علم حاصل کرنا ہر دور میں ہی پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہےاور ہر ذی شعور انسان کی یہ کوشش رہی کہ وہ تعلیم حاصل کرے لیکن انٹرنیٹ کے اس دور میں جب ہر طرف معلومات کا سیلاب ہے ،گلی گلی سکول کھل چکے ہیں تو علم کا حصول ہماری زندگیوں کا جزو لا ینفک بن چکا ہے۔ ہر شخص کی خواہش ہے کہ اگر وہ پڑھ نہیں سکا تو کم از کم اس کی اولاد ضرور پڑھ لکھ جائے۔ کالج اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونا علم کی معراج سمجھ لیا گیا ہے۔ انسانی تاریخ کا یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ انسان علم حاصل کرنے میں تو بہت آگے بڑھ گیا ہے، مگر معلوم یوں ہوتا ہے کہ جیسے اس علم کو عمل میں ڈھالنے میں پیچھے رہ گیا ہے۔ جوں جوں کتابیں بڑھتی جا رہی ہیں، معلومات کے ذرائع وسیع ہو رہے ہیں،ویسے ویسےکردار اور عمل کی دنیا میں کمزوریاں پہلے سے مزید نمایاں ہو گئی ہیں۔ محض پڑھنا لکھنا سیکھ لینا ہی کا فی نہیں۔علم کا حاصل کر لینا منزل نہیں ہے بلکہ یہ ایک لمبے سفر کا زادراہ ہے۔ایک ایسا سفر جو کہ آسان ہرگز نہیں ہے
علم میں بھی سرور ہے لیکن یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں
گو کہ اس سفر کے راستے میں بہت سی کٹھنائیاں ہیں لیکن ہم مشکلات کو دیکھتے ہوئے ہم سفر کو ترک نہیں کر سکتے کیونکہ ان مشکل گھاٹیوں کے پار ہی ہمارے لئے آسانیاں ہیں۔ عمل کےبغیر علم کا حصول بے فائدہ ہے اور ایسے خزانے کی مانند ہے جس کی چابیاں تو ہمارے پاس ہیں لیکن ہم اس کو نہ کھولیں اور نہ ہی استعمال کریں بلکہ صرف دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوں کہ واہ ہمارے پاس کتنا قیمتی خزانہ ہے۔۔ علم اور عمل کے درمیان یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنے کے لیے اسلام نے ہمیشہ علم کے ساتھ عمل کو لازم قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی جو علم رکھتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللّٰهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ “اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں۔” (سورۃ الصف 61:2-3) یہ آیت دراصل انسان کو خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے۔ اسلام میں علم صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ ایسا شعور ہے جو انسان کے کردار اور رویوں کو بدل دے۔ اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے بھی ایک نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ “قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے۔اور ان چار چیزوں میں سے ایک علم ہے کہ اس نے اس پر کتنا عمل کیا۔” (جامع الترمذی، حدیث 2417) یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ علم ایک امانت ہے اور اس کا حقیقی حق تب ادا ہوتا ہے جب وہ انسان کے اعمال میں نظر آئے۔ جدید نفسیات بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ انسان کے علم اور عمل کے درمیان اکثر ایک خلا موجود ہوتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اسے “Intention–Behavior Gap” کہتے ہیں، یعنی انسان بہت سی اچھی باتیں جانتا ہے اور ان پر عمل کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے، مگر عملی زندگی میں وہ ارادہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس کی چند اہم وجوہات ہیں: عادتوں کی طاقت: پرانی عادات نئی سوچ پر غالب آ جاتی ہیں۔ ماحولیاتی اثر: انسان کا ماحول اس کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ فوری فائدے کی خواہش: انسان اکثر طویل مدتی فائدے کے بجائے فوری آسائش کو ترجیح دیتا ہے۔اسلام دراصل اس نفسیاتی حقیقت کا علاج تربیت، محاسبۂ نفس اور نیت کی اصلاح کے ذریعے کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں محاسبۂ نفس کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ انسان جب اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے تو اس کے اندر اصلاح کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں علم آہستہ آہستہ عمل میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
اگر ہر انسان اپنے علم کا تھوڑا سا حصہ بھی اپنی زندگی میں نافذ کر لے تو نہ صرف اس کی اپنی شخصیت سنور سکتی ہے بلکہ معاشرہ بھی بہتر ہو سکتا ہے۔ درحقیقت علم سے عمل تک کا سفر ہی وہ راستہ ہے جہاں سے حقیقی اصلاح اور حقیقی کامیابی شروع ہوتی ہے۔
مدیحہ انور
علم منزل نہیں۔۔۔۔زاد راہ ہے “Knowledge is not a destination; it is sustenance for the journey.”
23 مارچ 1940 وہ روشن دن ہے جب مسلمانانِ ہند نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اپنے اس ارادے کا اعلان کیا جس کے بارے میں وہ بہت عرصے سے سوچ رہے تھے۔۔ یعنی مسلمانوں کی علیحدہ اسلامی ریاست۔۔۔۔
یہ قائداعظم کی دور اندیش سوچ تھی جس نے بھانپ لیا تھا کہ کثیر تعداد میں ہندوؤں کی موجودگی میں مسلمان کبھی بھی اپنی رائے کو ہندوستان میں لاگو نہیں کرا سکیں گے۔
تب بھی اور آج بھی بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ آخر علیحدہ ہونے کی کیا ضرورت تھی؟ سب صدیوں سے اکٹھے رہ ہی رہے تھے تو پھر مسلمانوں کے لئےایک علیحدہ ملک کیوں ضروری تھا؟
اقبال نے کہا ہے ناں
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو آتی نہیں کچھ کام یہاں عقل خدا داد اے مرد خدا تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد مسکینی و محکومی و نومیدیٔ جاوید جس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد مسلمان ہونے کا مطلب صرف نمازیں پڑھنے یا روزہ رکھنے تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے ساتھ معاملات کیسے چلانے ہیں اور دنیا میں کیسے رہنا ہے یہ سب بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔اسلام ایک عملی مذہب ہے یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔اس لئے میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان مسلمانان برصغیر کی ایک اہم سیاسی ضرورت تھی۔۔۔ مسلمان جو کہ تعداد میں ہندوؤں سے کم تھے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ وہ کبھی بھی اپنی بات نہیں منوا سکیں گے۔ کیونکہ قائداعظم جانتے تھے کہ اس جدید طرز جمہوریت میں جس کی تعداد زیادہ ہوگی بات بھی اسی کی مانی بھی اسی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے کانگریس میں رہ کر جان لیا تھا کہ جب ہندوؤں کو حکومت ملے گی تو وہ کسی اور مذہب کے لوگوں کو تو شاید کچھ نہ کہیں لیکن مسلمانوں سے ضرور لڑیں گے اور ان کو ضرور نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ مسلمانوں نے اس برصغیر پر ایک ہزار سال حکومت کی تھی ۔بقول اقبال۔۔۔۔۔۔
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
ہندوستان کے بہت بڑے بڑے علمائے دین اور سیاسی شخصیات نے پاکستان بننے کی مخالفت کی اور قائداعظم کے اس علیحدہ ملک بنانے کے نظریے کو غلط جانا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ قائداعظم درست تھے اور انہوں نے آنے والے وقت کو بھانپ لیا تھا اور اس بات کی اہمیت جتنی اجاگر ہو کر آج سامنے آئی ہے پہلے شاید کبھی ایسا نہ ہوا تھا۔ ہندوستان کے کروڑوں مسلمان امتِ مسلمہ میں کوئی آواز نہیں رکھتے بلکہ دنیا میں کہیں بھی ان کی رائے کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔اسرائیل کو بھارتی حکومت سپورٹ کرتے ہوئے کوئی پروا نہیں کرتی کہ بیس یا بائیس کروڑ مسلمان کیا چاہتے ہیں۔لیکن الحمدللہ پاکستان ہر جگہ اپنا موقف بڑی جرات مندی سے پیش کر رہا ہے نہ صرف اپنا موقف بیان کر رہا ہے بلکہ اسے پذیرائی بھی مل رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ایگریمنٹ میں پاکستان نے جو شبانہ روز محنت کی ہے وہ سب کے سامنے ہے اور دنیا اس کو مان بھی رہی ہے۔ یہی دوقومی نظریہ ہے کہ ہم تم سے علیحدہ ہیں ہماری سوچ اور ہے طرز زندگی بھی تم سے جدا ہے اور ہم دنیا سے اپنے معاملات بھی کسی اور طریقے سے طے کریں گے۔26 کروڑ لوگ بہت بڑی تعداد ہیں۔ ایک ایسی بڑی اکائی میں رہنا ،جہاں اکثریت آپ سے بالکل مخالف نظریات رکھتی ہو، اپنے وجود کو بے معنی کر لینا ہے۔
🤲 اللہ تعالیٰ بانیانِ پاکستان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ہمیں پاکستان کی قدر کرنے اور اس کی حقیقی روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
❓ آپ کے خیال میں آج کے دور میں پاکستان کے قیام کی سب سے بڑی اہمیت کیا ہے؟
Pakistan _ well timed decision پاکستان۔۔۔۔ایک بروقت فیصلہ
ماں صرف ایک فرد نہیں، بلکہ پوری نسل کی پہلی درسگاہ ہے۔ کہا جاتا ہے: “تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو، میں تمہیں پڑھی لکھی قوم دوں گا۔” یہ قول نپولین بونا پارٹ سے منسوب کیا جاتا ہے،حالانکہ تاریخی طور پر یہ ثابت نہیں ہے۔ لیکن یہ قول چاہے جس سے منسوب ہو، اس کا مفہوم نہایت گہرا اور حقیقت پر مبنی ہے۔جب سے یہ دنیا وجود میں آئی ہے تب سے لیکر آج تک ہر قوم ،ہر قبیلے اور ہر نسل نے ماؤں کی عظمت کو تسلیم کیا ہے۔ماں نہ صرف بچے کو جنم دیتی ہے بلکہ اس کی زندگی کے ہر مرحلے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔انسانی تاریخ کے ہزاروں گزرے سالوں میں ماں کو ایک بلند مرتبہ دیا گیا ہے۔انسانی ضمیر ماں کو ہمیشہ سے پہچانتا ہے۔ لیکن آج سائنس ہماری زندگیوں میں ماؤں کے کردار کی تشریح اپنے ڈھنگ سے کرتی ہے۔
سائنس کی نظر میں ایک ماں کا کردار بچے کی پیدائش سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے اور یہ محض پرورش تک محدود نہیں بلکہ بچے کی حیاتیاتی اور نفسیاتی ساخت کی بنیاد بھی بنتا ہے۔ بچے کو آدھے جینز ماں سے ملتے ہیں، جبکہ مائٹوکونڈریا صرف ماں کی طرف سے منتقل ہوتا ہے جو جسم کی توانائی اور میٹابولزم کو متاثر کرتا ہے۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ ذہانت سے متعلق کئی اہم جینز X کروموسوم پر ہوتے ہیں، اور چونکہ ماں کے پاس دو X کروموسوم ہوتے ہیں، اس لیے بچے کی ذہنی نشوونما میں اس کا کردار نمایاں ہو سکتا ہے۔ حمل کے دوران اور دودھ پلانے کے ذریعے ماں اپنے اینٹی باڈیز بچے کو منتقل کرتی ہے جو اس کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ ماں اور بچے کے درمیان محبت، لمس اور قربت سے آکسیٹوسن ہارمون خارج ہوتا ہے جو بچے میں تحفظ، سکون اور جذباتی استحکام پیدا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ ماں کی خوراک، ذہنی سکون اور ماحول حمل کے دوران بچے کے جینز کے کام کرنے کے طریقے پر اثر انداز ہوتے ہیں، جسے ایپی جینیٹکس کہا جاتا ہے۔ یوں سائنس بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ ماں صرف زندگی دینے والی نہیں بلکہ بچے کی ذہانت، صحت، شخصیت اور مستقبل کی اصل معمار ہوتی ہے۔اگر ماں خود کو محفوظ تصور نہ کرے یا پریشان رہے تو بچے کی ساری زندگی اسی کیفیت میں گزرتی ہے۔ پاکستان میں عورتوں کی کل آبادی میں تعداد تقریبا 49%ہے۔اور ان میں پڑھی لکھی عورتیں تقریبا 53%ہیں یعنی آدھی عورتیں ان پڑھ ہیں۔ کہاوت مشہور ہے ایک لڑکا پڑھتا ہے تو ایک فرد تعلیم یافتہ ہوتا ہے لیکن اگر ایک لڑکی پڑھے تو گویا ایک نسل تعلیم یافتہ ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔” قرآن و سنت ہمیں بتاتے ہیں کہ ایک نیک، باعلم اور باشعور ماں صرف اپنے بچوں کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔ حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت فاطمہؓ جیسی عظیم خواتین اس کی روشن مثال ہیں۔ اگر ہم ایک مضبوط، بااخلاق اور باشعور قوم چاہتے ہیں تو ہمیں عورت کی تعلیم، تربیت اور عزت کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔ کیونکہ ایک تعلیم یافتہ ماں صرف گھر نہیں سنوارتی، وہ قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔
بہت دفعہ ہم اس دکھ میں زندگی گزارتے ہی چلے جاتے ہیں کہ ہمیں فلاں چیز مل جاتی تو کتنا اچھا ہو جاتا۔یا نہ جانے فلاں شخص نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا ‘وہ ایسے کیوں بولا ؟ یا اس نے میرے ساتھ بات کیوں نہ کی؟ کیا میں ایسے سلوک کی حقدار تھی/تھا؟یعنی ہم اپنی زندگی کو ایسے بے معنی اور بے مقصد چیزوں اور باتوں میں الجھا لیتے ہیں کہ دن رات انہی کا غم مناتے رہتے ہیں اور اپنی زندگی میں آنے والی خوشیوں اور اچھے لمحوں کا ادراک ہی نہیں کر پاتے۔ ہماری زندگی کی سب سے بڑی الجھن یہ نہیں کہ ہمیں کیا ملا، بلکہ یہ ہے کہ ہم کسے چھوڑ نہیں پاتے۔ انگریزی اصطلاح “Let Go” بظاہر دو سادہ الفاظ ہیں، مگر اپنے اندر ایک مکمل فلسفہ سمیٹے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب صرف کسی چیز سے دستبردار ہونا نہیں، بلکہ دل، سوچ اور احساس کے بوجھ کو آزاد کرنا ہے۔ ہم اکثر رشتے، یادیں، ناکامیاں، شکوے اور وہ سوالات تھامے رکھتے ہیں جن کے جواب کبھی ملنے ہی نہیں ہوتے۔ یہی گرفت ہمیں اندر سے توڑتی رہتی ہے۔ انگلش شاعرہ الزبتھ بشپ کی ایک نظم The art میں اس نے اس کے بارے میں بہت ہی زبردست طریقے سے کہا ہے۔۔۔۔
The art of losing isn’t hard to master; so many things seem filled with the intent to be lost that their loss is no disaster.
Lose something every day. Accept the fluster of lost door keys, the hour badly spent. The art of losing isn’t hard to master.
Then practice losing farther, losing faster: places, and names, and where it was you meant to travel. None of these will bring disaster.
I lost my mother’s watch. And look! my last, or next-to-last, of three loved houses went. The art of losing isn’t hard to master.
I lost two cities, lovely ones. And, vaster, some realms I owned, two rivers, a continent. I miss them, but it wasn’t a disaster.
—Even losing you (the joking voice, a gesture I love) I shan’t have lied. It’s evident the art of losing’s not too hard to master though it may look like (Write it!) like disaster.
آخر” چھوڑو جانے دو” کا کیا مفہوم ہے؟اس بات کو سمجھتے ہیں ۔اس کا مطلب ہے کہ جو ہمارے قابو میں نہیں، اسے قبول کرنا اور جو ہمیں نقصان دے رہا ہے اسے چھوڑ دینا ہے۔ ماضی کو سبق بنانا ہے سزا نہیں اور یہ کسی تکلیف دہ بات کو چھوڑ دینا کمزوری نہیں ہے بلکہ بلند شعور کی علامت ہے۔ کیونکہ اللہ کے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی ہمیں بتایا ہے کہ ہمارے اوپر ہماری جان کا بھی حق ہے ۔ہم میں سے اچھے لوگ کبھی کبھی دوسروں کے رویوں یا بد سلوکی کا انتقام خود کو کوس کر لیتے ہیں یا خود ترسی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ شاید ہماری کوشش میں کوئی کمی تھی؟ اسے بار بار یاد کر کے خود کو کوستے رہتے ہیں۔اسی طرح وہ پر خلوص شخص بار بار کسی کے بدلتے رویّے کو جواز دیتا رہتا ہے اور کہتا ہے کہ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔لیکن ایسا نہیں ہوتا۔عقلمند انسان وہی ہے جو یہ جان لے کہ کب تک دوسرے کو اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کا موقع دینا ہے اور کب خاموشی سے اپنی راہ بدل لینی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ: جو بار بار تکلیف دے، اسے چھوڑ دینا خود سے محبت ہے۔Let Go یہاں انتقام نہیں، خود کو بچانا ہے۔ اور یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ناکامی کو یاد رکھو مگر خود کو اس میں قید نہ کرو ورنہ ماضی کی زنجیر مستقبل کے پاؤں باندھ دیتی ہے۔ میرے ساتھ یہ کیوں ہوا؟ یہ شکوے دل میں رکھ کر ہم خود کو ہی جلائے رکھتے ہیں، جبکہ سامنے والا مطمئن زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔Let Go کا مطلب ہے خود کو خود کو سکون دینا۔”جانے د ینا” آخر اتنا کیوں کیوں مشکل ہوتا ہے؟ آخر کیوں ہم میں سے اکثریت یہ کام نہیں کر پاتی؟اسکی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔۔۔۔ کیونکہ ہم جذباتی طور پر جُڑ جاتے ہیں اور ہمیں تبدیلی سے خوف آتا ہے۔اور کبھی ہم کنٹرول کھونا نہیں چاہتے۔ مگر یاد رکھیں جو چیز آپ کو توڑ رہی ہو اسے پکڑنا وفاداری نہیں بلکہ ناسمجھی ہے۔ دین بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ جو تمہارے اختیار میں نہیں، اسے رب کے سپرد کر دو۔ جب انسان کا توکل اللہ پر مضبوط ہو جاتا ہے تو Let Go کرنا آسان ہو جاتا ہے
Let Go کا مطلب ہار ماننا نہیں بلکہ اپنی توانائی کو درست جگہ صرف کرنا ہے۔ کچھ چیزیں چھوڑ دی جائیں تودل ہلکا ہو جاتا ہے,سوچ صاف ہو جاتی ہے اور زندگی آگے بڑھنے لگتی ہے۔
ہم ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں اکثر اختلافِ رائے کو بدتمیزی، بغاوت یا دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ اختلاف، اگر سلیقے اور شعور کے ساتھ ہو، تو یہ کسی بھی معاشرے کی فکری صحت کی علامت ہوتا ہے۔ جہاں صرف ایک ہی آواز بولنے کی اجازت ہو، وہاں سوچ مر جاتی ہے اور سوال دفن ہو جاتے ہیں۔ اختلافِ رائے ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ عقلِ انسانی محدود ہے اور ہر شخص سچ کو اپنے زاویے سے دیکھتا ہے۔ لیکن جب ایک ہی بات کے مختلف زاویے سامنے آتے ہیں تو حقیقت کا نقشہ زیادہ واضح ہوتا ہے۔ یہی اختلاف ہمیں جمود سے بچاتا ہے، غلط فیصلوں پر نظرِ ثانی کا موقع دیتا ہے اور بہتر راستوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسلامی تاریخ اس بات کی روشن مثال ہے کہ اختلاف ہمیشہ فساد نہیں ہوتا۔ صحابۂ کرامؓ اور ائمۂ دین کے درمیان فقہی و اجتہادی اختلافات موجود تھے، مگر ان اختلافات کی بنیاد اخلاص، ادب اور حق کی تلاش تھی۔ کسی نے دوسرے کی مختلف رائےکو انا کا مسئلہ نہیں بنایا، نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ میری امت میں اختلاف باعث رحمت ہے۔ بدقسمتی سے آج ہم اختلاف کو ذاتی حملہ سمجھنے لگے ہیں۔ دلیل کے جواب میں لہجہ سخت ہو جاتا ہے، اور مکالمے کی جگہ محاذ آرائی لے لیتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ نہ سچ سامنے آتا ہے، نہ اصلاح کی کوئی صورت باقی رہتی ہے۔ حالانکہ صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں مختلف آرا کو سننے کا حوصلہ موجود ہو۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اختلاف اور انتشار میں فرق ہے۔ اختلاف شائستگی، احترام اور دلیل کے دائرے میں ہو تو رحمت بنتا ہے، اور اگر اس میں تضحیک، الزام اور نیت کی خرابی شامل ہو جائے تو وہ اختلاف نہیں بلکہ فساد ہوتا ہے۔ کبھی بھی اختلافِ رائے کو دبانا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہمیں اختلاف جینے کا سلیقہ سکھایا جائے۔ کیونکہ جہاں اختلاف ختم ہو جائے، وہاں سوچ بھی ختم ہو جاتی ہے—اور سوچ کے بغیر کوئی معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا۔
ویسے تو دنیا میں مسلمانوں پر کہیں بھی ظلم ہو اہل پاکستان ہمیشہ ہی ان کا دکھ محسوس کرتے ہیں لیکن کشمیر اہل پاکستان کے لئے ہمیشہ ہی ایک جذباتی معاملہ رہا ہے۔ اسی سال ہو گئے اس معاملے کو ، قیام پاکستان کے وقت جو نوجوان تھے ان میں سے اکثریت اب اس دار فانی سے کوچ کرچکی ہے۔ لیکن ہر نسل نے اپنی اولاد کو یہی بتایا کہ کشمیری ہمارے بھائی ہیں اور ہم ان کو کبھی بھی انڈیا کے ظلم و ستم سہنے کے لئے تنہا نہیں چھوڑا اور نہ ہی چھوڑیں گے ، اس لئے بچو تم بھی ان سے منہ نہ موڑنا۔۔۔۔آزادی سے لے کر اب تک یہ تیسری نسل ہے ، جو کشمیر کے لئے اپنا تن من دھن قربان کرنے کو تیار ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کبھی یہ تحریک تیز ہوئی اور کبھی ایسا معلوم ہونے لگا کہ شاید آزادی کی یہ جدوجہد ختم ہو گئی ہے۔یہ سب حکومتی ایوانوں کی پالیسیاں ہوں تو ہوں لیکن عام پاکستانی کے دل میں ہمیشہ اہل کشمیر کا درد رہا۔ ہر پاکستانی ماں ، بہن اور بیٹی نے جب بھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے کشمیر کی آزادی کے لیے دعا کئے بغیر کبھی اپنی دعا کو ختم نہیں کیا۔ ہندوستان نے آرٹیکل 370 ہٹایا اور جموں و کشمیر میں کرفیو لگا دیا ۔میری اس بات کو اگر مبالغہ آرائی نہ سمجھا جائے تو میں یہ ضرور کہوں گی کہ میں نے آتی جاتی ہر سانس میں کشمیر کے لوگوں کے لئے خیریت کی دعا مانگی۔ اتنا عرصہ گزر گیا ، لگ بھگ ایک صدی ہی ہو گئی اہل پاکستان اہل کشمیر کی حمایت کرنے سے نہیں تھکے اور نہ ہی انہوں نے سوچا کہ چھوڑو مقبوضہ کشمیر کو۔۔۔
جتنا کشمیر ہمارے پاس ہے ہے اسی کو اپنے ملک میں ضم کرتے ہیں اور چین سے زندگی گزارتے ہیں۔کیا فائدہ اتنی جنگیں لڑنے کا۔۔۔۔۔۔ لیکن پچھلے کچھ دنوں سے ہماری آنکھوں نے جو دیکھا اور کانوں نے جو سنا ، اس نے ہمارے دلوں کو بہت تکلیف دی۔ناقابل بیان رنج ہوا۔ اگر کہیں کوئی انتظامی کوتاہی ہے یا مہنگائی ہے تو کیا صرف آزاد کشمیر میں ہے؟باقی پاکستان چین سے زندگی گزار رہا ہے؟ اتنا فساد کہ بات قتل وغارت تک آ گئی؟ جہاں تک سوال ہے مہاجرین کی سیٹوں کا ، یہ تو اپنے بھائیوں سے بیزاری معلوم ہوتی ہے۔آپ ایسے نہیں کر سکتے یہ تو کھلا کھلا شہداء کے خون سے غداری کی مانند ہے۔ظلم تو مقبوضہ کشمیر والے سہہ رہے ہیں اور یہ مہاجرین چاہے اب پاکستان میں آرام سے زندگی گزار رہے ہیں ، پھر بھی یہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی علامتی طور پر نمائندگی کرتے ہیں اور علامتوں کی بہت اہمیت ہے۔ ہاں احتجاج کرنا حق ہے لیکن اگر اس احتجاج کے نتیجے میں فتنہ و فساد ہو اور بھائی بھائی کے ہاتھوں قتل ہو تو یہ احتجاج یا حقوق کا مطالبہ نہیں بلکہ فساد ہے اور فساد پھیلانے والے کی بد نیتی کا مظہر بھی ہے۔۔ اقبال کا کیا کہنا کتنی اچھی بات کہی کہ۔۔۔۔۔
اللہ سے کرے دور ، تو تعلیم بھی فتنہ املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ۔۔۔ غیروں سے لڑو تو زخم تکلیف نہیں دیتے اور اگر لڑائی اپنوں سے ہی ہو جائے تو نا صرف جسم دکھتا ہے بلکہ دل بھی پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔اللہ ملک پاکستان اور کشمیر دونوں پر اپنا کرم کرے اور دشمنوں اور منافقوں سے محفوظ رکھے آمین۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد
زندگی آزمائشوں کا نام ہے۔ کبھی خوشی کی صورت میں، کبھی غم کی شکل میں، اور کبھی ایسے حالات میں جب انسان اپنی بساط سے باہر محسوس کرتا ہے۔ ایسے مواقع پر صبر اور توکل وہ دو چراغ ہیں جو مومن کے راستے کو روشن رکھتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ” (البقرہ: 153) یعنی بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یہ آیت ہمیں یقین دلاتی ہے کہ صبر محض برداشت کا نام نہیں بلکہ اللہ کی معیت اور مدد کا ذریعہ ہے۔ویسے تو سب پیغمبر صابر ہوئے اور اللہ کے کام کے راستے میں ان کو جتنی بھی مشکلات آئیں ان کو انہوں نے خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ لیکن جب ہم صبر کی بات کرتے ہیں تو سب سے روشن مثال حضرت ایوب علیہ السلام کی ہے۔ مال و دولت، اولاد اور صحت—سب کچھ چھن گیا، مگر زبان پر شکوہ نہ آیا۔ آپؑ نے ان تمام مشکلات کے جواب میں صرف اتنا ہی فرمایا: “اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ” (مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے)۔ یہ دعا صبر کے ساتھ امید اور توکل کی اعلیٰ مثال ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف صحت لوٹائی بلکہ پہلے سے بڑھ کر نعمتیں عطا فرمائیں۔ اللہ نے قرآن مجید میں اہل ایمان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو جب تکلیف پہنچی ہے تو وہ وہ کہتے ہیں(انا للہ وانا الیہ راجعون )یعنی کے ان کو پہنچنے والی کوئی بھی تکلیف ان کے ایمان کو ڈگمگا نہیں سکتی ۔
نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی کا ہر لمحہ آپ کے صبر عظیم کا گواہ ہے۔نبوت کے اعلان کے بعد اپنوں اور غیروں کی طرف سے آپ کو کیا کیا مشکلات نہ پیش آئیں۔ لیکن کوئی بھی دکھ اور تکلیف آپ کو اس کارعظیم سے ہلا نہ سکا۔توکل کا عظیم منظر ہمیں ہجرت کے موقع پر نظر آتا ہے جب حضرت محمد ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ غارِ ثور میں موجود تھے۔ دشمن دروازے تک پہنچ چکے تھےاور ان کے پاؤں بھی دیکھے جا سکتے تھے ۔ اس نازک لمحے میں بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا” (غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے)۔ یہ جملہ توکل کی معراج ہے—وسائل کم ہوں، خطرہ قریب ہو، مگر دل مطمئن ہو کہ ہم راہ راست پر ہیں اور یہ کہ اللہ کی مدد شاملِ حال ہے۔صبر اور توکل کا آپس میں گہرا تعلق ہے صبر انسان کو گھبراہٹ سے بچاتا ہے اور توکل اسے مایوسی سے نکالتا ہے۔ صبر کے بغیر توکل ادھورا ہے، اور توکل کے بغیر صبر خالی خولی اور بے ثمر برداشت بن جاتا ہے۔ مومن پہلے اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے، پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔ یہی اصل توکل ہے۔ حضرت علیؓ کا قول ہے: “صبر ایمان کے لیے ایسا ہے جیسے جسم کے لیے سر۔” یعنی صبر کے بغیر ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔ موجودہ دور کی تیز رفتار زندگی میں بے چینی عام ہے۔ معاشی دباؤ، گھریلو مسائل اور سماجی تقاضے انسان کو تھکا دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر ہم ہر مشکل پر صبر اختیار کریں اور ہر فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیں تو دل کو سکون ملتا ہے۔ صبر ہمیں مضبوط بناتا ہے، اور توکل ہمیں مطمئن۔ صبر آزمائش میں سہارا ہے، اور توکل کامیابی کا وسیلہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں صبر کرنے اور کامل توکل اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ خوش رہیے اس یقین کے ساتھ کے اللہ آپ کی تکلیفوں اور کوششوں کو دیکھ رہا ہے۔
عورتیں جاب کیوں کرتی ہیں؟ جیسے ہی آپ نے یہ پڑھا ہوگا ،ساتھ ہی آپ کے ذہن میں اپنے معاشی حالات، معاشرتی توقعات اور خاندانی روایات کے حساب سے کوئی نہ کوئی جواب ضرور آیا ہو گا اور کچھ نوکری پیشہ عورتوں کا چہرہ بھی تصور میں آیا ہوگا۔لیکن کیا کوئی ایسا بھی ہے جس نے گھر کے کام کو بھی جاب سمجھا اور اس کے دماغ میں گھر کا کام کرتی ماں ،بہن ،بھابھی یا بیوی آئی ہو؟اگر کسی کے ذہن میں آیا ہے تو کمنٹ باکس میں ضرور بتائیے۔۔ یہ سوال بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے پیچھے صدیوں کی معاشرت، حالات کی جکڑن، اور بدلتی ہوئی دنیا کی دھڑکن سنائی دیتی ہے۔ عورت کا جاب کرنا کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں، بلکہ بہت سی مجبوریوں، ضرورتوں اور کبھی کبھار خوابوں کا مجموعہ ہے۔ سب سے پہلی اور بڑی وجہ معاشی ضرورت ہے۔ آج کا دور ایک کمائی پر گزارا کرنے کا متحمل نہیں۔ مہنگائی، بچوں کی تعلیم، علاج اور بنیادی ضروریات—اکثر گھر عورت کے ہاتھ مضبوط کیے بغیر نہیں چل پاتے۔ بہت سی عورتیں شوق سے نہیں، مجبوری میں جاب کرتی ہیں تاکہ گھر کی کشتی ڈوبنے سے بچی رہے۔ دوسری وجہ خود اعتمادی اور خود کفالت ہے۔ تعلیم یافتہ عورت یہ چاہتی ہے کہ وہ بوجھ نہیں، سہارا بنے۔ اس کی کمائی اسے عزتِ نفس دیتی ہے، فیصلہ سازی میں آواز دیتی ہے، اور مشکل وقت میں کسی کے رحم و کرم پر نہ ہونےکا حوصلہ دیتی ہے۔ کچھ عورتیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے کام کرتی ہیں۔ علم، ہنر اور قابلیت اگر استعمال میں نہ آئے تو زنگ آلود ہو جاتی ہے۔ جاب ان کے لیے پہچان، شناخت اور مقصد کا ذریعہ بنتی ہے—یہ احساس کہ وہ بھی معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سی عورتیں مجبوراً جاب کرتی ہیں: بیوہ ہونا، طلاق، شوہر کی بے روزگاری یا غیر ذمہ داری—یہ سب اس سوال کا خاموش جواب ہیں۔ ایسے میں جاب شوق نہیں، بقا بن جاتی ہے۔ اگر آپ ایسے مرد ہیں جو سمجھتے ہیں کہ کمانا مرد کی ذمہ داری ہے تو گھر میں رہ کر آپ کی اولاد کی تربیت کرتی اور گھر کے انتظامات سنبھالتی عورت کو acknowledge کریں۔ورنہ مشرق کی عورت بھی مغربی عورت کی طرح اگر لازمی طور پر کمانے لگی تو گھر (جو کہ دونوں کا ہے،) بکھر جائے گا۔ یاد رکھیں عورت کا جاب کرنا بغاوت نہیں، حالات سے مکالمہ ہے۔ یہ ضد نہیں، ضرورت ہے۔ اور جہاں یہ انتخاب ہو، وہاں اسے عزت اور سہولت کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے—کیونکہ مضبوط عورت دراصل مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔
تاریخِ اسلام کے صفحات میں ہمیں بعض ایسے مواقع ملتے ہیں جب حالات بظاہر انتہائی مشکل نظر آتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید اب اسلام شکست کھا جائے گا مگر عین اسی وقت اللہ کی مدد آتی ہے اور بازی پلٹ جاتی ہے۔ انہی میں سے ایک عظیم واقعہ غزوۂ احزاب (خندق) کا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب مدینہ منورہ کے خلاف مختلف قبائل اور دشمن طاقتیں متحد ہو کر حملہ آور ہوئیں اور مدینہ میں منافقین کی زبان درازی عروج پر تھی ۔ مسلمان تعداد میں کم تھے، وسائل محدود تھے اور دشمن چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھا۔گویا کہ سارے عرب کے ساتھ ساتھ مدینہ کے اندر بھی ایک جنگ جاری تھی۔
قرآن مجید اس منظر کو یوں بیان کرتا ہے: “إِذْ جَاءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ” (سورۃ الاحزاب: 10) ترجمہ: “جب وہ تم پر اوپر سے بھی چڑھ آئے اور نیچے سے بھی، اور آنکھیں پتھرا گئیں اور دل گلے تک آ پہنچے۔” یہ وہ وقت تھا جب بظاہر ہر طرف خوف، سازشیں اور آزمائشیں تھیں۔ منافقین بددل کرنے والی باتیں کر رہے تھے،یعنی اہل ایمان پر ایسا وقت شاید ہی پہلے کبھی آیا ہو۔جبکہ مخلص اہل ایمان کا حال قرآن نے یوں بیان کیا: “هَٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ” (الاحزاب: 22) یعنی سچے مومنوں نے کہا: “یہی وہ وعدہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔”
ہم پاکستان کو مدینہ ثانی کہتے ہیں۔حیرت انگیز طور پر پاکستان کی پہلی جنگ 1965 میں ہم نے اپنے سے بہت بڑے دشمن کو شکست دی جبکہ 1971 کی جنگ میں بیرونی سازشوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اندرونی معاملات کی وجہ سے شکست ہوئی۔۔کچھ لوگ ان جنگوں کو غزوۂ بدر اور غزوۂ احد سے بھی مماثل قرار دیتے ہیں۔ اگر ہم آج کے پاکستان کے حالات پر نظر ڈالیں تو ہمیں بھی کئی طرح کی مشکلات نظر آتی ہیں۔ سیاسی کشمکش، معاشی دباؤ، بے یقینی اور معاشرتی تقسیم نے قوم کو ایک عجیب اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسائل ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ اور اس پر یہود و ہنود کا گٹھ جوڑ اور ہمارے افغان بھائیوں کا منافقین والا رویہ اور پاکستان پر دہشت گردانہ حملہ آوروں کی حمایت۔۔۔۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس دفعہ کفار کا پاکستان کو تباہ کرنے کا منصوبہ کامیاب ہوجائے۔(خدانخواستہ ) لیکن تاریخ کا سبق یہی ہے کہ مشکل حالات ہمیشہ مستقل نہیں ہوتے۔ غزوۂ احزاب میں بھی آخرکار اللہ کی مدد آئی اور دشمن کی ساری سازشیں ناکام ہو گئیں۔ قرآن کہتا ہے: “وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا” (الاحزاب: 25) ترجمہ: “اور اللہ نے کافروں کو ان کے غصے کے ساتھ ہی واپس لوٹا دیا، وہ کوئی فائدہ نہ پا سکے۔” یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب قومیں صبر، حکمت اور اتحاد کا راستہ اختیار کرتی ہیں تو مشکل سے مشکل حالات بھی بدل سکتے ہیں۔ آزمائشیں دراصل قوموں کے حوصلے، ایمان اور کردار کو پرکھنے کے لیے آتی ہیں۔ آج ہمیں بھی ضرورت ہے کہ مایوسی اور انتشار کے بجائے امید، صبر اور اجتماعی شعور کو اختیار کریں۔ اختلاف رائے اپنی جگہ، مگر قومی مفاد اور اخلاقی اصولوں کو مقدم رکھنا ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں بحران سے نکال سکتا ہے۔ اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، سحر ضرور طلوع ہوتی ہے۔
اسرائیل ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس کا اختتام اسکی اپنی تباہی پر ہے۔۔۔۔۔ ۔۔۔اور میں یہ اس لئے نہیں کہ رہی کہ احادیث سے یہ بات ثابت ہے۔گو کہ جو کچھ اللہ کے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا وہ سب حق ہے۔ بلکہ میری اس رائے کی وجہ اس کا ظالم اور ناجائز ہونا ہے یعنی آپ نے پہلے مظلومیت کا ڈھونگ رچا کر توکسی کے گھر پر پناہ لی پھر آہستہ آہستہ اس پر قبضہ کیا پھر اس کے گھر والوں کو وہاں سے نکالا اور جو وہاں بچ رہے آپ نے ان پر ظلم کرنا شروع کر دیا کہ جو میری بات نہیں مانے گا میں اس کو قتل کردوں گا۔ آپ نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسکے آباو اجداد کے طرز زندگی کو اپنا بتانا شروع کر دیا کہ میرے آباو اجداد اس جگہ ایسے رہتے تھے۔ ۔اس کے کلچر اور تہذیب کو دنیا میں اپنے نام سے پیش کرنا شروع کر دیا ‘اس کے گھر کا نام بدل کر نیا نام رکھ دیا یعنی ہر طرح سے اس گھر کو اس کے اصل مکینوں کی شناخت سے جدا کر دینے کی پوری کوشش کی۔ دوسری وجہ بلکہ اس کی پوزیشن جوکہ مڈل ایسٹ میں ہے۔ہر طرف مسلمان ہیں۔ایک چھوٹے سے علاقے پر ظلم و ستم سے قبضہ کر کے سمجھ رہا ہے کہ شاید میں کوئی بہت بڑا فاتح ہوں اور وہ قبضہ بھی اس نے اپنے بل بوتے پر نہیں کیا بلکہ دنیا کی بڑی طاقتوں سے طاقت ادھار لے کر کیا ہے۔ لیکن اس دھوکے اور غرور میں آ کر بد مست ہاتھی کی طرح ایران پر چڑھ دوڑا ہےاور اعلان کر رہا ہے کہ سارے مڈل ایسٹ پر قبضہ کروں گا حالانکہ صرف ایران پر ہی اکیلا حملہ کرنے کی ہمت آج بھی نہیں ہے۔۔ ایک چھوٹے سے علاقے پر تو پچھلے 80 سال سے اکیلا قبضہ کر نہیں سکا پورے عرب پر کیسے کرے گا؟ یہ بات درست ہے کہ 1967کے بعد عربوں نے کبھی اسرائیل کے ساتھ جنگ نہیں کی اور انہوں نے جنگ کی بجائے اپنی معاشی ترقی پر توجہ دی ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ان پر قبضہ ہو سکتا ہے۔ تھوڑے سے فلسطینی تو تمہارے قابو میں نہیں آ رہے تو کروڑوں عرب کیسے قابو میں کرو گے؟ اگر یہ عرب لڑنے پر آ جائیں تو تمہیں بچنے کی راہ نہیں ملے گی اگرچہ آج کے مہلک ہتھیاروں کی بدولت خون بہت بہہ جائے گا زمین بھی شاید بنجر ہوجائے۔ لیکن یاد رہے اہل مدینہ آج بھی موجود ہیں جنہوں نے تمہارے اباواجداد کو دھوکہ دہی اور عہد شکنی کی وجہ سے نکالا تھا۔۔۔۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے جانشین یہیں موجود ہیں ۔اسلام آیا اور آج تک موجود ہےلیکن تم اور تمہارے آباواجداد جہاں کہیں گئے نکالے گئے۔ وہ کہیں بھی مستقل آباد نہیں ہو پائےوجہ تم لوگوں کی عادتیں ہیں ۔۔۔۔دھوکہ بازی،سود ،جھوٹ ،لڑائی ،فساد فی الارض اور اللہ کی نافرمانی۔۔تم نہیں بدلے۔۔۔۔اللہ کا قانون بھی نہیں بدلے گا۔۔۔۔ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يَرْحَمَكُمْ ۚ وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ حَصِيرًا ترجمہ: “امید ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے، لیکن اگر تم دوبارہ (سرکشی کی طرف) لوٹو گے تو ہم بھی (عذاب کی طرف) لوٹ آئیں گے، اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ بنا رکھا ہے۔” سورۃ الاسراء (بنی اسرائیل)، آیت: 8
مدیحہ انور
Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message