The Princess and Her Puppy – A Magical Coloring Adventure for Kids

✨ More Than a Coloring Book — A Magical Adventure!

Step into a delightful world of imagination with The Princess and Her Puppy!

Meet a lovely princess and her adorable fluffy puppy as they explore beautiful gardens, magical places, and wonderful friendships.

This coloring book includes 31 pages of fun and creativity, designed to inspire little artists to color, create, and imagine.

What’s Inside?

– 31 pages of coloring fun
– A charming princess and her fluffy puppy
– Beautiful gardens and magical adventures
– Cute animals and nature-inspired scenes

Ready for a Magical Adventure?

Discover the book on Amazon and bring this delightful coloring adventure home!

🛒 Explore the Book on Amazon:

https://a.co/d/05iVSOWh

Created with love by Madiha Anwar Khalil.

دردمندی (Empathy): انسان کو انسان بنانے والی صفت — اسلامی تعلیمات اور عصرِ حاضر کی روشنی میں

انسان اگر کبھی غور کرے تو بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ اس انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں ہم جتنے ہر شخص کے حالات سے آگاہ نظر آتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب کے بارے میں علم ہے ۔ اب چاہے وہ خاندان کے افراد  ہوں یا کوئی  قومی یا بین الاقوامی شخصیات ہمیں سب پتہ ہوتا ہے ،کون کہاں سے آ رہا ہے ، کہاں جا رہا ہے،کیا پہن رہا ہے،کیا کھا رہا ہے ،وہ خوش ہے کہ دکھی ۔۔۔غرض کہ ہمیں ہر چیز کا علم ہوتا ہے  لیکن کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ بظاہر ہم پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مگر شاید پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے دور بھی؟
موبائل کی ایک اسکرین پر دنیا بھر کے حالات ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔ کسی شہر میں کوئی حادثہ ہو، کہیں جنگ چھڑ جائے، کوئی شخص اپنی بیماری یا پریشانی بیان کرے یا کسی گھر کا دکھ سوشل میڈیا پر سامنے آئے، ہم چند لمحوں میں سب کچھ دیکھ لیتے ہیں۔ ہم افسوس کرتے ہیں، کوئی تبصرہ لکھتے ہیں، کبھی پوسٹ شیئر کرتے ہیں اور پھر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
لیکن کیا ہم نے واقعی اس انسان کے درد کو محسوس کیا؟
یہ سوال ہمیں Empathy یعنی دردمندی کی طرف لے جاتا ہے۔
دردمندی صرف کسی کے دکھ پر افسوس کرنے کا نام نہیں۔ یہ اس کوشش کا نام ہے جس میں ہم چند لمحوں کے لیے خود کو دوسرے کی جگہ رکھ کر سوچتے ہیں کہ وہ کس کیفیت سے گزر رہا ہوگا۔ شاید آج کے دور میں ہمیں اسی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
Empathy کے لیے اردو میں دردمندی، ہم دلی اور ہم احساسی جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ عام طور پر اسے ہمدردی بھی کہا جاتا ہے، لیکن ہمدردی اور دردمندی میں ایک باریک سا فرق ہے۔ ہمدردی میں ہم دوسرے کے کو دیکھ کر کہتے ہیں: “مجھے آپ کے لیے افسوس ہے۔” دردمندی میں ہم اس سے کچھ آگے بڑھتے ہیں: “میں شاید پوری طرح نہیں جانتا کہ آپ پر کیا گزر رہی ہے، لیکن میں اسے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔”
یہ معمولی سا فرق بظاہر چھوٹا ہے، مگر انسانی رشتوں میں بہت معنی رکھتا ہے۔ کیونکہ ہر انسان ہمیشہ مشورہ نہیں چاہتا۔ کبھی کبھی وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ کوئی اسے سمجھے اور اس کی بات پوری توجہ سے سن لے۔
فرض کریں کوئی شخص اپنے کسی عزیز کو کھو دینے کے بعد آپ کے سامنے بیٹھا رو رہا ہے۔ آپ اس سے کہیں: “اللہ صبر دے، وقت سب ٹھیک کر دے گا۔” یہ ایک اچھی دعا ہے، لیکن ممکن ہے اس لمحے اسے “سب ٹھیک ہو جائے گا” سننے کی ضرورت نہ ہو۔ شاید اسے صرف کسی ایسے شخص کی ضرورت ہو جو اس کے ساتھ بیٹھے اور کہے: “میں جانتا ہوں یہ بہت مشکل وقت ہے۔ اگر آپ بات کرنا چاہتے ہیں تو میں سن رہا ہوں۔”
یہاں دردمندی کا اصل حسن سامنے آتا ہے۔ دردمندی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دوسرے کا مسئلہ اپنے سر لے لیں یا اس کے ہر فیصلے سے اتفاق کریں۔ اس کا مطلب ہے کہ فیصلہ سنانے سے پہلے انسان کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
اگر ہم قرآنِ مجید اور سیرتِ نبوی ﷺ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسروں کے دکھ کا احساس کوئی نیا یا جدید تصور نہیں۔ اسلامی تعلیمات میں رحمت، شفقت، ایثار، عدل اور انسانی احساس بنیادی اخلاقی اقدار میں شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرمایا:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
“اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔” (الانبیاء: 107)
رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دی گئی۔ ایک اور مقام پر فرمایا:
عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
“تمہاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں اور اہلِ ایمان کے لیے نہایت شفیق، مہربان ہیں۔” (التوبہ: 128)
“عزیزٌ علیہ ما عنتم” کے الفاظ خاص طور پر دل کو چھوتے ہیں۔ یعنی لوگوں کی تکلیف رسول اللہ ﷺ پر گراں گزرتی تھی۔ یہی تو دردمندی ہے۔ کسی دوسرے کے دکھ کو صرف دیکھنا نہیں، بلکہ اس دکھ کو اپنے دل پر محسوس کرنا۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ کسی کو سیدھی بات بتا دینا ہی اصلاح ہے، مگر قرآن ہمیں ایک اور حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ
“اور اگر آپ سخت مزاج، سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے۔” (آل عمران: 159)
بات درست ہو، لیکن لہجہ ایسا ہو کہ سامنے والا سننے سے ہی انکار کر دے تو فائدہ کیا؟ کبھی ایک نرم جملہ وہ کام کر دیتا ہے جو لمبی نصیحت نہیں کر پاتی۔ دردمندی ہمیں صرف یہ نہیں سکھاتی کہ کیا کہنا ہے، بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ کب، کیسے اور کس لہجے میں کہنا ہے۔
قرآنِ مجید انصارِ مدینہ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے:
وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ
“اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود انہیں سخت ضرورت ہو۔” (الحشر: 9)
یہاں دردمندی محض احساس نہیں رہتی، عمل بن جاتی ہے۔ کسی بھوکے کو دیکھ کر اس کے لیے افسوس کرنا ایک بات ہے، اور اپنے کھانے میں سے اس کے لیے حصہ نکال دینا دوسری بات۔ کسی پریشان شخص کی مشکل سننا اچھی بات ہے، مگر اپنی سہولت میں سے کچھ وقت نکال کر اس کا ہاتھ تھام لینا اس احساس کو معنی دے دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں ہمیں دردمندی کسی نظریے کی طرح نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے رویے کے طور پر نظر آتی ہے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے نماز لمبی کرنے کا ارادہ کیا، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کر دی، کیونکہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ بچے کے رونے سے اس کی ماں کو کس قدر پریشانی ہوگی۔ (صحیح بخاری)
ذرا اس پہلو پر غور کیجیے۔ نماز جیسی عظیم عبادت میں بھی ایک ماں کے احساس کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ دوسروں کے حالات کا خیال رکھنا اسلام میں کوئی معمولی اخلاقی خوبی نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے، مگر ہم وہی کہیں گے جو ہمارے رب کو پسند ہو۔” (صحیح بخاری)
یہ حدیث ہمارے لیے بہت خوب صورت سبق رکھتی ہے۔ غم آنا ایمان کی کمزوری نہیں۔ آنکھوں میں آنسو آ جانا بھی کمزوری نہیں۔ انسان کا دل ہے تو وہ دکھے گا بھی۔ اسلام ہمیں جذبات سے خالی انسان بننے کا نہیں، بلکہ اپنے جذبات کو ایمان اور صبر کے ساتھ سنبھالنے کا درس دیتا ہے۔
ایک نوجوان رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور ایک سنگین گناہ کی اجازت مانگی۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اسے روکنے لگے، مگر رسول اللہ ﷺ نے اسے قریب بلایا۔ آپ ﷺ نے اس سے سوال کیا کہ کیا وہ یہی چیز اپنی ماں، بیٹی یا بہن کے لیے پسند کرے گا؟ اس نے ہر مرتبہ جواب دیا: نہیں۔ گفتگو کے اختتام پر رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ (مسند احمد)
اس واقعے میں اصلاح کا ایک ایسا انداز نظر آتا ہے جو آج بھی ہمارے لیے قابلِ غور ہے۔ نوجوان کو ذلیل نہیں کیا گیا۔ اس پر چیخا نہیں گیا۔ اسے صرف گناہ گار کہہ کر دور نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے ذہن تک پہنچنے کی کوشش کی گئی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ بات اس کے دل تک پہنچی۔
رسول اللہ ﷺ نے مومنوں کے باہمی تعلق کو ایک جسم سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جب جسم کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار کے ذریعے اس تکلیف میں شریک ہو جاتا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
کتنی گہری مثال ہے۔ اگر ایک انسان تکلیف میں ہے اور باقی معاشرہ بالکل بے خبر ہے تو ہم جسم کے ان اعضا کی طرح ہیں جو ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہوں۔ اسلام ہمیں اس کے برعکس ایک ایسا معاشرہ بنانا چاہتا ہے جہاں دوسرے کی تکلیف ہمیں بے چین کرے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ
“جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ہماری زندگی میں ترقی ضرور ہوئی ہے، مگر ضروری نہیں کہ ہماری روح نے بھی ترقی کی ہے۔سوشل میڈیا نے ہمیں دوسروں کی زندگیوں تک پہنچا دیا ہے۔ ہم کسی کی بیماری، غربت، تنہائی یا گھریلو پریشانی چند سیکنڈ میں دیکھ سکتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب دکھ بہت زیادہ دکھائی دینے لگے تو کبھی کبھی دل اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ ایک خبر ختم نہیں ہوتی کہ دوسری خبر سامنے آ جاتی ہے۔ ایک حادثہ دیکھتے ہیں، پھر اگلی پوسٹ پر چلے جاتے ہیں۔
یہ مسلسل جذباتی دباؤ انسان میں compassion fatigue یعنی احساس کی تھکن پیدا کر سکتا ہے۔ ایسے میں دردمندی کا مطلب ہر خبر پر ٹوٹ جانا نہیں، بلکہ یہ یاد رکھنا ہے کہ ہر خبر کے پیچھے ایک انسان ہے۔
ذہنی دباؤ، اضطراب یا پریشانی سے گزرنے والے شخص سے ہم اکثر فوراً کہتے ہیں: “مثبت سوچو۔””اتنا مت سوچو۔””اللہ پر بھروسہ کرو۔” یہ باتیں اپنی جگہ درست ہو سکتی ہیں، لیکن کبھی وقت اور موقع بھی اہم ہوتا ہے۔ جو شخص اندر سے ٹوٹ رہا ہو، اسے شاید پہلے یہ سننے کی ضرورت ہو: “میں تمہیں سن رہا ہوں۔” یا “تمہیں جو محسوس ہو رہا ہے، اسے میں معمولی نہیں سمجھتا۔”
دردمند انسان ہر مسئلے کا حل اپنے پاس ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ وہ اتنا جانتا ہے کہ کسی کو تنہا محسوس نہ ہونے دینا بھی ایک طرح کی مدد ہے۔
بعض اوقات گھر کے اندر فاصلے کسی بڑے جھگڑے سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو نہ سمجھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ بچہ کچھ کہنا چاہتا ہے اور والدین فوراً فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ شوہر یا بیوی اپنے دن کی پریشانی بیان کرنا چاہتے ہیں اور سامنے والا فوراً حل بتانے لگتا ہے۔ کبھی ہمیں حل سے پہلے صرف سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اپنے بچے سے یہ پوچھنا: “تم ایسا کیوں محسوس کر رہے ہو؟” شاید اس کے لیے “تم غلط ہو” سننے سے کہیں زیادہ قیمتی ہو۔ دردمندی کا مطلب غلط کو صحیح کہنا نہیں، بلکہ غلطی کرنے والے انسان کو بھی انسان سمجھنا ہے۔
ہم ایک ایسے زمانے میں رہ رہے ہیں جہاں اختلاف بہت جلد دشمنی بن جاتا ہے۔ سیاسی اختلاف ہو یا مذہبی، سماجی ہو یا نظریاتی، ہم اکثر دوسرے شخص کی بات سمجھنے سے پہلے اسے غلط ثابت کرنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔ دردمندی اختلاف ختم نہیں کرتی۔ یہ صرف اتنا سکھاتی ہے کہ “میں تم سے اختلاف کر سکتا ہوں، لیکن تمہیں سمجھنے کی کوشش بھی کر سکتا ہوں۔”
قرآن ہمیں عدل کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے:
وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ
“کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔” (المائدہ: 8)
یہاں اسلام ہمیں ایک اہم توازن دیتا ہے۔ دردمندی کا مطلب یہ نہیں کہ جس سے محبت ہو، صرف اسی کا درد محسوس کیا جائے۔ احساس کے ساتھ عدل بھی ضروری ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا بہت زیادہ دردمندی نقصان دہ ہو سکتی ہے؟ اگر ہم ہر انسان کا ہر دکھ اپنے دل پر اٹھا لیں تو شاید خود ہی ٹوٹ جائیں۔ دوسروں کی مدد کرنا اچھی بات ہے، لیکن اپنی حدود کو پہچاننا بھی ضروری ہے۔ ہر مسئلہ حل کرنا ہماری ذمہ داری نہیں اور ہر شخص کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانا بھی ممکن نہیں۔
دردمندی کا مطلب یہ ہے کہ جہاں ہماری مدد ممکن ہو وہاں ہاتھ بڑھائیں، جہاں صرف سننے کی ضرورت ہو وہاں سنیں، اور جہاں ہماری حدود ختم ہوتی ہوں وہاں خود کو بھی سنبھالیں۔ کیونکہ ایک تھکا ہوا دل زیادہ دیر تک کسی دوسرے کے لیے سہارا نہیں بن سکتا۔
دردمندی پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ کسی بڑی قربانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی اس کا آغاز روزمرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہوتا ہے۔ سامنے والے کی بات مکمل ہونے دیں۔ ہر گفتگو کو بحث میں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہر دکھ کا جواب نصیحت نہیں ہوتا۔ کبھی خاموشی سے ساتھ بیٹھنا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
اپنے آپ سے پوچھیں کہ اگر یہی حالات آپ کے ساتھ ہوتے تو آپ کیا محسوس کرتے؟ لوگوں کے بارے میں جلدی فیصلہ نہ کریں۔ ہم کسی انسان کی پوری کہانی نہیں جانتے۔ جو رویہ ہمیں برا لگ رہا ہے، اس کے پیچھے کوئی ایسی وجہ بھی ہو سکتی ہے جس سے ہم ناواقف ہیں۔
اچھا ادب، سوانح، تاریخ اور سیرت انسان کو اپنے محدود تجربے سے باہر نکل کر دوسروں کی زندگیوں کو سمجھنے کا موقع دیتے ہیں۔ کسی کی بات سن لینا، کسی ضرورت مند کی مدد کر دینا، کسی بیمار کی عیادت کرنا یا کسی غم زدہ شخص کے لیے دعا کرنا—یہ سب دردمندی کی عملی صورتیں ہیں۔
اسی طرح سوشل میڈیا سے مناسب وقفہ لینا بھی ضروری ہے۔ دنیا کے ہر دکھ کو ہر وقت اپنے اندر اتار لینا ضروری نہیں۔ اپنے دل کو بھی آرام چاہیے۔
ہماری دنیا میں معلومات کی کمی نہیں۔ ہم ہر موضوع پر پڑھ سکتے ہیں، ہر خبر جان سکتے ہیں اور چند سیکنڈ میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن شاید مسئلہ معلومات کا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھنے میں کتنی دلچسپی رکھتے ہیں۔
قرآن ہمیں رحمت سکھاتا ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں نرم دلی، شفقت، ایثار اور انسان کے احساس کا احترام سکھاتی ہے۔ جدید نفسیات اسے Empathy کہتی ہے۔ نام مختلف ہے، مگر بات ایک ہی ہے: دوسرے انسان کو صرف دیکھنا نہیں، اسے سمجھنے کی کوشش کرنا۔
شاید کسی کے لیے ہماری سب سے بڑی نیکی یہ ہو کہ ہم اسے بغیر فیصلہ سنائے سن لیں۔ شاید کسی کے لیے ہماری سب سے بڑی مدد یہ ہو کہ ہم اس کے دکھ کو معمولی نہ سمجھیں۔ اور شاید کسی کے لیے ہماری سب سے بڑی انسانیت یہی ہو کہ ہم اسے یہ احساس دلا دیں: “تم اکیلے نہیں ہو۔”
کیونکہ علم ہمیں بہت کچھ سکھا سکتا ہے، مگر دردمندی ہی وہ صفت ہے جو علم کو انسانیت میں بدلتی ہے۔

دردمندی (Empathy) کی اہمیت اور اسلامی تعلیمات
دردمندی (Empathy) کی اہمیت اور اسلامی تعلیمات

ڈگری بمقابلہ ہنر: کامیابی کے لیے آج کیا زیادہ ضروری ہے؟

تحریر: مدیحہ انور خلیل

ڈگری بمقابلہ ہنر: کامیابی کے لیے آج کیا زیادہ ضروری ہے؟



ایک وقت تھا جب میٹرک یا بی اے کی ڈگری بھی معزز نوکری اور روشن مستقبل کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ والدین پیٹ کاٹ کر بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلاتے تھے تاکہ وہ معاشرے میں سر اٹھا کر جی سکیں اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکیں۔ ڈگری صرف تعلیم کی علامت نہیں تھی بلکہ عزت، قابلیت اور کامیابی کا ایک معتبر حوالہ بھی سمجھی جاتی تھی۔ لیکن آج منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ یونیورسٹیوں سے اعلیٰ نمبروں اور ڈگریوں کے ساتھ نکلنے والے نوجوان ملازمتوں کی تلاش میں پریشان دکھائی دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں نہیں، مگر اپنے ہنر کی بدولت وہ اچھی آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ یہی بدلتی ہوئی صورتِ حال ہمیں ایک اہم سوال کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے: کیا واقعی جدید دور میں ڈگری کی اہمیت ختم ہو چکی ہے، یا کامیابی کے لیے ہنر زیادہ ضروری ہو گیا ہے؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈگری محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں۔ تعلیم انسان کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یونیورسٹی اور کالج کا ماحول انسان کو نظم و ضبط، تحقیق، گفتگو، اختلافِ رائے کو سمجھنے، لوگوں سے تعلق قائم کرنے اور مسائل کو ایک منظم انداز میں حل کرنے کا شعور دیتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم انسان کے ذہنی افق کو وسیع کرتی ہے اور اسے مختلف نظریات، خیالات اور علوم سے روشناس کراتی ہے۔ اس لیے ڈگری کو مکمل طور پر غیر ضروری قرار دینا بھی درست نہیں۔ بہت سے شعبے ایسے ہیں جہاں باقاعدہ تعلیمی قابلیت کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، استاد اور کئی دوسرے پیشوں کے لیے مخصوص تعلیمی اسناد اور تربیت بنیادی ضرورت ہیں۔

تاہم مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ڈگری کو قابلیت کا آخری پیمانہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ جدید دنیا میں ملازمت اور کاروبار کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ آج بہت سے شعبوں میں ادارے صرف یہ نہیں دیکھتے کہ امیدوار نے کہاں سے تعلیم حاصل کی ہے، بلکہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ عملی طور پر کیا کر سکتا ہے۔ گرافک ڈیزائننگ، پروگرامنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، کنٹینٹ رائٹنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیٹا اینالٹکس اور دیگر کئی شعبوں میں عملی مہارت کی اپنی ایک الگ قدر ہے۔ یہاں ایک مضبوط پورٹ فولیو بعض اوقات محض ایک ڈگری سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ پورٹ فولیو یہ دکھاتا ہے کہ انسان نے جو کچھ سیکھا ہے، اسے عملی طور پر استعمال بھی کر سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان اگر صرف ڈگری حاصل کرنے پر اکتفا کرے اور اپنی عملی صلاحیتوں کو نظر انداز کر دے تو تعلیم اور روزگار کے درمیان ایک خلا پیدا ہو سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ مسئلہ اس لیے بھی نمایاں ہے کہ ہم نے طویل عرصے تک تعلیم کا مقصد صرف اچھی ملازمت حاصل کرنا سمجھا۔ بچے اسکول سے یونیورسٹی تک نمبروں کی دوڑ میں شامل رہتے ہیں، مگر اس دوران ان کی تخلیقی صلاحیت، عملی تجربہ اور بدلتی ہوئی دنیا کی ضروریات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت اکثر پسِ پشت چلی جاتی ہے۔

دوسری طرف یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ہر بے روزگار گریجویٹ کی مشکل کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس کے پاس ہنر نہیں۔ روزگار کے مواقع، معاشی حالات، صنعت کی طلب، تجربے کی کمی اور تعلیمی نظام سمیت بہت سے عوامل کسی فرد کے کیریئر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے مسئلے کو صرف “ڈگری بمقابلہ ہنر” کی دوئی میں دیکھنا شاید درست تصویر پیش نہ کرے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم انسان کو علم بھی دے اور اسے عملی زندگی کے لیے تیار بھی کرے۔

ہمیں اپنے تعلیمی رویے پر بھی غور کرنا ہوگا۔ اگر ایک طالب علم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہا ہے تو اسے صرف امتحانات میں اچھے نمبر لینے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اسے اپنی تعلیم کے ساتھ کوئی عملی ہنر سیکھنے، انٹرن شپ کرنے، چھوٹے منصوبوں پر کام کرنے اور اپنے کام کا پورٹ فولیو بنانے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ اسی طرح والدین کو بھی بچوں کے مستقبل کا فیصلہ صرف روایتی پیشوں کی بنیاد پر نہیں کرنا چاہیے۔ ہر بچہ ڈاکٹر، انجینئر یا سرکاری افسر بننے کے لیے پیدا نہیں ہوتا۔ کسی میں لکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے، کوئی ٹیکنالوجی میں بہتر ہوتا ہے، کوئی فنون میں، کوئی کاروبار میں اور کوئی لوگوں کے ساتھ کام کرنے میں۔ بچے کی صلاحیت کو پہچاننا اور اسے درست سمت میں پروان چڑھانا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔

اصل کامیابی شاید ڈگری یا ہنر میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے میں نہیں، بلکہ دونوں کو ایک دوسرے کا معاون بنانے میں ہے۔ ڈگری ہمیں علم، بنیاد اور فکری وسعت دے سکتی ہے، جبکہ ہنر اس علم کو عملی زندگی میں استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ تعلیم اگر سمت متعین کرتی ہے تو ہنر اس سمت میں آگے بڑھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

آج کے دور میں صرف ڈگری کا ہونا شاید کافی نہ ہو، لیکن ڈگری کی اہمیت کو مکمل طور پر ختم سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ڈگری کو منزل نہیں بلکہ سفر کا ایک حصہ سمجھیں اور اس کے ساتھ اپنی عملی صلاحیتوں کو بھی مسلسل بہتر بناتے رہیں۔ کیونکہ آنے والی دنیا میں شاید سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ “آپ نے کیا پڑھا ہے؟” بلکہ یہ بھی پوچھا جائے گا کہ “آپ جو جانتے ہیں، اسے عملی طور پر کیا کر سکتے ہیں؟”

شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ڈگری اور ہنر ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے تکمیل کنندہ بن جاتے ہیں۔

ڈگری بمقابلہ ہنر، ڈگری یا ہنر، جدید دور میں ہنر کی اہمیت، تعلیم اور ہنر، نوجوانوں کا مستقبل، روزگار اور ہنر

انسان کیوں نہیں بدلتا؟ — سعادت حسن منٹو کے قول پر ایک فکری نظر

انسان کیوں نہیں بدلتا؟

کبھی کبھی ہم کسی بات کو اتنی بار سنتے ہیں کہ لگتا ہے اب اس سے زیادہ واضح بات اور کیا ہوگی۔
سچ بولنا چاہیے، کسی کا حق نہیں مارنا چاہیے، چوری نہیں کرنی چاہیے، دھوکا نہیں دینا چاہیے، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنی چاہیے۔

ہم یہ سب جانتے ہیں۔

پھر سوال یہ ہے کہ جاننے کے باوجود انسان بدلتا کیوں نہیں؟

سعادت حسن منٹو کا ایک قول اسی سوال کو بڑی سادگی، مگر گہری معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے رکھتا ہے:

«”اگر ایک ہی بار جھوٹ نہ بولنے اور چوری نہ کرنے کی تلقین کرنے پر ساری دنیا جھوٹ اور چوری سے پرہیز کرتی تو شاید ایک ہی پیغمبر کافی ہوتا۔”»

منٹو کا یہ جملہ پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں سب سے پہلے یہی سوال آتا ہے کہ آخر انسان کو ایک ہی بات بار بار کیوں سمجھانی پڑتی ہے؟

شاید اس لیے کہ انسان صرف عقل سے نہیں بدلتا۔

وہ جانتا ہے کہ جھوٹ بری چیز ہے، مگر کبھی اپنا فائدہ اسے سچ سے زیادہ عزیز لگنے لگتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ کسی کا حق مارنا غلط ہے، مگر خواہش، لالچ یا ضرورت کے سامنے اصول کمزور پڑ جاتے ہیں۔
وہ دوسروں کو سچائی کا درس دیتا ہے، لیکن جب وہی امتحان اس کی اپنی ذات پر آتا ہے تو معاملہ بدل جاتا ہے۔

یہ انسانی فطرت کا ایک عجیب پہلو ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیاں بہت جلد دیکھ لیتے ہیں، مگر اپنی غلطیوں کے لیے ہمارے پاس بے شمار جواز موجود ہوتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں:

“مجبوری تھی۔”

“سب ہی تو ایسا کرتے ہیں۔”

“میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔”

اور یوں انسان اپنے ضمیر کو خاموش کرنے کے لیے الفاظ کا سہارا لے لیتا ہے۔

شاید اصل تبدیلی اسی وقت شروع ہوتی ہے جب انسان اپنے لیے بنائے ہوئے ان جوازوں کو پہچان لیتا ہے۔

صرف جاننا کافی نہیں

ہماری زندگی میں ایسی کتنی ہی باتیں ہیں جو ہمیں معلوم ہیں، مگر ہماری عادتوں کا حصہ نہیں بن پاتیں۔

ہم جانتے ہیں کہ غصہ نقصان دیتا ہے، پھر بھی غصہ کرتے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ معافی دل کو ہلکا کرتی ہے، پھر بھی برسوں ناراضی سنبھالے رکھتے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ وقت قیمتی ہے، پھر بھی اسے معمولی چیزوں میں ضائع کر دیتے ہیں۔

اس کا مطلب شاید یہ ہے کہ علم راستہ دکھا سکتا ہے، لیکن راستے پر چلنے کا فیصلہ انسان کو خود کرنا پڑتا ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں نصیحت، عمل میں تبدیل ہوتی ہے۔

انسان کو بار بار یاد دہانی کیوں چاہیے؟

شاید اس لیے کہ انسان بھولنے والی مخلوق ہے۔

وہ اچھی بات سنتا ہے، متاثر ہوتا ہے، کچھ دیر سوچتا ہے اور پھر روزمرہ کی مصروفیات اسے دوبارہ وہیں لے آتی ہیں جہاں سے وہ چلا تھا۔

اسی لیے اچھی بات کا بار بار دہرایا جانا بے معنی نہیں۔

ایک نصیحت شاید ذہن تک پہنچتی ہے،
دوسری دل پر دستک دیتی ہے،
اور کبھی تیسری یا چوتھی بار وہی بات انسان کے اندر کوئی تبدیلی پیدا کر دیتی ہے۔

لیکن شرط یہ ہے کہ انسان سننے سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو دیکھنے پر آمادہ ہو۔

دوسروں کو بدلنے سے پہلے

ہم اکثر چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر والے بدل جائیں، معاشرہ بدل جائے، لوگ سچ بولنے لگیں، دوسروں کے رویے بہتر ہو جائیں۔

لیکن شاید سب سے مشکل سوال یہ نہیں کہ “دوسرے کیوں نہیں بدلتے؟”

بلکہ یہ ہے:

“میں خود کہاں بدلنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں؟”

اگر ہم ہر نصیحت کو دوسروں کے لیے سمجھنے کے بجائے کبھی اپنے لیے بھی سنیں تو شاید بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

انسان کا سب سے مشکل سفر باہر کی دنیا سے اپنے اندر کی دنیا تک کا سفر ہے۔

اور اس سفر میں کوئی دوسرا ہمارے قدم نہیں اٹھا سکتا۔

راستہ دکھایا جا سکتا ہے،
سمجھایا جا سکتا ہے،
یاد دلایا جا سکتا ہے،
مگر چلنا خود پڑتا ہے۔

شاید اسی لیے ہمیں اچھی بات بار بار سننے کی ضرورت رہتی ہے۔

اور شاید اسی لیے ایک پیغام کے بعد دوسرا پیغام آتا رہا، تاکہ انسان کو بار بار یاد دلایا جا سکے کہ اصل کامیابی صرف یہ جان لینا نہیں کہ سچ کیا ہے، بلکہ سچ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لینا ہے۔

آخر میں سوال پھر وہی رہ جاتا ہے:

انسان کیوں نہیں بدلتا؟

شاید اس لیے کہ بدلنے کے لیے صرف بات کا سمجھ میں آ جانا کافی نہیں۔۔۔
انسان کو اپنے اندر سے بدلنے پر آمادہ ہونا پڑتا ہے۔

اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں فکر، عمل بن جاتی ہے۔

— فکرو عمل کے نقوش

تحریر: مدیحہ انور خلیل

انسان کیوں نہیں بدلتا؟ — سعادت حسن منٹو کے قول پر ایک فکری نظر

مدیحہ انور خلیل کی کہانی “پریتم ایسی پریت نہ کریو/Letters to Nobody

Letters to Nobody میں مدیحہ انور خلیل کی نئی کہانی — “پریتم ایسی پریت نہ کریو”

الحمدللہ!
ایک اور کہانی کتاب کے صفحات میں اپنا مقام بنا گئی۔ 📖✨

میری نئی کہانی “پریتم ایسی پریت نہ کریو” ادبی مجموعے Letters to Nobody میں شامل ہو کر قارئین تک پہنچ رہی ہے۔

ایک لکھاری کے لیے اپنی تحریر کو کتاب کی صورت میں قارئین کے ہاتھوں تک پہنچتے دیکھنا ہمیشہ ایک خوبصورت اور یادگار احساس ہوتا ہے۔ ہر کہانی اپنے اندر ایک الگ دنیا، ایک الگ جذبہ اور کچھ ان کہے احساسات لیے ہوتی ہے۔

“پریتم ایسی پریت نہ کریو” بھی میرے لیے ایک خاص کہانی ہے۔ اس کے کرداروں، جذبات اور کیفیت کو لفظوں میں ڈھالتے ہوئے ایک ایسی دنیا تخلیق ہوئی جسے اب قارئین کے ساتھ بانٹنے کی خوشی ہے۔

یہ میری ادبی سفر میں ایک اور خوبصورت قدم ہے، اور میں ان تمام قارئین کی شکر گزار ہوں جو میری تحریروں کو پڑھتے، محسوس کرتے اور اپنی محبت سے نوازتے ہیں۔

📚 کتاب

Letters to Nobody

✍️ کہانی

پریتم ایسی پریت نہ کریو

🖋️ مصنفہ

مدیحہ انور خلیل

میری دیگر تحریروں اور اردو ادب سے متعلق مضامین کے لیے فکرو عمل کے نقوش سے جڑے رہیے۔

اگر آپ نے Letters to Nobody پڑھی ہے تو کمنٹس میں ضرور بتائیے گا کہ اس مجموعے میں آپ کو کون سی تحریر یا کہانی زیادہ پسند آئی۔

آپ کی رائے ایک لکھاری کے لیے ہمیشہ قیمتی ہوتی ہے۔ ❤️

#مدیحہ_انور_خلیل
#پریتم_ایسی_پریت_نہ_کریو
#LettersToNobody
#فکرو_عمل_کے_نقوش
#اردو_ادب
#اردو_کہانی
#افسانہ
#UrduLiterature
#UrduFiction
#UrduStory
#MadihaAnwarKhalil

بے غرضی۔۔۔ ایک خوشبو دار عمل | مدیحہ انور خلیل

بے غرضی صرف کسی کے لیے کچھ کر دینے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی خوبصورت کیفیت ہے جہاں انسان اچھائی کے بدلے کسی صلے، شکریے یا اعتراف کا انتظار نہیں کرتا۔ کچھ اعمال پھولوں کی طرح ہوتے ہیں؛ خاموشی سے خوشبو دیتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔


کبھی کبھی زندگی میں  ہمیں ایسے لوگ ملتے ہیں جو ہمارے لیے کچھ  ایسا عمل کر دیتے ہیں جس کی ہمیں اس  لمحے بہت ضرورت ہوتی ہے ، ان کی خوبی صرف  یہ نہیں ہوتی کہ وہ مشکل وقت میں ہمارے کام آئے اصل  خوبی ان کے اس رویے میں ہے کہ بدلے میں وہ  کچھ نہیں مانگتے۔ نہ شکریے کی خواہش، نہ تعریف کی طلب، نہ یہ انتظار کہ کبھی ہم بھی ان کے کام آئیں گے۔ وہ بس اپنا فرض سمجھ کر، یا شاید اپنے دل کی آواز پر، کسی کے لیے آسانی پیدا کر دیتے ہیں ۔
گو ایسے لوگ آج کے زمانے میں کم دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے اس بےغرض عمل سے ماحول  اور معاشرے میں  خوشبو پھیل جاتی ہے اور  اس  مہک سے  وہ بدبو جو خودغرض لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوتی  معدوم ہو جاتی ہے۔

ہماری زندگی میں اب اکثر چیزیں کسی نہ کسی حساب سے جڑی ہوئی ہیں۔ تعلق ہو تو توقع ساتھ چلتی ہے، دوستی ہو تو جواباً توجہ چاہیے، کسی کی مدد کریں تو دل کے کسی کونے میں یہ خیال ضرور رہتا ہے کہ وقت پڑنے پر وہ بھی ہمارے کام آئے گا۔ کبھی کبھی تو محبت بھی ایک خاموش لین دین بن جاتی ہے۔ ہم دیتے ہیں اور لاشعوری طور پر سامنے والے سے کچھ واپس ملنے کی امید رکھتے ہیں۔


شاید اسی لیے بے غرضی ہمیں اتنی خوبصورت لگتی ہے، کیونکہ اس میں حساب نہیں ہوتا۔
بے غرضی میں یہ نہیں کہ انسان اپنی ذات کو بھلا دے یا ہر شخص کے لیے خود کو قربان کرتا رہے۔ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ہم کسی کے ساتھ اچھا سلوک صرف اس لیے کریں کہ اچھا سلوک کرنا ہماری فطرت کا حصہ ہے۔ کسی کی مدد اس لیے کریں کہ اس وقت اسے مدد کی ضرورت ہے، نہ کہ اس لیے کہ کل ہمیں بھی اسی شخص کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
کسی پریشان انسان کی بات سن لینا بھی ایک طرح کی بے غرضی ہے۔ کبھی کسی کے لیے چند اچھے الفاظ کہہ دینا، کسی کی کامیابی پر دل سے خوش ہونا، کسی کے دکھ میں خاموشی سے شریک ہوجانا، یا کسی کے لیے ایسی دعا کرنا جس کا اسے کبھی علم ہی نہ ہو۔۔۔ یہ سب وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ دوسروں کے لیے کچھ بڑا کرنا ہی نیکی ہے، حالانکہ بعض اوقات ایک نرم جملہ بھی کسی انسان کے پورے دن کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔

اور شاید بے غرضی کی سب سے خوبصورت صورت یہی ہے کہ ہم کسی کے ساتھ اس وقت کھڑے ہوں جب اس کے پاس ہمیں دینے کے لیے کچھ بھی نہ ہو۔
ماں کی محبت کو دیکھیں تو بے غرضی کا مطلب اور بھی واضح ہوجاتا ہے۔ ماں اپنی اولاد کے لیے نہ جانے کتنی خواہشیں چھوڑ دیتی ہے، کتنی راتیں جاگتی ہے، کتنی پریشانیاں اپنے اندر رکھ لیتی ہے، مگر ہر قربانی کا حساب نہیں رکھتی۔ وہ یہ نہیں سوچتی کہ میں نے تمہارے لیے اتنا کیا، اب تم مجھے کیا دو گے۔
شاید ماں ہمیں زندگی کا پہلا سبق یہی دیتی ہے کہ محبت میں حساب نہیں ہوتا۔
لیکن جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں، زندگی ہمیں بہت کچھ سکھا دیتی ہے۔ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہر شخص ہمارے جیسا نہیں سوچتا۔ جس کے لیے ہم نے وقت نکالا، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے لیے وقت نکالے۔ جس کا راز ہم نے سنبھال کر رکھا، ممکن ہے وہ ہماری بات دوسروں تک پہنچا دے۔ جس کے مشکل وقت میں ہم اس کے ساتھ کھڑے رہے، شاید ہمارے مشکل وقت میں وہ کہیں نظر نہ آئے۔
یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان کے اندر ایک سوال پیدا ہوتا ہے:
آخر میں نے اتنا سب کیوں کیا؟
شاید اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم نے وہ سب اس لیے کیا کیونکہ اس وقت وہ ہمارے کردار کا تقاضا تھا۔ سامنے والے کا رویہ اس بات کا فیصلہ نہیں کرتا کہ ہم اچھے تھے یا برے۔
کسی کی ناشکری ہماری نیکی کو ختم نہیں کردیتی۔
کسی کی بے وفائی ہمارے خلوص کو جھوٹا نہیں بنا دیتی۔
اور کسی کا بدل جانا اس بات کو غلط ثابت نہیں کرتا کہ ہم نے کبھی اس کے لیے سچے دل سے کچھ کیا تھا۔
ہاں، یہاں ایک بات ضرور سمجھنے کی ہے کہ بے غرضی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم ہر زیادتی برداشت کرتے رہیں۔ اچھا انسان ہونا اور خود کو مسلسل تکلیف میں رکھنا دو الگ باتیں ہیں۔
ہم کسی کو معاف کرسکتے ہیں، مگر ضروری نہیں کہ اسے دوبارہ وہی اختیار بھی دے دیں جس سے وہ ہمیں تکلیف پہنچا چکا ہے۔
ہم مدد کرسکتے ہیں، مگر کسی کو اپنی نرمی کا فائدہ اٹھانے کی اجازت دینا ضروری نہیں۔
ہم محبت کرسکتے ہیں، مگر اپنی عزتِ نفس کو قربان کیے بغیر۔

دین بھی ہمیں نیکی کے ساتھ اخلاص کا سبق دیتا ہے۔
قرآنِ کریم میں نیک لوگوں کی ایک کیفیت بیان ہوئی ہے:
“إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا”
یعنی ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔
(سورۃ الإنسان: 9)
یہ آیت مجھے ہمیشہ یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ نیکی کی اصل خوبصورتی شاید اسی وقت سامنے آتی ہے جب اس کے پیچھے کسی انسان سے کچھ حاصل کرنے کی خواہش نہ ہو۔
لیکن شاید زندگی کی پختگی یہی ہے کہ انسان ہر اچھے عمل کے بدلے اچھا ردعمل مانگنا چھوڑ دے۔
ہم کسی کے لیے اچھا کریں اور پھر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں۔
اگر وہ یاد رکھے تو بھی ٹھیک۔
اگر بھول جائے تو بھی ٹھیک۔
اگر شکریہ ادا کرے تو بھی خوشی۔
اگر نہ کرے تو بھی دل میں ملال نہ ہو۔
کیونکہ جو کام ہم نے صرف لوگوں کے لیے کیا ہوگا، اس کا صلہ بھی لوگوں سے ہی مانگیں گے۔ لیکن جو کام اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے، اس کا حساب انسانوں کے ہاتھ میں نہیں رہتا۔
شاید اسی لیے بے غرضی انسان کو اندر سے آزاد کرتی ہے۔
جب ہم دوسروں سے توقعات کم کرتے ہیں تو شکایتیں بھی کم ہوجاتی ہیں۔ پھر کسی کا جواب نہ دینا ہمیں اتنا نہیں توڑتا، کسی کا بھول جانا ہماری اپنی قدر کم نہیں کرتا، اور کسی کا بدل جانا ہمیں اپنی نیکی پر شرمندہ نہیں کرتا۔
ہم صرف یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے اپنی طرف سے جو بہتر تھا، وہ کیا۔
باقی لوگوں کا معاملہ ان کا ہے۔
زندگی بہت مختصر ہے۔ ہم اگر ہر تعلق کا حساب رکھتے رہے تو شاید تعلق کی خوبصورتی ہی ختم ہوجائے۔
ہم دنیا سے بہت کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر شاید اصل خوبصورتی اس میں ہے کہ جاتے جاتے ہم یہ سوچ سکیں:
میں نے کسی کے دل پر بوجھ نہیں رکھا۔
جہاں ممکن ہوا، آسانی پیدا کی۔
جہاں ممکن ہوا، کسی کا ہاتھ تھاما۔
اور جہاں کچھ کرنا ممکن نہ تھا، وہاں کم از کم کسی کے لیے دل سے دعا کی۔
شاید یہی بے غرضی ہے۔
خاموشی سے اچھا کرنا۔۔۔
اور پھر اپنے کیے ہوئے اچھے کام کو بھی خاموشی سے بھول جانا۔


— مدیحہ انور خلیل
فکرو عمل کے نقوش



یہ دنیا دکھوں کا گھر ہے، مگر منزل نہیں | دکھ، آزمائش اور صبر

یہ دنیا دکھوں کا گھر ہے۔آدم و حوا علیہما السلام  نے جب اس دنیا میں پہلا قدم رکھا تو وہ گہرے دکھ  اور رنج و الم میں مبتلا تھے۔
اللہ تعالٰی قرآن میں  ہمیں یاد دلاتا ہے:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ
“بے شک ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا۔”
(سورۃ البلد: 4)
اس دن سے لے کر آج تک انسان کی زندگی  میں پریشانیوں اور تکلیفوں  کے دن زیادہ  ہیں اور خوشی کے تھوڑے۔
بقول  میر تقی میر
شادی و غم میں جہاں کی ایک سے دس کا ہے فرق
عید کے دن ہنسئے تو دس دن محرم روئیے
لہذا ہر ایک کو اپنے  حصے کے دکھوں میں سے بہرحال گزرنا ہے۔  ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ  یہ دنیا اگرچہ دکھوں کا گھر ہے  لیکن ہر گزرتا دن ہمیں  ایک ایسے گھر کی طرف سفر بھی کرا رہی ہے جہاں دکھ نہیں ہوں گے۔
قرآن کہتا ہے:
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
“پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔”
(سورۃ الشرح: 5-6)
غور کیجیے، قرآن یہ نہیں کہتا کہ مشکل کے بعد آسانی ہے؛ بلکہ کہتا ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یعنی انسان اگر غور کرے تو اسے اپنے دکھ کے اندر بھی کسی نہ کسی شکل میں آسانی، سبق، تربیت یا نئی سمت کا دروازہ مل سکتا ہے۔
بعض دکھ ہمیں توڑنے نہیں، بدلنے آتے ہیں۔ جس طرح  سونا آگ میں تپ کر کندن بنتا ہے اسی طرح جب ہمارا خالق  ہمیں مضبوط  بنانا چاہتا ہے تو وہ ہمیں آزمائشوں  سے گزارتا ہے ۔کیونکہ صرف  وہی ہے جو ہماری چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے۔
جب بھی کسی کو کوئی دکھ، تکلیف،  پریشانی یا کوئی  آزمائش  آتی ہے ،نادانی میں  لوگ سمجھتے  ہیں کہ شاید  ہمارا  خالق ہمیں بھول گیا ہے لیکن درحقیقت  وہ تکلیف  اصل میں ایسی ہوتی ہے جب ہم کسی بلندی  پر چڑھتے ہوئے محسوس  کرتے ہیں۔
کچھ ناکامیاں ہمیں اپنے رب کے قریب کر دیتی ہیں اور ہمیں اپنے اندر چھپی صلاحیتوں سے متعارف کراتی ہیں۔ کچھ انتظار ہمیں صبر سکھاتے ہیں اور تنہائی ہمیں  اپنے باطن کی آواز سننے کا موقع دیتی ہیں۔
زندگی کی سب سے بڑی دانائی شاید یہی ہے کہ انسان دکھ سے فرار کے بجائے اس کا مفہوم تلاش کرنا سیکھ لے۔
درحقیقت یہ دنیا آزمائش گاہ ہے اور یہی  دنیا کی سب سے بڑی حقیقت  ہے کہ یہ منزل نہیں، سفر ہے۔
اور سفر میں کبھی دھوپ ہوتی ہے، کبھی سایہ، کبھی راستہ آسان ہوتا ہے اور کبھی قدم لہولہان ہو جاتے ہیں۔ مگر مسافر کی کامیابی اس میں نہیں کہ اس نے سفر میں کتنے دکھ دیکھے، بلکہ اس میں ہے کہ ان دکھوں کے باوجود وہ اپنے راستے سے کتنا وابستہ رہا۔
اس لیے اگر آج زندگی مشکل ہے، دل بوجھل ہے اور راستے طویل محسوس ہو رہے ہیں تو شاید یہ یاد رکھنا کافی ہے:
یہ وقت بھی گزر جائے گا۔
کسی بھی انسان کی خوبی کا علم یہیں سے ہوتا ہے کہ وہ زندگی  کے دونوں  زاویوں یعنی خوشی اور غم کے ساتھ کس طرح نمٹتا ہے۔
دل دے تو اس مزاج کا پروردگار دے
جو رنج کی گھڑی بھی خوشی سے گزار دے
داغ دہلوی




تحریر  :مدیحہ انور خلیل

حد نافذ کریں! — معصوم بیٹیوں کے لیے انصاف کب؟

حد نافذ کریں
پوری قوم دکھ اور کرب میں مبتلا  ہے ۔ہر روز ایک نیا واقعہ۔۔۔۔۔
ہر روز ایک نئی حوا کی بیٹی۔۔۔۔۔۔
عمر اٹھارہ مہینے   
عمر :ساڑھے چار سال
عمر:چھ سال
عمر:دس سال
عمر:بارہ سال
عمر:اکیس سال
عمر:چالیس سال
عمر:ستر سال ۔۔۔۔۔۔۔؟
جی ہاں عمر اٹھارہ مہینے اور ستر سال بھی ۔۔۔۔
پتھر اٹھائیں اور سنگسار کریں ۔۔۔۔
پھانسی نہیں عبرتناک موت تاکہ کسی کو ہمت نہ ہو، جرات نہ ہو ۔۔۔۔۔
یہ درندے ، یہ قاتل تڑپ تڑپ کر مریں اور وہ جو دل میں یہ بات دبائے بیٹھے ہیں وہ بھی خوفزدہ  ہوں۔۔۔۔۔۔
زرا ان بچیوں کی ماؤں سے تو پوچھیں وہ کیا سلوک چاہتی ہیں ان ظالموں کے ساتھ۔۔۔۔۔۔؟
حد مقرر  کیجیے  اے صاحبان اقتدار۔۔۔۔۔!
منبر کیوں خاموش  ہیں؟
علماء کہاں ہیں ۔۔۔؟
اللہ کی حد نافذ کریں۔۔۔۔۔
اللہ کی حد نافذ کریں۔۔۔۔۔
اللہ کی حد نافذ کریں۔۔۔۔۔۔۔
وگرنہ  پہلے سے بڑھ کر اللہ کے غضب کا سامنا کرنے کو تیار رہیں۔۔۔۔۔۔
ہر خاموش زبان پکڑی جائے گی۔۔۔۔۔۔۔

تحریر:مدیحہ انور خلیل

معصوم بچیوں اور خواتین کے ساتھ بڑھتے ہوئے ظلم کے خلاف ایک درد بھری آواز۔ فوری انصاف، مضبوط قانون اور معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری

جشن آزادی……. ایک لازمی شکرگزاری

آزادی مبارک…… جہاں کوئی ہمیں نہیں کہتا یہ تمہارا ملک نہیں اس ملک سے نکل جاؤ……
یہ ملک..، میرا وطن ہے…. میرا گھر ہے…
پوری دنیا میں صرف یہی میری جائے پناہ ہے….
لڑائی جھگڑا ہو رہا ہے تو کیا فکر….
لڑائی جھگڑا تو ہوتا  رہے  گا…..
ہر گھر میں ہی ہوتا ہے….
انشاءاللہ یہ مشکل وقت بھی گزر ہی جائے گا…..
گھر سلامت تو سب سلامت…..
لیکن آج کا دن شکرگزاری کا دن ہے….
اللہ کی شکرگزاری کا دن… الحمداللہ….
قائداعظم کی شکر گزاری کا دن….
شکریہ قائداعظم……
آپ کا شکریہ ادا نہیں ہوسکتا…..
اللہ آپ پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے….. آمین
ہر اس شخص کا شکریہ جس نے اس وطن کو بنانے میں اپنا کردار ادا کیا…..

مدیحہ انور خلیل

“یہ کیسی آزادی ہے؟”ایک سوال، ایک سفر، اور آزادی کی حقیقت کی تلاش

یہ  بات درست ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر طرف مسائل دکھائی دیتے ہیں۔ ظلم و ستم کی خبریں روز ہمارے دلوں کو بے چین کرتی ہیں۔ ہماری بیٹیاں ہوں یا بیٹے، انہیں بعض اوقات ایسے لوگوں سے خطرات لاحق ہیں جنہیں اپنی طاقت، دولت یا اثر و رسوخ پر ناز  ہے۔ ہر روز ہمارے کان ایسی خبریں  سنتے  اور آنکھیں ایسے منظر دیکھتی ہیں  کہ بہت دفعہ تو یوں محسوس  ہوتا ہے کہ شاید  ہماری سانس رک رہی ہے اور ان کو برداشت کرنا ہمارے بس سے باہر ہے۔
قانون کمزور دکھائی دیتا ہے اور انصاف ہوتا نظر نہیں آتا، کہیں کرپشن نے نظام کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور کہیں سفارش اور اقربا پروری میرٹ کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔
ایسے حالات میں کبھی کبھی دل میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم نے اس لئے آزادی  حاصل  کی تھی ؟ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر سوچیں توکیا ہم واقعی آزاد ہیں؟
کرپشن ، مہنگائی، بےراہروی، بےروزگاری ‘امیروں کی حاکمیت اور غریبوں کی ان کے ہاتھوں  ذلت  ،یہ وحشی درندے جن کے ہاتھوں ہماری بیٹیاں  محفوظ  نہیں۔۔۔ یوں محسوس  ہوتا ہے کہ صرف  یہی آزاد  ہیں۔۔۔۔
ایسے میں کچھ آوازیں  اٹھتی ہیں کہ یہ کیسی آزادی  ہے؟ہم نہیں مناتے  جشن آزادی ۔۔۔۔

لیکن ذرا ٹھہریے۔
چند لمحے رکیے۔۔۔۔۔

آپ کیا سمجھتے  ہیں ان سب کا ذمہ دار “پاکستان “ہے؟
یا  ان سب کی قصور وار 14 اگست  1947 کو حاصل ہونے والی آزادی ہے؟
کیا علیحدہ وطن کے حصول  کی جدوجہد غلط تھی۔۔۔۔۔۔۔؟

سوال  یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو سمندر کے اوپر  جھاگ جیسے لوگ ہیں کیا یہ سمندر  کے اندر موجود  حیات کی گہرائی  کو  کو بیان کر سکتے ہیں؟

  تو اس کا جواب حاصل  کرنے کے لئے ہم اپنے ماضی، حال اور مستقبل  پر ایک نظر دوڑاتے ہیں اور اپنے ذہنوں میں موجود سوالات  اور شبہات کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش   کرتے ہیں۔۔۔۔۔


اس سال جب ہم اپنا اناسی واں یوم آزادی  منا رہے ہیں  دنیا کا عالمی نظام  درہم برہم ہے ، ہر طرف افراتفری  اور جنگیں ہیں۔جہاں جنگ نہیں ہو رہی امن وہاں بھی نظر نہیں آ رہا ۔بھارت، بنگلہ دیش،  نیپال ، سری لنکا ہو یا یورپ کا کوئی ملک ہو، آسٹریلیا  سے لے کر افریقہ  ہر جگہ بے چینی ہے ، خلق خدا سڑکوں پر ہے ۔  آخر کیوں ؟یہ سب کیا چاہتے ہیں ؟
اگر ہم دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے لوگوں کی باتوں کو غور سے سنیں  تو جو بات ہمیں  معلوم  ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ سب ایک ہی چیز کی تلاش  میں ہیں اور وہ ہے انصاف،  امن اور  بنیادی  انسانی حقوق۔۔۔۔۔

ہر جگہ صاحبان اقتدار  وسائل کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔
یہ ساری تحریکیں اور جدوجہد  دیکھ کر ہمیں پتا چلتا ہے کہ یہ جن مسائل کی وجہ سے ہم یہ دعوٰی  کرتے ہیں کہ شاید  ہم آزاد  نہیں ہیں تو یہ صرف  ہمارا مسئلہ  نہیں ہے ‘ ساری دنیا کے لوگوں کی اکثریت  ہی ان کا شکار ہے۔۔



تو آئیے زرا یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آزادی کیا ہوتی ہے؟ اور آزادی حاصل  کرنے کے بعد ہم میں  اور دنیا میں  میں رہنے والے غلام قوموں کی زندگیوں  میں کیا فرق ہے؟
آزادی کوئی معمولی نعمت نہیں۔
ہم شاید اس نعمت کی قدر اس لیے نہیں کر پاتے کہ ہم نے اسے اپنی روزمرہ زندگی کا معمول سمجھ لیا ہے۔ ہم اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں’ اپنے ملک کے حالات پر سوال اٹھا سکتے ہیں اور بہتر مستقبل کا مطالبہ کر سکتے ہیں حتی کہ ہم میں موجود کچھ لوگ مختلف  محاذوں پر لڑتی اپنی فوج کو گالیاں  تک دے سکتے ہیں۔
شہداء  کے خون کو یہ کہہ کر بے وقت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ وہ تو تنخواہ  ہی جان دینے کی لیتے ہیں۔
یہ سب معمولی باتیں نہیں۔
دنیا میں آج بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو جنگ، جبر، قبضے کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے لیے اپنے گھر، اپنے بچوں اور اپنے مستقبل کا تحفظ بھی ایک خواب بن چکا ہے۔
پاکستان کا قیام محض نقشے پر ایک نئی لکیر کھینچ دینے کا نام نہیں تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک طویل سیاسی جدوجہد کے بعد اپنے مستقبل کے بارے میں ایک اجتماعی فیصلہ کیا تھا۔ اور کسی بھی قوم کا اجتماعی  شعور  کبھی بھی غلط نہیں ہوتا   
تقسیمِ ہند کے دوران لاکھوں انسانوں نے ہجرت کی۔ گھر اجڑے، خاندان بچھڑے، قافلے لٹے اور بے شمار لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ آزادی کی یہ قیمت صرف کتابوں کے صفحات میں نہیں، بہت سے خاندانوں کی نسل در نسل منتقل ہونے والی یادوں میں بھی محفوظ ہے۔
کیا ہم آزاد  وطن کی تحقیر محض اس لئے کریں کہ آزادی  حاصل  ہونے کے بعد ہماری نسلوں  کی پرورش  درست  نہج پر نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔
مسئلہ لوگوں میں ہے۔۔۔۔معاشرے میں ہے۔۔۔۔تربیت میں ہے۔۔۔۔۔
ناں کہ ملک میں اور آزادی  حاصل کرنے کے فیصلے  میں ۔۔۔۔
سب برائیوں  اور ۔معاشرتی خامیوں کے باوجود  پاکستان  اللہ کہ عطا کردہ  نعمتوں میں سب سے پہلے نمبر پر ہے۔۔۔۔
خود احتسابی  ضروری  ہے  لیکن آزادی  کی نعمت  کو کمتر اور معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔۔۔۔
اس لئے آئیے مل کر آزادی  کو محسوس  کریں اور دل سے خوشیاں منائیں۔ کیونکہ نعمتوں کی قدر نہ کرنے والوں سے نعمتیں واپس  لے لی جاتی ہیں۔۔۔

پاکستان زندہ باد

قائداعظم پائندہ باد

“یہ کیسی آزادی ہے؟”
ایک سوال، ایک سفر، اور آزادی کی حقیقت کی تلاش
Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message
Log In