آج کے دور میں جبکہ موبائل فون، سوشل میڈیا اور مسلسل نوٹیفیکیشنز ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ ہم بظاہر دنیا سے جڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ہم میں سے اکثریت اس کوشش میں ہوتی ہے کہ جلدی جلدی ہم اپنا کام مکمل کریں تا کہ اپنا موبائل فون اٹھا سکیں ۔ چاہے ہمیں اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔اس کے نتیجے میں ہم آہستہ آہستہ اپنے اندر کے سکون سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔زندگی کے باقی معاملات میں میں ہمارا ارتکاز کم ہو رہا ہے ہر لمحہ اسکرین پر نظریں جمائے رکھنے سے نہ صرف ذہنی تھکن پیدا ہو رہی ہے بلکہ یہ چلن ہماری توجہ، نیند اور جذباتی توازن کو بھی متاثر کر رہا ہے ۔فون میں موجود نوٹیفیکیشنز کی گھنٹی مسلسل بجتی ریتی ہے ۔جس سے خواہ مخواہ ہی دماغ میں میں” جلدی کرو جلدی کرو” مچا رہتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے سب سے ضروری کام تو موبائل کا استعمال کرنا ہے باقی سب کام تو محض خانہ پوری ہیں ۔اس سے معاشرے میں بےچینی پیدا ہوچکی ہے اور ہم سب ہی ہر لمحہ ایک انجان دباؤ کا شکار ہیں ۔
پاکستان میں ذہنی امراض کی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں وزارت صحت کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 8 کروڑ سے زائد افراد مختلف نفسیاتی مسائل، بشمول انگزائٹی اور ڈپریشن کا شکار ہیں۔ یہ تعداد ملک کی کل آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ (تقریباً ایک تہائی سے زیادہ) بنتی ہے۔ یقینا اس کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال بھی اس انگزائٹی کی بہت بڑی وجہ ہے۔
۔ایسے میں “ڈیجیٹل ڈی ٹاکس” ایک ضرورت بن جاتا ہے،آئیے ہم مل کر اس ڈیجیٹل ڈی ٹاکس کا آغاز کرتے ہیں اس کو آپ چاہے تو”ڈیجیٹل صفائی” کہہ لیں ، “ڈیجیٹل وقفہ” کا نام دے لیں۔یا اس ڈیجیٹل دنیا سےعارضی کنارہ کشی کہہ لیں۔
کو چاہے کچھ بھی کہہ لیں لیکن اس کا مقصد کچھ وقت کے لیے موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال سے دور رہ کر ذہن اور زندگی کو سکون دیناہے۔
ڈیجیٹل ڈی ٹاکس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ ہم اس کے استعمال میں توازن پیدا کریں مثلا دن کا ایک مخصوص وقت موبائل سے دور گزاریں، سوشل میڈیا کی غیر ضروری اسکرولنگ کم کر کر دیں اور خود کو حقیقی دنیا کے لمحات سے جوڑیں جو ہمارے ذہنی سکون میں اضافہ کرے گا۔ جب ہم کچھ وقت خاموشی، کتاب، دعا، فطرت یا اپنے پیاروں کے ساتھ گزارتے ہیں تو دل و دماغ کو وہ سکون ملتا ہے جسے کوئی اسکرین فراہم نہیں کر سکتی۔
ذہنی سکون دراصل اندرونی ترتیب کا نام ہے۔ جب ہم مسلسل معلومات کے سیلاب میں گھرے رہتے ہیں تو ہمارے خیالات بکھر جاتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے ڈیجیٹل دنیا سے فاصلے ہمیں اپنے جذبات کو سمجھنے، اپنی ترجیحات کو ترتیب دینے اور اپنی ذات سے دوبارہ جڑنے کا موقع دیتے ہیں۔ یہ وقفہ ہماری تخلیقی صلاحیت، صبر اور مثبت سوچ کو بھی مضبوط کرتا ہے۔
آئیے آج ہی سے ایک چھوٹی سی کوشش کریں: سونے سے ایک گھنٹہ پہلے موبائل بند کریں، صبح اٹھتے ہی سوشل میڈیا دیکھنے کے بجائے اپنے دن کا آغاز سکون سے کریں، اور ہفتے میں ایک دن خود کو ڈیجیٹل شور سے آزاد رکھیں۔ یاد رکھیں، ذہنی سکون کسی ایپ میں نہیں، بلکہ ہمارے اپنے رویّوں اور عادات میں پوشیدہ ہے۔
کیونکہ کبھی کبھی خاموشی ہی سب سے خوبصورت گفتگو ہوتی ہے۔
مدیحہ انور
