جوں کتابیں بڑھتی جا رہی ہیں، معلومات کے ذرائع وسیع ہو رہے ہیں،ویسے ویسےکردار اور عمل کی دنیا میں کمزوریاں پہلے سے مزید نمایاں ہو گئی ہیں۔ محض پڑھنا لکھنا سیکھ لینا ہی کا فی نہیں۔علم کا حاصل کر لینا منزل نہیں ہے بلکہ یہ ایک لمبے سفر کا زادراہ ہے۔ایک ایسا سفر جو کہ آسان ہرگز نہیں ہے
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں
گو کہ اس سفر کے راستے میں بہت سی کٹھنائیاں ہیں لیکن ہم مشکلات کو دیکھتے ہوئے ہم سفر کو ترک نہیں کر سکتے کیونکہ ان مشکل گھاٹیوں کے پار ہی ہمارے لئے آسانیاں ہیں۔
عمل کےبغیر علم کا حصول بے فائدہ ہے اور ایسے خزانے کی مانند ہے جس کی چابیاں تو ہمارے پاس ہیں لیکن ہم اس کو نہ کھولیں اور نہ ہی استعمال کریں بلکہ صرف دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوں کہ واہ ہمارے پاس کتنا قیمتی خزانہ ہے۔۔
علم اور عمل کے درمیان یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنے کے لیے اسلام نے ہمیشہ علم کے ساتھ عمل کو لازم قرار دیا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی جو علم رکھتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللّٰهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ
“اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں۔”
(سورۃ الصف 61:2-3)
یہ آیت دراصل انسان کو خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے۔ اسلام میں علم صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ ایسا شعور ہے جو انسان کے کردار اور رویوں کو بدل دے۔
اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے بھی ایک نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ
“قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے۔اور ان چار چیزوں میں سے ایک علم ہے کہ اس نے اس پر کتنا عمل کیا۔”
(جامع الترمذی، حدیث 2417)
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ علم ایک امانت ہے اور اس کا حقیقی حق تب ادا ہوتا ہے جب وہ انسان کے اعمال میں نظر آئے۔
جدید نفسیات بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ انسان کے علم اور عمل کے درمیان اکثر ایک خلا موجود ہوتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اسے “Intention–Behavior Gap” کہتے ہیں، یعنی انسان بہت سی اچھی باتیں جانتا ہے اور ان پر عمل کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے، مگر عملی زندگی میں وہ ارادہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
اس کی چند اہم وجوہات ہیں:
عادتوں کی طاقت: پرانی عادات نئی سوچ پر غالب آ جاتی ہیں۔
ماحولیاتی اثر: انسان کا ماحول اس کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔
فوری فائدے کی خواہش: انسان اکثر طویل مدتی فائدے کے بجائے فوری آسائش کو ترجیح دیتا ہے۔
اسلام دراصل اس نفسیاتی حقیقت کا علاج تربیت، محاسبۂ نفس اور نیت کی اصلاح کے ذریعے کرتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں محاسبۂ نفس کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ انسان جب اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے تو اس کے اندر اصلاح کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں علم آہستہ آہستہ عمل میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
اگر ہر انسان اپنے علم کا تھوڑا سا حصہ بھی اپنی زندگی میں نافذ کر لے تو نہ صرف اس کی اپنی شخصیت سنور سکتی ہے بلکہ معاشرہ بھی بہتر ہو سکتا ہے۔
درحقیقت علم سے عمل تک کا سفر ہی وہ راستہ ہے جہاں سے حقیقی اصلاح اور حقیقی کامیابی شروع ہوتی ہے۔
مدیحہ انور
