مسلسل منفی خبروں کی یلغار کس طرح ہمارے ذہنی سکون، احساسِ تحفظ اور موجودہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے؟
تحریر:مدیحہ انور خلیل
اس دنیا میں ہر طرف افراتفری ہے، دکھ ہیں، جنگیں ہیں اور پریشانیاں ہیں۔ صبح و شام ہر طرف سے بری خبروں کی یلغار ہے۔ انسانی تاریخ نے یقیناً بہت مشکل حالات دیکھے ہیں۔ ظلم و ستم کی بے شمار داستانیں ہمارے کانوں نے سنی ہیں اور تاریخ دانوں نے انہیں کتابوں میں محفوظ کیا ہے۔ آئیے انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے والے واقعات، جنگوں، وباؤں، قحط اور قدرتی آفات کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ اندازاً ہلاکتیں • طاعون (Black Death، 1346–1353ء): 7.5 سے 20 کروڑ • دوسری جنگِ عظیم (1939–1945ء): 7 سے 8.5 کروڑ • منگول (تاتاری) فتوحات: 3 سے 6 کروڑ • ہسپانوی فلو (1918–1920ء): 1.7 سے 5 کروڑ • پہلی جنگِ عظیم (1914–1918ء): 1.7 سے 2 کروڑ • تائپنگ بغاوت (چین، 1850–1864ء): 2 سے 3 کروڑ • ان لوشان بغاوت (چین، 755–763ء): 1.3 سے 3.6 کروڑ • 1958–1962ء کا عظیم چینی قحط: 1.5 سے 5.5 کروڑ • 1931ء کے چین کے سیلاب: 10 سے 40 لاکھ قدرتی آفات کی چند نمایاں مثالیں • 1556ء کا شاآنشی زلزلہ (چین): تقریباً 8 لاکھ 30 ہزار اموات؛ تاریخ کا سب سے مہلک زلزلہ۔ • 2004ء بحرِ ہند سونامی: تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار اموات۔ • 1935ء کوئٹہ زلزلہ: تقریباً 30 ہزار سے 60 ہزار اموات۔ • 1970ء بھولا سائیکلون (بنگلہ دیش): تقریباً 3 سے 5 لاکھ اموات۔ ان اعداد سے واضح ہوتا ہے کہ وباؤں اور قحط نے مجموعی طور پر جنگوں سے بھی زیادہ انسانوں کی جانیں لی ہیں، جبکہ دوسری جنگِ عظیم جدید تاریخ کا سب سے مہلک مسلح تنازع تھا۔ قدیم واقعات کے اعداد مختلف تاریخی ذرائع میں کچھ فرق کے ساتھ ملتے ہیں، اس لیے انہیں تخمینی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پہلے اور آج کے زمانے میں ایک بنیادی فرق ہے۔ آج دنیا کے کسی بھی کونے میں رونما ہونے والی خبر لمحوں میں پوری دنیا تک پہنچ جاتی ہے۔ مسلسل منفی خبروں کی یلغار انسانوں میں اضطراب، ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کے احساس میں نمایاں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص خود امن و سکون سے زندگی گزار رہا ہو تب بھی وہ مطمئن نہیں رہ پاتا۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید اگلی مصیبت اسی کے دروازے پر دستک دینے والی ہے۔ یہی احساس اسے اپنی موجودہ نعمتوں سے صحیح طور پر لطف اندوز ہونے سے بھی محروم کر دیتا ہے اور ایک انجانا خوف مسلسل اس کے ساتھ رہتا ہے۔ آج کی اس ترقی یافتہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ ہر طرح کی خبر تک فوری رسائی ہے۔ انسان نے صدیوں تک خبر حاصل کرنے کے لیے سفر کیے، مگر آج خبر خود انسان کے تعاقب میں ہے۔ بدقسمتی سے اچھی خبر ہر جگہ نہیں پہنچتی، لیکن بری خبر دنیا کے ہر انسان تک ضرور پہنچ جاتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان ان دکھوں کا بوجھ بھی اٹھانے لگا ہے جن کا وہ خود کبھی حصہ نہیں تھا، اور رفتہ رفتہ وہ ہر چیز کو ایک منفی عینک سے دیکھنے لگتا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ کی دعاؤں میں ایک دعا یہ بھی تھی: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا ترجمہ: “اے اللہ! میں تجھ سے نفع دینے والا علم، پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں۔” (سنن ابن ماجہ) اسی لیے ہر خبر پر نظر رکھنا ضروری نہیں۔ سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنی اور پوری انسانیت کی خیر کی دعا کریں اور اس کی مخلوق پر اس کی رحمت طلب کریں۔ ضروری نہیں کہ جو کچھ آنکھیں دیکھ رہی ہوں اور کان سن رہے ہوں، وہ مکمل حقیقت بھی ہو۔ اس پرفتن دور میں ہم جتنا غیر ضروری خبروں سے خود کو محفوظ رکھیں گے، اتنا ہی اپنے ایمان، ذہنی سکون اور قلبی اطمینان کی حفاظت کر سکیں گے۔
“موت اختتامِ زندگی نہیں، بلکہ صبحِ دوام کا آغاز ہے۔ ہر اختتام اپنے ساتھ ایک نئی ابتدا لے کر آتا ہےموت اسلام کی نظر میں اختتام نہیں بلکہ ابدی زندگی کا آغاز ہے۔ قرآن، حدیث اور علامہ اقبال کے افکار کی روشنی میں ایک فکری و روحانی مضمون۔
موت… ایک ایسا لفظ جس کا نام سنتے ہی دل کی دھڑکنیں جیسے ایک لمحے کو ٹھہر سی جاتی ہیں۔ باوجود اس کے کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے، پھر بھی انسان جب بھی اس کے بارے میں سوچتا ہے تو پریشان ہو جاتا ہے۔موت کے ساتھ ایک انجانا خوف منسلک ہےکہ جب کوئی مر جاتا ہے تو نجانے اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟وہ کہاں جاتا ہے؟ انسان اپنی تمام تر ترقی، علم، طاقت اور اختیار کے باوجود اس حقیقت کے سامنے بے بس ہے۔ یہ وہ سچ ہے جس پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہر پیدا ہونے والا ایک دن اس کے دروازے پر ضرور پہنچتا ہے۔ ہم ہر روز اپنے سامنے ہر عمر اور ہر مذہب کے انسان کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں،یوں موت ہمارے لئے کوئی اجنبی شئے نہیں ہے۔ ہمیشگی کی زندگی پانا انسان کی ہمیشہ خواہش رہی ہے۔ زمانہء قدیم سے ہی لوگوں نے اس کے لئے کوشش کی اور سائنس کے اس دور میں بھی سائنسدان لمبی زندگی پانے کے لئے کوشاں ہیں ۔ان سب کے باوجود موت سے مفر نہیں ۔ قرآن مجید انسان کو بار بار یاد دلاتا ہے: ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾ “ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔”
غور کیجیے، قرآن یہ نہیں کہتا کہ ہر جان ختم ہو جائے گی، بلکہ فرماتا ہے کہ ہر جان موت کا ذائقہ چکھے گی۔ ذائقہ کسی چیز کے اختتام کا نہیں بلکہ ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ گویا موت ایک دروازہ ہے، منزل نہیں۔ اسلامی تصورِ حیات میں دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔ یہاں ہر خوشی عارضی ہے، ہر غم وقتی ہے، ہر کامیابی محدود ہے اور ہر ناکامی بھی ہمیشہ نہیں رہتی۔ اگر یہ دنیا دائمی ہوتی تو نہ جوانی ڈھلتی، نہ محبتیں بچھڑتیں، نہ موسم بدلتے اور نہ انسان اپنے پیاروں کو رخصت کرتا۔ دنیا کی یہی ناپائیداری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل گھر کہیں اور ہے۔ سورۂ العنکبوت میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾ “اور بے شک آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے، کاش یہ لوگ جانتے ہوتے۔” کتنی حیرت کی بات ہے کہ ہم اس عارضی دنیا کو “اصل زندگی” سمجھ کر اس کے لیے سب کچھ قربان کر دیتے ہیں، جبکہ قرآن ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ حقیقی زندگی تو وہ ہے جس کا کوئی اختتام نہیں۔ موت کا شعور انسان کو زندگی سے بے زار نہیں کرتا، بلکہ اسے زندگی کا مقصد عطا کرتا ہے۔ جسے معلوم ہو کہ ہر لمحہ امانت ہے، وہ وقت ضائع نہیں کرتا۔ جو جانتا ہو کہ ہر لفظ لکھا جا رہا ہے، وہ زبان کی حفاظت کرتا ہے۔ جسے یقین ہو کہ ہر عمل کا حساب ہونا ہے، وہ انصاف، دیانت اور رحم کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز، یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔” اس حدیث کا مقصد انسان کو مایوسی میں دھکیلنا نہیں بلکہ غفلت سے بیدار کرنا ہے۔ موت کی یاد غرور کو توڑتی ہے، تکبر کو نرم کرتی ہے، دل میں عاجزی پیدا کرتی ہے اور انسان کو اپنی حقیقت سے روشناس کراتی ہے۔ آج کا انسان موت سے اس قدر خوف زدہ کیوں ہے؟ شاید اس لیے کہ اس نے دنیا کو ہی اپنی آخری منزل بنا لیا ہے۔ جب منزل یہی دنیا ہو تو موت سب کچھ چھین لینے والی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن جب منزل آخرت ہو تو موت راستہ بدلنے کا نام بن جاتی ہے، نہ کہ وجود کے مٹ جانے کا۔ قدرت کا ہر منظر ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔ خزاں کے بعد بہار آتی ہے، رات کے بعد صبح طلوع ہوتی ہے، بارش کے بعد زمین پھر سے سرسبز ہو جاتی ہے۔ اگر فطرت میں کوئی چیز ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہوتی تو انسان، جو اشرف المخلوقات ہے، اس کا سفر بھی موت پر ختم کیسے ہو سکتا ہے؟ علامہ اقبال نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا ہے۔ “موت کو سمجھے ہے غافل اختتامِ زندگی یہ ہے شامِ زندگی، صبحِ دوامِ زندگی۔” موت انسان کی زندگی ختم ہو جانے کا نام نہیں ہے بلکہ ایک نہ ختم ہونے والی زندگی کی شروعات ہے۔یوں کہیے کہ یہ وہ مقام ہے جو انسان اپنی محنت کے صلے میں پاتا ہے۔
موت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ انسان اپنے ساتھ کچھ نہیں لے جاتا۔ نہ اس کا گھر، نہ بینک بیلنس، نہ شہرت، نہ عہدہ۔ اگر کچھ ساتھ جاتا ہے تو وہ اس کا کردار، اس کی نیت، اس کی عبادت، اس کی خدمتِ خلق اور اس کے چھوڑے ہوئے نیک اثرات ہیں۔ اسی لیے داناؤں نے کہا ہے کہ انسان کی اصل زندگی اس کے سانسوں سے نہیں، بلکہ اس کے اعمال سے پہچانی جاتی ہے۔ علامہ اقبال نے بھی موت کو فنا نہیں، بلکہ ایک ارتقا کے طور پر دیکھا۔ ان کے نزدیک مومن کے لیے موت ایک نئی پرواز ہے، کیونکہ اس کی روح ایک محدود دنیا سے نکل کر اپنے حقیقی سفر کی طرف روانہ ہوتی ہے۔ آخرکار، موت کا خوف اسی دل میں زیادہ ہوتا ہے جو دنیا کو ہمیشہ کی رہائش سمجھ بیٹھا ہو۔ جس دل میں یقین ہو کہ اس کا رب رحمان و رحیم ہے، اس کے لیے موت ایک امید بھی ہے، ایک ملاقات بھی اور ایک نئی صبح بھی۔ آئیے، ہم اپنی زندگی کو اس شعور کے ساتھ گزاریں کہ ہر دن ہمیں ابدیت کے قریب لے جا رہا ہے۔ اپنے دلوں کو کینہ، حسد اور غرور سے پاک کریں، اپنے اعمال کو سنواریں، اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں۔ کیونکہ جب شامِ زندگی اترے گی تو یہی اعمال صبحِ دوام کی پہلی کرن بنیں گے۔ پس موت سے ڈرنے کے بجائے اس زندگی سے ڈرنا چاہیے جو مقصد کے بغیر گزر جائے، کیونکہ موت اختتام نہیں، بلکہ اس حقیقت سے ملاقات ہے جس کے لیے ہم اس دنیا میں بھیجے گئے تھے۔
انسانی زندگی میں اعتدال وہ بنیادی وصف ہے جو فرد کی شخصیت، معاشرے کے استحکام اور تہذیبوں کی بقا کا ضامن بنتا ہے۔ جب انسان افراط و تفریط کا شکار ہوتا ہے تو اس کے فیصلے، تعلقات اور رویے بھی عدمِ توازن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اعتدال کو محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات کے طور پر پیش کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اس اعتدال کی کامل ترین عملی تفسیر ہے۔ میانہ روی دولت سے بڑھ کر ایک نعمت ہے۔ جو شخص اپنی خواہشات کو عقل کے تابع رکھتا ہے، وہ وسائل کی کمی کے باوجود بھی مفلس نہیں ہوتا، کیونکہ اصل خوشحالی مال کی فراوانی نہیں بلکہ اعتدالِ زندگی ہے۔نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا “مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ” ترجمہ: “جس نے میانہ روی اختیار کی، وہ محتاج نہیں ہوا۔”
اسلام میں بھی میانہ روی کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: “اور نہ تو اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھ کر رکھو (یعنی بخل کرو)، اور نہ ہی اسے بالکل کھلا چھوڑ دو (یعنی فضول خرچی کرو)، ورنہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو جاؤ گے۔” (سورۃ بنی اسرائیل، آیت 29) یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کامیاب زندگی کا راستہ بخل اور اسراف کے درمیان اعتدال ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾ “اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل (درمیانی) امت بنایا ہے۔” (سورۃ البقرہ: 143) “امتِ وسط” سے مراد ایسی امت ہے جو انصاف، توازن، اعتدال اور حکمت کو اپنا شعار بنائے۔ اسلام نہ رہبانیت کی تعلیم دیتا ہے اور نہ ہی خواہشات کی بے لگام پیروی کی اجازت دیتا ہے، بلکہ دونوں کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ: اعتدال کا عملی نمونہ رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بہترین انسان وہ ہے جو ہر معاملے میں توازن برقرار رکھے۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ چند صحابہؓ نے زیادہ عبادت کی نیت سے دنیاوی ضروریات ترک کرنے کا ارادہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں، اور میں نے نکاح بھی کیا ہے۔ پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم) یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اسلام عبادت اور دنیاوی ذمہ داریوں کے درمیان توازن کا دین ہے۔ اعتدال صرف عبادات میں نہیں رسول اللہ ﷺ نے زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال اختیار کیا۔ • عبادت میں خشوع، مگر جسم کے حقوق کی ادائیگی بھی۔ • خاندان سے محبت، مگر عدل پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ • دشمنوں سے مقابلہ، مگر ظلم اور زیادتی سے اجتناب۔ • سخاوت، مگر اسراف نہیں۔ • بہادری، مگر تکبر نہیں۔ یہی وہ متوازن شخصیت ہے جس نے دنیا کی بہترین تہذیب کی بنیاد رکھی۔ موجودہ دور میں اعتدال کی ضرورت آج کا انسان شدت پسندانہ رویوں میں گھرا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر فوری ردِعمل، اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا، مذہبی، سیاسی اور سماجی انتہاپسندی—یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ ہم اعتدال سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں سکھاتی ہے کہ اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھا جائے، جذبات کے بجائے حکمت سے فیصلے کیے جائیں، اور انصاف کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ اعتدال: ایک کامیاب معاشرے کی بنیاد اگر والدین تربیت میں، اساتذہ تعلیم میں، علماء دعوت میں، حکمران فیصلوں میں، اور عام لوگ اپنے روزمرہ معاملات میں اعتدال اختیار کریں تو معاشرے میں برداشت، انصاف اور باہمی احترام فروغ پائے گا۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن پر ایک مضبوط اور پائیدار معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اعتدال کمزوری نہیں بلکہ فکری پختگی، اخلاقی بلندی اور روحانی بصیرت کی علامت ہے۔ امتِ مسلمہ کی حقیقی شناخت بھی اسی اعتدال میں ہے جو قرآن نے “امتِ وسط” کے نام سے بیان کی ہے۔ آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے کہ ہم اپنی عبادات، معاملات، تعلقات، گفتگو اور اختلافِ رائے میں رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنا رہنما بنائیں۔ جب فرد اعتدال اختیار کرتا ہے تو خاندان مضبوط ہوتا ہے، خاندان مضبوط ہوں تو معاشرہ مستحکم ہوتا ہے، اور جب معاشرہ مستحکم ہو تو ایک صالح اور پرامن امت وجود میں آتی ہے۔ اعتدال ہی وہ روشنی ہے جو انسان کو انتہاؤں کے اندھیروں سے نکال کر حکمت، عدل اور رحمت کے راستے پر گامزن کرتی ہے، اور یہی سیرتِ نبوی ﷺ کا روشن پیغام ہے۔
تحریر: مدیحہ انور خلیل
اعتدال: سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں متوازن زندگی کا اسلامی تصورموجودہ دور میں اعتدال کی ضرورت
کبھی کبھی ہم اپنی زندگی میں ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جو ہر خلاف مزاج بات پر غصہ میں آ جاتے ہیں اور ان کی آواز بلند ہو جاتی ہے،آپ حیران رہ جاتے ہیں کہ میں تو ایک بالکل نارمل بات کی تھی نہ جانے ان کو کیا ہوا ہے؟ یہ بات ممکن ہے کہ کوئی بات آپ کے لئے اہم نہ ہو لیکن دوسرے شخص کو وہ ناپسند ہو ،یہ عین فطرت ہے ۔ کبھی کبھار وقت پڑنے پر آواز بلند کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔لیکن یہ کیا کہ انسان ہر وقت ہی لڑنے مرنے پے آمادہ رہے؟۔ایسا کرنے والا انسان جھگڑالو کہلاتا ہے ۔اختلاف رائے، فکر یا نقطۂ نظر کے فرق کا نام ہے جس میں احترام اور مکالمے کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ لڑاکا مزاج ہر اختلاف کو تنازع بنا کر جیتنے یا دوسروں کو رد کرنے کی مسلسل کیفیت کا نام ہے۔ اختلاف شعور اور تنوع کو جنم دیتا ہے، جبکہ لڑاکا مزاج اکثر توازن، تعلق اور مقصد کو متاثر کر دیتا ہے۔ یا یوں کہیں کہ اس کی شخصیت میں توازن نہیں ہوتا ہے۔ توازن یا اعتدال کسی بھی انسان کا بنیادی وصف ہے۔ ہمہ وقت حالت جنگ میں رہنے سے درست موقف بھی کی بھی اہمیت نہیں رہتی۔ رائے دینا، حق کے لیے کھڑا ہونا اور ضرورت پڑنے پر آواز بلند کرنا ایک کسی بھی شخصیت کے لئے مثبت عمل سمجھا جاتا ہے۔ خاموشی ہمیشہ حکمت نہیں ہوتی اور ہر اختلاف سے بچتے رہنا بھی دانش مندی نہیں،کیونکہ ایک صاحب عقل و شعور رائے بھی رکھتا ہے اور وقت پڑنے پر اس کا اظہار بھی کرتا ہے۔نیز ہر مسئلہ پر اگر ہم خاموشی اختیار کر لیں گے تو اختلاف یا مسئلے کا حل کیسے نکلے گا؟ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انسان ہر وقت حالتِ جنگ میں رہے؟ کیا ہر بات کو معرکہ بنا دینا، ہر اختلاف کو ذاتی مسئلہ سمجھ لینا اور ہر لمحہ دفاع یا حملے کی کیفیت میں رہنا درست رویہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب انسان ہر وقت لڑنے، رد کرنے یا ثابت کرنے کی کیفیت میں رہتا ہے تو اس کی شخصیت میں توازن متاثر ہونے لگتا ہے۔
اختلافِ رائے زندگی کا حصہ ہے، مگر مستقل کشمکش انسان کے اندر ایسی بے چینی پیدا کر دیتی ہے جو سوچ، تعلقات اور فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایسے لوگ اکثر اپنی درست بات بھی ایسے انداز میں پیش کرتے ہیں کہ بات کی تاثیر کم اور تلخی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ آواز بلند کرنا بعض مواقع پر ضروری ہوتا ہے۔ ظلم، ناانصافی، حق تلفی یا اصولی معاملات میں خاموش رہنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ لیکن ہر موضوع کو میدانِ جنگ بنا دینا انسان کو تھکا دیتا ہے اور اس کے اردگرد کے لوگوں کو بھی دور کرنے لگتا ہے۔ غصے اور دفاعی موڈ میں انسان کا دماغ صحیح اور غلط کا فیصلہ نہیں کر پاتا، جس سے اکثر غلط فیصلے ہوتے ہیں۔ ہر وقت دفاعی حالت میں رہنے سے جسم میں ‘سٹریس ہارمونز’ (جیسے کورٹیسول) بڑھتے ہیں، جو دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر اور کمزور مدافعتی نظام کا باعث بنتے ہیں اور دوسری طرف لوگ ایسے افراد سے دور رہنا پسند کرتے ہیں جن کے رویے میں ہمیشہ تلخی اور تنقید ہو۔
ہمہ وقت حالتِ جنگ میں رہنے کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ انسان اپنے اصل مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔ وہ مسئلے کے حل سے زیادہ اپنی برتری ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔ نتیجتاً درست موقف بھی شدت کے شور میں دب جاتا ہے۔
مدیحہ انور خلیل
ہر اختلاف جنگ نہیں ہوتا۔ جانیے کہ ہر وقت دفاعی یا لڑاکا رویہ شخصیت، ذہنی سکون اور تعلقات کو کیسے متاثر کرتا ہے۔
اللہ تعالٰی نے جب اس دنیا کو تخلیق کیا تو اس کو آباد کرنے کے لئے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور پھر ان کا ساتھ دینے کے لئے حضرت حوا کو پیدا کیا۔انسان کو ہمیشہ ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے ۔اگر کوئی ساتھی ، کوئی دکھ درد اور خوشیاں بانٹنے والا نہ ہو تو جنت میں ہونا بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔ اقبال نے اپنی کتاب “ضرب کلیم “میں اپنی ایک نظم عورت کے عنوان سے تحریر کی ہے کہ۔۔۔۔۔
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشتِ خاک اس کی کہ ہر شرف ہے اسی درج کا دُرِ مکنوں مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں
یعنی اقبال فرماتے ہیں کہ اس دنیا کی خوبصورتی، رونق اور رنگینی عورت کے وجود کی بدولت ہے۔ اگر عورت نہ ہو تو کائنات بے رنگ اور اداس ہو جائے۔ زندگی کے اندر جینے کا جو جذبہ، تڑپ اور سوز (گرمی) موجود ہے، وہ عورت کے دم سے ہے۔ وہ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں کائنات کو زندگی بخشتی ہے۔ آخری شعر میں اقبال کہتے ہیں کہ عورت نے شاید افلاطون کی طرح فلسفے کی کتابیں نہ لکھی ہوں، لیکن افلاطون جیسے عظیم مفکر کو جنم دینے اور اس کی تربیت کرنے والی بھی ایک عورت (ماں) ہی ہے۔
زندگی محض سانسوں کے چلنے کا نام نہیں، بلکہ تعلقات کی خوشبو، احساس کی نمی اور رفاقت کی روشنی سے اس کا حسن قائم رہتا ہے۔
انسان کی اس داستانِ حیات میں مرد اور عورت دو مخالف کردار نہیں بلکہ ایک ہی کائنات کے دو ایسے رنگ ہیں جو مل کر زندگی کی تصویر مکمل کرتے ہیں۔ ان کا رشتہ برتری یا کشمکش کا نہیں، بلکہ محبت، احترام اور تکمیل کا رشتہ ہے۔ نہ جانے کب ایسا ہوا کہ مردوں نے وہ طاقت جو اللہ نے انہیں عورتوں کی حفاظت کے لئے دی تھی، انہی پر استعمال کرنا شروع کر دی۔۔جنہیں قوام اور نگہبان بنایا تھا وہ آقا اور مالک بن بیٹھے اور دوسری طرف عورت جو کہ اپنے ہر روپ میں مرد کے لئے راحت کا سبب ہے چاہے وہ ماں ہو،بیوی ہو بہن ہو یا بیٹی، وہ ان کے مقابل کھڑی ہو گئی۔ حالانکہ جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ قدرت نے دونوں کو ایک جیسا نہیں بنایا دونوں اپنی خصوصیات کے لحاظ سے جدا ہیں۔کیونکہ حسن ہمیشہ تنوع میں ہوتا ہے، مشابہت میں نہیں۔ مرد کے حصے میں کہیں استحکام، ذمہ داری اور تحفظ آیا تو عورت کے دامن میں لطافت، احساس اور سکون رکھ دیا گیا۔ یہی فرق فاصلے پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک دوسرے کی کمی پوری کرنے کے لیے ہے۔ عورت بظاہر جتنی مضبوط دکھائی دے، اس کے باطن میں احساسات کی ایک نہایت لطیف دنیا آباد ہوتی ہے۔ بعض اوقات ایک سخت لہجہ، ایک بے احتیاط جملہ یا ایک تلخ رویہ اس کے دل پر وہ اثر چھوڑ جاتا ہے جو مدتوں باقی رہتا ہے۔ شاعر نے شاید اسی کیفیت کو یوں بیان کیا: تو نے تلخی سے بات کیا کر دی دل نے دکھنے کی انتہا کر دی اسلام نے بھی عورت کے مقام اور اس کے احساسات کی نزاکت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے سفر کے دوران، جب اونٹوں کی رفتار تیز ہو رہی تھی اور عورتیں سواری پر موجود تھیں، تو ارشاد فرمایا: “رويدك يا أنجشة، لا تكسر القوارير” (اے انجشہ! آہستہ چلو، آبگینوں کو نہ توڑو۔) یہ الفاظ محض سفر کی رفتار کم کرنے کی ہدایت نہیں تھے بلکہ انسانی تعلقات کا ایک دائمی اصول تھے۔ یہاں “قواریر” یعنی آبگینے کا لفظ عورتوں کی بے قدری کے لیے نہیں بلکہ ان کی نزاکت، لطافت اور احساس کی قدر دانی کے لیے استعمال ہوا۔ گویا یہ تعلیم دی گئی کہ عورت کے ساتھ معاملہ کرتے وقت صرف الفاظ نہیں، لہجہ بھی نرم ہونا چاہیے؛ صرف حقوق نہیں، جذبات کا بھی خیال ہونا چاہیے۔ یہاں آبگینہ کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ ایسی شفافیت کی علامت ہے جسے بے احتیاطی سے دھندلا دیا جاتا ہے اور محبت سے روشن رکھا جاتا ہے۔ مرد اور عورت کا تعلق تب خوبصورت بنتا ہے جب مرد اپنی قوت کو نرمی کے ساتھ جوڑے اور عورت اپنی محبت کو اعتماد کے ساتھ۔ رشتے حکم سے نہیں، حسنِ سلوک سے زندہ رہتے ہیں۔ محبت میں جیتنے والا وہ نہیں جو غالب آ جائے، بلکہ وہ ہے جو دوسرے کے دل کو محفوظ رکھ لے۔ آخرکار، زندگی کا اصل حسن اسی میں ہے کہ مرد عورت کو سمجھنے کی کوشش کرے اور عورت مرد کی رفاقت کو محسوس کرے۔ کیونکہ جب تعلقات میں احترام، نرمی اور محبت شامل ہو جائے تو گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں رہتا، دلوں کی پناہ گاہ بن جاتا ہے ورنہ شیطان ان دونوں کو بہکا کر بہت دور لے جا سکتا ہے ۔آدم وحوا اگر شیطان کے رنگین وعدوں کے جال میں آئے تو جنت سے نکالے جا سکتے ہیں۔
آج جب ہم ایک آزاد فضا میں سانس لیتے ہیں، اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اور اپنی مسلم شناخت پر فخر کرتے ہیں، تو تاریخ کا وہ ورق خود بخود کھل جاتا ہے جس پر تحریکِ پاکستان کی طویل جدوجہد لکھی ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی تقسیم محض ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ کروڑوں مسلمانوں کے وجود، ان کی تہذیب اور ان کے مستقبل کو ایک مستقل غلامی سے بچانے کی واحد تدبیر تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال نے بہت پہلے بھانپ لیا تھا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کا مقدر صرف اور صرف محکومی ہوگا۔ اسی لیے پاکستان کو برصغیر کے مسلمانوں کی “واحد پناہ گاہ” قرار دیا گیا۔ تاریخ کے موازنے اور آج کے سنگین حالات سے یہ بات ایک اٹل سچائی بن کر سامنے آتی ہے۔ 1۔ سنتِ نبویﷺ اور ہجرت کا فلسفہ جب ہم پاکستان کے قیام اور مسلمانوں کی ہجرت کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں تاریخِ اسلام کا وہ عظیم الشان باب یاد آتا ہے جب مکہ مکرمہ میں قریش کے مظالم حد سے بڑھ گئے۔ مسلمانوں کے لیے اپنے عقیدے پر قائم رہنا اور آزادی سے سانس لینا ناممکن بنا دیا گیا۔ اس کٹھن وقت میں کائنات کے سب سے مقدس رہنما، نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے مسلمانوں کو مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ • غور طلب بات یہ ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ خود اس وقت مکہ ہی میں موجود تھے اور تمام مظالم کا سامنا کر رہے تھے، لیکن انہوں نے اپنے صحابہ کی جان، مال اور سب سے بڑھ کر ان کے ایمان کے تحفظ کے لیے ایک الگ پناہ گاہ (مدینہ منورہ) کا انتخاب فرمایا۔ • پس ثابت ہوا کہ جب کفر کا نظام مسلمانوں پر غالب آنے لگے اور دین پر عمل کرنا محال ہو جائے، تو ایمان کی حفاظت کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کی طرف ہجرت کرنا عین سنتِ نبویﷺ ہے۔ پاکستان کا قیام بھی اسی نبویؐ فلسفے کا تسلسل تھا تاکہ برصغیر کے مسلمان ایک آزاد اسلامی ماحول میں زندگی بسر کر سکیں۔ 2۔ 1947ء کا متحدہ ہندوستان: آبادی اور تناسب کا سچ تحریکِ پاکستان کے وقت مسلمانوں کی سب سے بڑی تشویش ان کی عددی اقلیت تھی۔ اگر ہم 1947ء کے متحدہ ہندوستان کی مجموعی آبادی (تقریباً 39 سے 40 کروڑ) پر نظر ڈالیں، تو آبادی کا تناسب کچھ یوں تھا: • ہندو آبادی: تقریباً 70 فیصد (قریب 27 سے 28 کروڑ) کے ساتھ ایک بہت بڑی اور مستقل اکثریت میں تھی۔ • مسلم آبادی: تقریباً 24 فیصد (قریب 9.5 سے 10 کروڑ) کے ساتھ ایک ایسی اقلیت تھی جو پورے برصغیر میں بکھری ہوئی تھی۔ مغربی طرز کی جمہوریت میں جہاں فیصلے “سر گن کر” ہوتے ہیں، اس 70 فیصد اکثریت کے سامنے مسلمانوں کی 24 فیصد آبادی سیاسی طور پر ہمیشہ کے لیے بے بس ہو جاتی۔ قائد اعظم نے اسی “اکثریت کے جبر” (Tyranny of Majority) سے مسلمانوں کو بچانے کے لیے پاکستان کا مطالبہ کیا۔ 3۔ نقلِ مکانی کا المیہ: جب تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت خون میں نہا گئی ایک تاریخی حقیقت جو اکثر فراموش کر دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ تقسیمِ ہند کے وقت یہ طے بالکل نہیں ہوا تھا کہ دونوں طرف کی آبادی مکمل طور پر نقلِ مکانی کرے گی۔ یہ فرض کیا گیا تھا کہ اقلیتیں اپنے اپنے ملکوں میں پرامن رہیں گی۔ لیکن جیسے ہی سرحدیں کھینچی گئیں، انتہا پسند ہندو اور سکھ گروہوں نے مسلمانوں کا ایسا منظم قتلِ عام شروع کیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ • بغیر کسی پیشگی تیاری کے، لاکھوں مسلمانوں کو اپنی صدیوں پرانی جائیدادیں اور گھر بار چھوڑ کر ننگے پاؤں بھاگنا پڑا. • خون سے لت پت ٹرینیں، کٹی پھٹی لاشیں اور ماؤں بہنوں کی عصمت دری—یہ وہ قیمت تھی جو اس پناہ گاہ (پاکستان) تک پہنچنے کے لیے مہاجرین نے چکائی. اس ہولناک قتل و غارت اور غیر متوقع ہجرت پر قائد اعظم محمد علی جناح کا دل بری طرح ٹوٹ گیا تھا۔ انہوں نے مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ کرتے ہوئے غمزدہ لیکن پرعزم لہجے میں فرمایا تھا: “ہمیں ایک ایسی منظم سازش کا سامنا کرنا پڑا جس کا مقصد پاکستان کو اس کے جنم لیتے ہی کچل دینا تھا۔ تاریخ میں اتنے بڑے پیمانے پر آبادی کی نقلِ مکانی کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہمارے حوصلے بلند ہیں، اور کوئی بھی طاقت پاکستان کو مٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی اگر ہم متحد رہے۔” 4۔ موجودہ دور کے تلخ حقائق: اتر پردیش (سنبھل) کا تازہ المیہ آج بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ بانیانِ پاکستان کی دور اندیشی اور مہاجرین کے بہنے والے خون کی سچائی پر سب سے بڑی مہر ہے۔ حال ہی میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع سنبھل کے ایک گاؤں میں جو افسوسناک واقعہ پیش آیا، وہ مسلم دشمنی کی بدترین مثال ہے: • وہاں انتظامیہ نے مسلمانوں کی ایک تاریخی و واحد مقامی مسجد کو محض اس بہانے بلڈوزر چلا کر شہید کر دیا کہ وہ مبینہ طور پر غیر قانونی زمین پر بنی تھی۔ • ظلم کی حد یہ ہے کہ اس کارروائی کی اصل وجہ تلاشی کے نام پر مسجد کے اندر سے ملنے والا ایک معصوم اسٹیکر تھا جس پر “I Love Muhammad” لکھا ہوا تھا۔ • انتہا پسند ہندو انتظامیہ نے نامِ محمدﷺ کے اس پرامن اسلامی پوسٹر کو “مذہبی ہم آہنگی بگاڑنے” کا بہانہ بنایا اور الٹا مسجد کے متولی (کیر ٹیکر) سمیت آٹھ بے قصور مسلمانوں پر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ (FIR) درج کر کے جیل بھیج دیا۔ ایک ایسی ریاست جہاں نبی کریمﷺ کے نام کا اسٹیکر ملنے پر مسجدیں ڈھا دی جائیں، وہاں متحدہ ہندوستان کے خواب دیکھنے والوں کے لیے عبرت کا بہت بڑا سامان ہے۔ 5۔ برصغیر کے مسلمانوں کی موجودہ مجموعی آبادی کا موازنہ آج اگر ہم بانیانِ پاکستان کے فیصلے کا وزن کرنا چاہیں، تو ہمیں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی موجودہ مجموعی آبادی (ملا کر) دیکھنی ہوگی۔ آج اس خطے کی صورتحال یہ ہے: • مجموعی مسلم آبادی (تقریباً 63 سے 65 کروڑ): پاکستان (تقریباً 24 کروڑ)، بھارت (تقریباً 21 سے 22 کروڑ) اور بنگلہ دیش (تقریباً 16 سے 17 کروڑ)۔ یعنی آج اس پورے خطے میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی دنیا میں کسی بھی خطے سے زیادہ ہے۔ • مجموعی ہندو آبادی (تقریباً 110 سے 115 کروڑ): جس کی اکثریت بھارت میں ہے اور کچھ تعداد بنگلہ دیش اور پاکستان میں ہے۔ تناسب کا فرق: اگر یہ تینوں ملک آج ایک ہوتے (متحدہ ہندوستان ہوتا)، تو تقریباً 115 کروڑ ہندوؤں کے سامنے 65 کروڑ مسلمان آج بھی اقلیت ہی ہوتے۔ وہ پاکستان اور بنگلہ دیش جو آج آزاد مسلم ریاستیں ہیں اور جہاں مسلمان خود مختار ہیں، متحدہ ہندوستان کی صورت میں وہ بھی آج مودی اور یوگی جیسے انتہا پسندوں کے ہندوتوا فلسفے کے رحم و کرم پر ہوتے اور ان کا حال بھی سنبھل، کشمیر اور آسام کے مسلمانوں جیسا ہوتا۔ برصغیر کے مسلمانوں کی بقا کی یہ داستان اس وقت تک ادھوری ہے جب تک اس میں موجودہ بھارت کے مسلمانوں کی موجودہ کشمکش اور مظلوم کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کا ذکر نہ کیا جائے۔ آپ کے اس اہم نکتے کو ایک اثر انگیز اور متوازن پیراگراف کی شکل میں ڈھال دیا گیا ہے، جسے آپ بلاگ کے اختتامی حصے (حرفِ آخر سے پہلے) شامل کر سکتے ہیں: موجودہ بھارتی مسلمان اور مقبوضہ کشمیر: ایک نئی حکمتِ عملی کی پکار آج ہندوستان میں رہنے والے کروڑوں مسلمان ایک ایسے نازک تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انہیں اپنی بقا، شناخت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نئی اور ٹھوس حکمتِ عملی کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ چاہے یہ فیصلہ ایک نئے سیاسی و سماجی وطن کی فکری جدوجہد کا ہو یا کسی ایسی متحدہ آواز کا جہاں ان کی بات کو دبایا نہ جا سکے، انہیں اب بیدار ہونا پڑے گا۔ لیکن اس تمام تر صورتحال میں ہمیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیور مسلمانوں کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے، جو دہائیوں سے بدترین بھارتی جارحیت، فوجی محاصرے اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ کشمیر کے مسلمانوں نے اپنی آزادی اور مسلم شناخت کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، وہ برصغیر کی تاریخ کا سب سے روشن باب ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی کوئی بھی تحریک یا حکمتِ عملی مظلوم کشمیری بھائیوں کے ذکر اور ان کی اخلاقی و سیاسی حمایت کے بغیر نہ تو مکمل ہو سکتی ہے اور نہ ہی کامیاب۔۔
حرفِ آخر پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کے لیے محض ایک سیاسی ضرورت نہیں تھا، بلکہ یہ ان کی بقا، عزت، جان و مال اور ایمان کی حفاظت کا واحد قلعہ تھا، جس کی بنیادوں میں سنتِ نبویﷺ کا فلسفہِ ہجرت شامل ہے۔ سنبھل میں مسجد کی شہادت اور 1947ء میں مہاجرین کے خون کے دریا ہمیں روز یاد دلاتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں مستقل غلامی کے جہنم سے نکال کر آزادی کی جنت کا تحفہ دیا تھا۔ ہمیں اس پناہ گاہ کی قدر کرنی چاہیے اور اسے ایک مضبوط، مستحکم اور مثالی اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
1. پاکستان: برصغیر کے مسلمانوں کی واحد پناہ گاہ اور تاریخی سچائی سنتِ ہجرت سے نظریہِ پاکستان تک: ایک قلعہ، ایک پناہ گاہموجودہ ہندوتوا اور قائد اعظم کی دور اندیشی: پاکستان کیوں ناگزیر تھا؟برصغیر کے مسلمانوں کی موجودہ مجموعی آبادی کا موازنہ موجودہ بھارتی مسلمان اور مقبوضہ کشمیر: ایک نئی حکمتِ عملی کی پکار نقلِ مکانی کا المیہ: جب تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت خون میں نہا گئی
“کیا پاکستان واقعی برصغیر کے مسلمانوں کی واحد محفوظ پناہ گاہ ہے؟ 1947ء کے آبادی کے تناسب، مہاجرین کی قربانیوں، فلسفہِ ہجرت اور بھارت (سنبھل) کے موجودہ حالات کی روشنی میں ایک تفصیلی اور چشم کشا تاریخی تجزیہ۔”
حجاب کے لغوی معنی پردہ، اوٹ، نقاب، یا چھپانے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں، یہ مسلمانوں (خاص طور پر خواتین) کے لیے لباس اور طرزِ زندگی کا وہ اسلامی نظام ہے جس کے تحت نامحرم مردوں کے سامنے سر، چہرہ، یا جسم کے مخصوص حصوں کو ڈھانپنا اور اخلاقی حدود کا خیال رکھنا فرض ہے۔ یہ شرم و حیا، وقار اور معاشرتی پاکیزگی کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔ • لغوی معنی: ڈھانپنا، اوٹ کرنا، پردہ۔ • شرعی مفہوم: غیر مردوں (نامحرم) سے پردہ کرنا، جس میں لباس کے ساتھ ساتھ نظروں کی حفاظت بھی شامل ہے۔
حجاب دراصل محض لباس ہی نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان عورت کا غیر اعلانیہ اظہار آزادی اور صرف اللہ کی بندگی میں نے آنے کا اعتراف ہے۔—یہ اعلان کہ عورت اپنے وجود، جسم اور شناخت کی خود نگہبان ہے۔ آج کی دنیا میں عورت کی آزادی کو اکثر ظاہری نمائش کے مترادف بنا دیا گیا ہے،اس لیے جب مسلمان عورت پردہ کرتی ہے یا حجاب لیتی ہے تو اہل مغرب اور ان سے متاثر لوگ سمجھتے ہیں کے شاید وہ کوئی قیدی ہےاور مغربی خود ساختہ آزادی کے علمبردار ،عورتوں کو اس سے آزادی دلوانے کا علم اٹھا لیتے ہیں مگر درحقیقت آزادی وقار، شعور اور تحفظ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ حجاب اسی باوقار آزادی کی علامت ہے جو عورت کو دوسروں کی نگاہوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے اس کے اپنے اصولوں کا پابند بناتی ہے۔ قرآنِ کریم کی سورتُ الاحزاب اس تصور کو واضح بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں، یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں اور ستائی نہ جائیں” (الاحزاب: 59)۔ یہ آیت اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ حجاب عورت کی شناخت اور عزت کا محافظ ہے، نہ کہ اس کی آزادی پر قدغن۔ اسی قرآنی ہدایت پر صحابیاتؓ نے جس شعور اور وقار کے ساتھ عمل کیا، وہ تاریخِ اسلام کا روشن باب ہے۔ حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کا حجاب اس بات کی مثال ہے کہ وہ شدید حالات میں بھی اپنی حیا اور اصولوں پر قائم رہیں۔ حضرت ام المؤمنین عائشہؓ نہ صرف علم و فہم کا عظیم مرکز تھیں بلکہ پردے کی پابندی میں بھی مثالی تھیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ علم، سماجی کردار اور حجاب ایک دوسرے کی نفی نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔ اسی طرح حضرت فاطمہ الزہراءؓ کا طرزِ حیات اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ عورت کی اصل قدر اس کے کردار، تقویٰ اور وقار میں ہے۔ روایت ہے کہ وہ حتیٰ الامکان غیر ضروری نظروں سے خود کو محفوظ رکھتیں، اور یہی طرزِ فکر آج کی عورت کے لیے شناخت کا سب سے مضبوط نمونہ ہے۔ صحابیاتؓ نے حجاب کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنایا—ایسی طاقت جو ایمان سے جنم لیتی ہے۔ حجاب دراصل عورت کو محدود نہیں کرتا بلکہ اسے یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی پہچان خود متعین کرے۔ یہ آزادی انتخاب کی آزادی ہے—اور صحابیاتؓ کی زندگیاں اس انتخاب کی زندہ مثال ہیں۔ انہوں نے حجاب کے ساتھ علم سیکھا، سکھایا، رائے دی، ہجرت کی، قربانیاں دیں اور تاریخ میں اپنا نام عزت کے ساتھ ثبت کیا۔ یوں حجاب، آزادی اور شناخت ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی سچ کے مختلف رخ ہیں۔ حجاب عورت کے وقار کا استعارہ ہے—خاموش مگر مضبوط، سادہ مگر گہرا، اور باحیا مگر باخبر۔ یہی پیغام قرآن دیتا ہے، یہی صحابیاتؓ نے جیا، اور یہی آج کی عورت کے لیے اصل آزادی ہے۔
🌿 شکرگزاری — نعمتوں کو بڑھانے کا راز انسان کی زندگی میں بے شمار نعمتیں ہوتی ہیں، مگر اکثر ہم ان نعمتوں کو معمولی سمجھ کر ان کی قدر نہیں کرتے۔ صحت، سکون، خاندان، دوست اور ایمان جیسی نعمتیں وہ خزانے ہیں جو ہر لمحہ ہمارے پاس موجود ہوتے ہیں۔ ان نعمتوں کی قدر کرنا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہی شکرگزاری کہلاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ترجمہ: اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔ (سورۃ ابراہیم: 7) یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ شکرگزاری صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ نعمتوں میں اضافے کا ذریعہ بھی ہے۔ جب انسان دل سے شکر ادا کرتا ہے تو اس کے اندر قناعت، سکون اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی بھی شکرگزاری کی بہترین مثال ہے۔ آپ ﷺ راتوں کو اتنی دیر تک عبادت کرتے کہ پاؤں مبارک سوج جاتے۔ جب عرض کیا گیا کہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں تو اتنی مشقت کیوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: “أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا” ترجمہ: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ (صحیح بخاری) حقیقت یہ ہے کہ شکرگزاری انسان کی سوچ بدل دیتی ہے۔ جو شخص ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا سیکھ لیتا ہے، اس کی زندگی میں شکایت کم اور سکون زیادہ ہو جاتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں بھی اللہ کی نعمت دیکھ لیتا ہے۔ آج کے دور میں جب انسان اکثر اپنی کمیوں پر نظر رکھتا ہے تو شکرگزاری ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کی موجود نعمتوں کو پہچانیں اور ان پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ جو انسان نعمتوں کی قدر کرتا ہے، اللہ اس کے لیے نعمتوں کے دروازے اور بھی کھول دیتا ہے۔ الحمدللہ رب العالمین
الحمدللہ anthology میں میری ایک لکھی ہوئی نئی کہانی شائع ہوگئی ہے۔۔۔۔۔امید ہے پڑھنے والوں کو پسند آئے گی۔۔۔۔hocpublications.com نے اس کو شائیں کیا ہے۔آپ ان کی ویب سائٹ پر جاکر آڈر کر سکتے ہیں ۔ ریفرینس باکس میں میرا نام مدیحہ_انور ضرور مینشن کریں ۔۔۔بہت شکریہ
مڈ نائٹ ریڈیو یہ کہانیوں کا ایک مجموعہ ہے جو رات گئے نشر ہونے والے ریڈیو شو پر آنے والی کالز کی صورت میں بیان کی گئی ہیں۔ اعترافات، راز، محبت، جدائی اور امید — وہ سب باتیں جو ہم صرف تب بانٹتے ہیں جب دنیا سو رہی ہوتی ہےMIDNIGHT RADIO It’s an anthology of stories told as calls to a late-night radio show. Confessions, secrets, love, loss, and hope, all the things we share only when the world is asleep,
آج کے دور میں جبکہ موبائل فون، سوشل میڈیا اور مسلسل نوٹیفیکیشنز ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ ہم بظاہر دنیا سے جڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ہم میں سے اکثریت اس کوشش میں ہوتی ہے کہ جلدی جلدی ہم اپنا کام مکمل کریں تا کہ اپنا موبائل فون اٹھا سکیں ۔ چاہے ہمیں اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔اس کے نتیجے میں ہم آہستہ آہستہ اپنے اندر کے سکون سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔زندگی کے باقی معاملات میں میں ہمارا ارتکاز کم ہو رہا ہے ہر لمحہ اسکرین پر نظریں جمائے رکھنے سے نہ صرف ذہنی تھکن پیدا ہو رہی ہے بلکہ یہ چلن ہماری توجہ، نیند اور جذباتی توازن کو بھی متاثر کر رہا ہے ۔فون میں موجود نوٹیفیکیشنز کی گھنٹی مسلسل بجتی ریتی ہے ۔جس سے خواہ مخواہ ہی دماغ میں میں” جلدی کرو جلدی کرو” مچا رہتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے سب سے ضروری کام تو موبائل کا استعمال کرنا ہے باقی سب کام تو محض خانہ پوری ہیں ۔اس سے معاشرے میں بےچینی پیدا ہوچکی ہے اور ہم سب ہی ہر لمحہ ایک انجان دباؤ کا شکار ہیں ۔ پاکستان میں ذہنی امراض کی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں وزارت صحت کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 8 کروڑ سے زائد افراد مختلف نفسیاتی مسائل، بشمول انگزائٹی اور ڈپریشن کا شکار ہیں۔ یہ تعداد ملک کی کل آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ (تقریباً ایک تہائی سے زیادہ) بنتی ہے۔ یقینا اس کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال بھی اس انگزائٹی کی بہت بڑی وجہ ہے۔ ۔ایسے میں “ڈیجیٹل ڈی ٹاکس” ایک ضرورت بن جاتا ہے،آئیے ہم مل کر اس ڈیجیٹل ڈی ٹاکس کا آغاز کرتے ہیں اس کو آپ چاہے تو”ڈیجیٹل صفائی” کہہ لیں ، “ڈیجیٹل وقفہ” کا نام دے لیں۔یا اس ڈیجیٹل دنیا سےعارضی کنارہ کشی کہہ لیں۔ کو چاہے کچھ بھی کہہ لیں لیکن اس کا مقصد کچھ وقت کے لیے موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال سے دور رہ کر ذہن اور زندگی کو سکون دیناہے۔ ڈیجیٹل ڈی ٹاکس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ ہم اس کے استعمال میں توازن پیدا کریں مثلا دن کا ایک مخصوص وقت موبائل سے دور گزاریں، سوشل میڈیا کی غیر ضروری اسکرولنگ کم کر کر دیں اور خود کو حقیقی دنیا کے لمحات سے جوڑیں جو ہمارے ذہنی سکون میں اضافہ کرے گا۔ جب ہم کچھ وقت خاموشی، کتاب، دعا، فطرت یا اپنے پیاروں کے ساتھ گزارتے ہیں تو دل و دماغ کو وہ سکون ملتا ہے جسے کوئی اسکرین فراہم نہیں کر سکتی۔ ذہنی سکون دراصل اندرونی ترتیب کا نام ہے۔ جب ہم مسلسل معلومات کے سیلاب میں گھرے رہتے ہیں تو ہمارے خیالات بکھر جاتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے ڈیجیٹل دنیا سے فاصلے ہمیں اپنے جذبات کو سمجھنے، اپنی ترجیحات کو ترتیب دینے اور اپنی ذات سے دوبارہ جڑنے کا موقع دیتے ہیں۔ یہ وقفہ ہماری تخلیقی صلاحیت، صبر اور مثبت سوچ کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ آئیے آج ہی سے ایک چھوٹی سی کوشش کریں: سونے سے ایک گھنٹہ پہلے موبائل بند کریں، صبح اٹھتے ہی سوشل میڈیا دیکھنے کے بجائے اپنے دن کا آغاز سکون سے کریں، اور ہفتے میں ایک دن خود کو ڈیجیٹل شور سے آزاد رکھیں۔ یاد رکھیں، ذہنی سکون کسی ایپ میں نہیں، بلکہ ہمارے اپنے رویّوں اور عادات میں پوشیدہ ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی خاموشی ہی سب سے خوبصورت گفتگو ہوتی ہے۔
مدیحہ انور
ذہنی سکون اور ڈیجیٹل ڈی ٹاکس/Mental Peace and Digital Detox
Is this your new site? Log in to activate admin features and dismiss this message