ہم عموماً حقوق کی بات کرتے ہیں تو والدین، اولاد، شریکِ حیات اور معاشرے کے حقوق یاد آتے ہیں؛ مگر اسلام نے ایک اور اہم حق بھی سکھایا ہے ،جس کو اکثر اوقات ہم بھول جاتے ہیں یا نظرانداز کر دیتے ہیں اور وہ ہے اپنی ذات کا حق۔ یہ خود غرضی نہیں کہ انسان اپنے آپ کا خیال رکھے، بلکہ توازن اور امانت داری ہے، کیونکہ جان، جسم اور وقت سب اللہ کی امانت ہیں۔
ہمارے دین میں تو عبادت میں بھی اعتدال کی راہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حضرت سلمان فارسیؓ نے حضرت ابو درداءؓ سے فرمایا:
“تمہارے رب کا تم پر حق ہے، تمہارے نفس کا تم پر حق ہے، تمہارے اہل کا تم پر حق ہے، پس ہر حق دار کو اس کا حق دو۔”
نبی اکرم ﷺ نے اس بات کی تائید فرمائی۔
(صحیح بخاری)
یہ تعلیم ہمیں سکھاتی ہے کہ عبادت بھی ایسی نہ ہو جو جسم اور رشتوں کے حقوق کو پامال کر دے۔تو یہ دنیاوی کاموں میں خود کو تکلیف دینے کے بارے میں کیسے کہہ سکتی ہے؟اسلام توازن کا دین ہے۔یعنی اگر آپ تھک جائیں یا بیمار ہو جائیں تو آرام کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اسلام توازن کا دین ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “تمہارے جسم کا تم پر حق ہے۔”
(صحیح بخاری)
اسی مفہوم کو Sunan Ibn Majah میں یوں بیان کیا گیا:
“مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے…”
(سنن ابن ماجہ)
یہاں “مضبوطی” صرف ایمان نہیں، جسمانی و ذہنی طاقت بھی ہے۔ صحت کی حفاظت عبادت کا حصہ ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے:
“اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو…”
(البقرہ 2:195)
اور ایک اور مقام پر فرمایا:
“اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔”
(النساء 4:29)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اپنی جان، ذہن اور دل کی حفاظت شرعی ذمہ داری ہے۔
نہ صرف جسم بلکہ اسلام ہمیں دل اور روح کا خیال کرنے کو بھی کہتا ہے۔اللہ تعالٰی قرآن کریم میں کہتا ہے:
“خبردار! اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔”
(الرعد 13:28)
دل کو سکون دینا، اس کی تھکن کو سمجھنا، اور ذکرِ الٰہی سے اسے مضبوط کرنا — یہ بھی اپنی ذات کا حق کا ہی ایک پہلو ہے۔
اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ ہم خود کو جلا کر دوسروں کے لیے چراغ بن جائیں۔ بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ اپنے رب، اپنے نفس، اپنے جسم اور اپنے رشتوں کے درمیان عدل قائم کریں۔اپنی ذات کو نظر انداز کرنا تقویٰ نہیں، بلکہ بعض اوقات ناانصافی ہے۔جو شخص خود متوازن ہو، وہی دوسروں کے حقوق بہتر ادا کر سکتا ہے۔
مدیحہ انور
فکر و عمل کے نقوش fikr o amal kay naqosh
