
کب بولنا ہے… اور کب خاموش رہنا ہے؟یہ سوال جتنا سادہ لگتا ہے، زندگی میں اتنا ہی گہرا ہے۔اللہ کے آخری پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔۔”أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا”یعنی”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں، تو ہم انہیں دو عالی مرتبت اشخاص سے اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: “جو خاموش رہا، وہ فلاح پا گیا” جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بات کرنے کے معاملے میں قول ہے: “بولو تاکہ پہچانے جاؤ” تو پھر سوال یہ ہے کہ… کب بولیں؟ اور کب خاموش رہیں؟کیونکہ انسان کی پہچان اس کی گفتگو سے ہوتی ہے—الفاظ اس کے شعور، ظرف اور کردار کا آئینہ ہوتے ہیں۔اس لئے جب انسان بولتا ہے تو وہ درحقیقت اپنا تعارف کرا رہا ہوتا ہے چاہے وہ اپنے بارے میں گفتگو نہ بھی کر رہا ہو۔جبکہ اگر کوئی شخص اگر خاموش ہے اور وہ کسی محفل میں بات نہیں بھی کر رہا تویہ خاموشی اس کے کردار کی کمزوری کی نہیں، بلکہ حکمت کی علامت ہے۔تو کیسے تعین ہو کہ کب بولنا درست ہے اور کب خاموش رہنا صحیح۔۔۔ہمیں ان دونوں عظیم الشان ہستیوں کے اسوہ حسنہ سے پتا چلتا ہے کہ۔✔️ جب حق دبایا جا رہا ہو — بولو✔️ جب کسی کی عزت پر حرف آ رہا ہو — بولو✔️ جب سچ کہنا ضروری ہو — بولولیکن۔۔۔۔۔❌ جب بات صرف انا کی ہو اور اپنی ذات کی ہوتو — خاموش رہو❌ جب الفاظ کسی کا دل توڑ سکتے ہوں — خاموش رہو❌ جب بحث بے مقصد ہو — خاموش رہویاد رکھیں… ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، اور ہر بات کرنا بہادری نہیں ہوتا۔خاموشی اگر سچ چھپانے کے لیے ہو تو بزدلی ہے، اور اگر فتنے کو روکنے کے لیے ہو تو عبادت ہے۔آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کب بولنا چاہیے اور کب خاموش رہنا بہتر ہے؟مدیحہ انور#fikr_o_amal_ke_naqoosh #madihaanwar #silence #مدیحہ_انور #فکرو_عمل_کے_نقوش
