Check out my Pinterest profile! https://pin.it/5XTJ23BIe
Privacy /نجی زندگی
پرائیویسی یا نجی زندگی ایسا موضوع ہے جس پر ہمارے معاشرے میں بہت ہی کم معلومات ہیں اور اس پر بہت ہی کم بات ہوتی ہے۔ اور کئی گھرانوں میں تو اس کے بارے میں بات کرنا ہی برا سمجھا جاتا ہےاور اس کو غرور، خودغرضی بھی سمجھا جاتا ہے۔
حالانکہ بین الاقوامی سطح پر پرائیویسی کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ سو ہم اسلام سے پہلے ہم اس بات کا پتہ لگاتے ہیں کہ دنیا ہمارے اس حق کو کس نظر سے دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔
مثلاً اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ (Universal Declaration of Human Rights) کے آرٹیکل 12 میں نجی زندگی، خاندان، گھر اور مراسلت کے تحفظ کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ آسان لفظوں میں پرائیویسی وہ حق ہے جس کے تحت ہر انسان اپنی نجی زندگی کی حدود خود متعین کرتا ہے اور دوسروں کو ان حدود کا احترام کرنا ہوتا ہے۔
پرائیویسی (Privacy) سے مراد فرد کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، نجی معاملات، ذاتی تعلقات، جسمانی حدود اور ڈیجیٹل ڈیٹا پر خود اختیار رکھے، اور یہ طے کرے کہ کون، کب، کتنی اور کس مقصد کے لیے اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔۔
اب آتے ہیں اسلامی اصولوں کی جانب تو اسلام جو کےایک مکمل ضابطۂ حیات ہے آخر وہ اتنے اہم معاملے میں رہنمائی کیوں نہ دے گا،جو انسان کی ظاہری اور باطنی زندگی دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔
جس طرح جان و مال کی حفاظت ضروری ہے، اسی طرح انسان کی عزت، وقار اور نجی زندگی (پرائیویسی) کا تحفظ بھی نہایت اہم ہے۔ قرآن و سنت ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ کسی کی ذاتی زندگی میں بلا اجازت دخل اندازی نہ کی جائے۔
اسلام میں پرائیویسی (نجی زندگی کے احترام) کے
بارے میں متعدد احادیث موجود ہیں۔جن سے ہم رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ، لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ تَتَبَّعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ رَحْلِهِ
(سنن ابوداؤد)
ترجمہ:
اے وہ لوگو جو زبان سے ایمان لائے ہو مگر ایمان دل میں داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیب تلاش نہ کرو، کیونکہ جو اپنے بھائی کے عیب تلاش کرے گا، اللہ اس کے عیب ظاہر کر دے گا، چاہے وہ اپنے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔
بلکہ آپ ﷺ نے یہاں تک فرمایا:
مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
(صحیح مسلم)
ترجمہ:
جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
اسی طرح ایک اور موقع پر رسول رحمتﷺ نے فرمایا:
مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يَفْقَؤُوا عَيْنَهُ
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ترجمہ:
جو شخص کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکے تو گھر والوں کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔
یہ حدیث اس بات کی شدت کو ظاہر کرتی ہے کہ اسلام کسی کی نجی حدود میں مداخلت کو کتنا بڑا جرم قرار دیتا ہے۔
قرآن کریم میں بھی انسان کے اس حق کی حفاظت کی گئی ہے۔اللہ تعالٰی سورہ نور میں ارشادات ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ
(النور: 27)
ترجمہ:
اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے رہنے والوں کو سلام نہ کر لو۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام کسی کی نجی حدود میں بلا اجازت داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
اسلام میں پرائیویسی کا مطلب ہے کسی کے عیب تلاش نہ کرنا،بلا اجازت کسی کے گھر یا نجی معاملات میں دخل نہ دینا بلکہ دوسروں کی عزت اور راز کی حفاظت کرنا۔
یہی تعلیمات ایک بااعتماد اور محفوظ معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں۔
آئیے ہم عہد کریں کہ حتی الامکان اپنی حدود کا خیال رکھیں گے۔۔۔
مدیحہ انور

Poverty: The real problem or failure of the system

غربت: حقیقی مسئلہ یا نظام کی ناکامی؟
انسانوں میں دولت کی کمی یا زیادتی ہمیشہ سے رہی ہے۔ یہ اللہ کا نظام ہے کہ کسی کے کے پاس اتنا مال ہے کہ اس کی سات نسلوں کے لئے کافی ہے اور کوئی اگلے وقت کے کھانے کے لئے جدوجہد کر رہا پے۔ لیکن اگر غربت اتنی بڑھ جائے کہ دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہوں تو انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا اس دنیا کہ مالک نے واقعی کچھ لوگوں کو زندگی دینے کے بعد بھوک سے مرنے کے لئے چھوڑ دیا ہے؟
بنظر غائر اگر کوئی دیکھے تو یہی کہے گا کہ شاید یہی تقسیم خداوندی ہے اور ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔۔لیکن کیوں؟آخر اس خالق نے اپنے بندوں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا؟
تو چلیں آئیے دیکھتے ہیں کہ آخر اسلام اس معاملے میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے۔
اسلام کے مطابق ہر انسان اپنا رزق ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر جان دار کا رزق اس کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دیا ہے۔ یہ رزق مقرر ہے، لیکن اس کے حصول کے لیے جائز کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور رزق کے حصول میں (حلال طریقہ) اختیار کرو، کیونکہ کوئی بھی شخص اپنے مقررہ رزق کو مکمل کیے بغیر نہیں مرے گا، اگرچہ اسے حاصل کرنے میں کچھ تاخیر ہی کیوں نہ ہو جائے”۔
ایک دوسری حدیث کے مطابق، جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو فرشتہ اس کے رزق، عمر، اور عمل کو لکھ دیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان: “اے لوگو! تم میں سے کوئی بھی اپنے مکمل رزق کو حاصل کیے بغیر نہیں مرے گا” (سنن کبریٰ للبیہقی، حدیث: 10405)۔
رزق کا معاملہ مکمل طور پر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
ہر انسان کی پیدائش کا مقصد اور اس کی روزی مقرر ہے۔
حلال رزق کے لیے محنت کرنا لازم ہے، لیکن پریشان ہونا ضروری نہیں کیونکہ اللہ رازق ہے۔
تو چلیں یہ تو ثابت ہوا کہ اللہ اپنی مخلوق سے بے پروا نہیں ہےاور اس نے ہر ایک کے حصے کا رزق ،کم ہو یا زیادہ، پیدا کیا ہے۔تو پھر آخر کیا وجہ ہے کہ کچھ لوگ فاقوں کی وجہ سے مر جاتے ہیں؟ ان کے حصے کا رزق آخر کہاں گیا؟
ایسی غربت جس میں کچھ لوگ فاقہ کشی کا شکار ہوں اور چند لوگوں کا مال ان کی نسلوں کے لئے بھی وافر ہو کو حقیقی غربت نہیں بلکہ سسٹم کی ناکامی سمجھا جاتا ہے نہ کہ کسی فرد کی ذاتی کوتاہی کا نتیجہ ۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جہاں معاشی پالیسیاں، تعلیم تک غیر مساوی رسائی، اور سماجی تحفظ کے ناقص نظام لوگوں کو آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔
غربت کی جڑیں ناقص معاشی، سیاسی اور سماجی اداروں میں پیوست ہیں۔ ان اداروں کا ناقص نظام
شہریوں کو بنیادی اور ضروری وسائل فراہم کرنےمیں ریاستی ناکامی کا نتیجہ ہے۔
یہ کوئی اخلاقی نقص یا محنت کی کمی نہیں، بلکہ ایک ایسی “سزا ہے جو اس جرم کے بدلے ملتی ہے جو آپ نے کیا ہی نہ ہو”۔
دوسری بڑی وجہ نظامی مسائل میں مواقع کی عدم فراہمی، تعصب، اور کم آمدنی والے علاقوں میں تعلیم کے لیے فنڈز کی کمی شامل ہیں۔
اگرچہ بعض لوگ انفرادی محنت کو مالی بہتری کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، لیکن ماہرین کی بڑی تعداد اس بات پر متفق ہے کہ جب رہائش کے اخراجات اجرتوں سے زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں، تو یہ سسٹم کی ناکامی لوگوں کو غربت کے چکر میں جکڑ لیتی ہے۔
اقوام متحدہ (UN) اور اس کے ذیلی اداروں (جیسے UNDP اور OPHI) کے مطابق، دنیا میں 1ارب سے زائد افراد شدید غربت کا شکار ہیں، جس کی بنیادی وجوہات میں پرتشدد تنازعات، جنگیں، کمزور معاشی ڈھانچہ، اور تعلیم و صحت تک عدم رسائی شامل ہیں۔ تقریبا 40 فیصد غریب آبادی جنگ زدہ یا غیر مستحکم ممالک میں رہتی ہے۔
افریقہ اور دیگر غریب ممالک میں غربت ایک عالمی اور مقامی نظامی ناکامی کا امتزاج ہے۔ ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف (IMF) اور ورلڈ بینک کی بعض پالیسیاں افریقہ میں غربت کم کرنے میں ناکام رہی ہیں، جس سے صورتحال مزید ابتر ہوئی ۔بہت سے افریقی ممالک قدرتی وسائل (تیل اور معدنیات) سے مالا مال ہونے کے باوجود بدترین غربت کا شکار ہیں، کیونکہ ان وسائل کا فائدہ عوام کے بجائے کرپٹ اشرافیہ اور ترقی یافتہ ممالک کو پہنچتا ہے۔
افریقہ میں تقریباً 567 ملین افراد لکڑی پر کھانا پکاتے ہیں اور 510 ملین سے زائد افراد بیت الخلا جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جو ایک گہری سسٹمک محرومی کی نشاندہی کرتا ہے ۔ طاقت کا غلط استعمال اور سیاسی عدم استحکام سرمایہ کاری اور ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے ۔
موسمیاتی آفات نے بھی غربت کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستان میں ہر سال آنے والے سیلاب نے کروڑوں لوگوں کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا ہے۔
غربت کے اس چکر کے نکلنے کے لئے ایسے پرخلوص قائدین کی ضرورت ہے جو غریبوں کی پریشانیوں کا صحیح معنوں میں ادراک کریں اور ان کے حل کیلئے کوششیں بھی کریں۔
مدیحہ انور
اسلام میں اپنی ذات کے حقوق۔۔۔۔۔۔۔ایک بھولا ہوا فریضہ
ہم عموماً حقوق کی بات کرتے ہیں تو والدین، اولاد، شریکِ حیات اور معاشرے کے حقوق یاد آتے ہیں؛ مگر اسلام نے ایک اور اہم حق بھی سکھایا ہے ،جس کو اکثر اوقات ہم بھول جاتے ہیں یا نظرانداز کر دیتے ہیں اور وہ ہے اپنی ذات کا حق۔ یہ خود غرضی نہیں کہ انسان اپنے آپ کا خیال رکھے، بلکہ توازن اور امانت داری ہے، کیونکہ جان، جسم اور وقت سب اللہ کی امانت ہیں۔
ہمارے دین میں تو عبادت میں بھی اعتدال کی راہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حضرت سلمان فارسیؓ نے حضرت ابو درداءؓ سے فرمایا:
“تمہارے رب کا تم پر حق ہے، تمہارے نفس کا تم پر حق ہے، تمہارے اہل کا تم پر حق ہے، پس ہر حق دار کو اس کا حق دو۔”
نبی اکرم ﷺ نے اس بات کی تائید فرمائی۔
(صحیح بخاری)
یہ تعلیم ہمیں سکھاتی ہے کہ عبادت بھی ایسی نہ ہو جو جسم اور رشتوں کے حقوق کو پامال کر دے۔تو یہ دنیاوی کاموں میں خود کو تکلیف دینے کے بارے میں کیسے کہہ سکتی ہے؟اسلام توازن کا دین ہے۔یعنی اگر آپ تھک جائیں یا بیمار ہو جائیں تو آرام کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اسلام توازن کا دین ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “تمہارے جسم کا تم پر حق ہے۔”
(صحیح بخاری)
اسی مفہوم کو Sunan Ibn Majah میں یوں بیان کیا گیا:
“مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے…”
(سنن ابن ماجہ)
یہاں “مضبوطی” صرف ایمان نہیں، جسمانی و ذہنی طاقت بھی ہے۔ صحت کی حفاظت عبادت کا حصہ ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے:
“اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو…”
(البقرہ 2:195)
اور ایک اور مقام پر فرمایا:
“اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔”
(النساء 4:29)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اپنی جان، ذہن اور دل کی حفاظت شرعی ذمہ داری ہے۔
نہ صرف جسم بلکہ اسلام ہمیں دل اور روح کا خیال کرنے کو بھی کہتا ہے۔اللہ تعالٰی قرآن کریم میں کہتا ہے:
“خبردار! اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔”
(الرعد 13:28)
دل کو سکون دینا، اس کی تھکن کو سمجھنا، اور ذکرِ الٰہی سے اسے مضبوط کرنا — یہ بھی اپنی ذات کا حق کا ہی ایک پہلو ہے۔
اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ ہم خود کو جلا کر دوسروں کے لیے چراغ بن جائیں۔ بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ اپنے رب، اپنے نفس، اپنے جسم اور اپنے رشتوں کے درمیان عدل قائم کریں۔اپنی ذات کو نظر انداز کرنا تقویٰ نہیں، بلکہ بعض اوقات ناانصافی ہے۔جو شخص خود متوازن ہو، وہی دوسروں کے حقوق بہتر ادا کر سکتا ہے۔
مدیحہ انور
فکر و عمل کے نقوش fikr o amal kay naqosh

علم اور عمل ساتھ ساتھ
علم حاصل کرنا ہر دور میں ہی پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہےاور ہر ذی شعور انسان کی یہ کوشش رہی کہ وہ تعلیم حاصل کرے لیکن انٹرنیٹ کے اس دور میں جب ہر طرف معلومات کا سیلاب ہے ،گلی گلی سکول کھل چکے ہیں تو علم کا حصول ہماری زندگیوں کا جزو لا ینفک بن چکا ہے۔
ہر شخص کی خواہش ہے کہ اگر وہ پڑھ نہیں سکا تو کم از کم اس کی اولاد ضرور پڑھ لکھ جائے۔
کالج اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونا علم کی معراج سمجھ لیا گیا ہے۔
انسانی تاریخ کا یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ انسان علم حاصل کرنے میں تو بہت آگے بڑھ گیا ہے، مگر معلوم یوں ہوتا ہے کہ جیسے اس علم کو عمل میں ڈھالنے میں پیچھے رہ گیا ہے۔ جوں جوں کتابیں بڑھتی جا رہی ہیں، معلومات کے ذرائع وسیع ہو رہے ہیں،ویسے ویسےکردار اور عمل کی دنیا میں کمزوریاں پہلے سے مزید نمایاں ہو گئی ہیں۔ محض پڑھنا لکھنا سیکھ لینا ہی کا فی نہیں۔علم کا حاصل کر لینا منزل نہیں ہے بلکہ یہ ایک لمبے سفر کا زادراہ ہے۔ایک ایسا سفر جو کہ آسان ہرگز نہیں ہے
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں
گو کہ اس سفر کے راستے میں بہت سی کٹھنائیاں ہیں لیکن ہم مشکلات کو دیکھتے ہوئے ہم سفر کو ترک نہیں کر سکتے کیونکہ ان مشکل گھاٹیوں کے پار ہی ہمارے لئے آسانیاں ہیں۔
عمل کےبغیر علم کا حصول بے فائدہ ہے اور ایسے خزانے کی مانند ہے جس کی چابیاں تو ہمارے پاس ہیں لیکن ہم اس کو نہ کھولیں اور نہ ہی استعمال کریں بلکہ صرف دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوں کہ واہ ہمارے پاس کتنا قیمتی خزانہ ہے۔۔
علم اور عمل کے درمیان یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنے کے لیے اسلام نے ہمیشہ علم کے ساتھ عمل کو لازم قرار دیا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی جو علم رکھتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللّٰهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ
“اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں۔”
(سورۃ الصف 61:2-3)
یہ آیت دراصل انسان کو خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے۔ اسلام میں علم صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ ایسا شعور ہے جو انسان کے کردار اور رویوں کو بدل دے۔
اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے بھی ایک نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ
“قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے۔اور ان چار چیزوں میں سے ایک علم ہے کہ اس نے اس پر کتنا عمل کیا۔”
(جامع الترمذی، حدیث 2417)
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ علم ایک امانت ہے اور اس کا حقیقی حق تب ادا ہوتا ہے جب وہ انسان کے اعمال میں نظر آئے۔
جدید نفسیات بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ انسان کے علم اور عمل کے درمیان اکثر ایک خلا موجود ہوتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اسے “Intention–Behavior Gap” کہتے ہیں، یعنی انسان بہت سی اچھی باتیں جانتا ہے اور ان پر عمل کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے، مگر عملی زندگی میں وہ ارادہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
اس کی چند اہم وجوہات ہیں:
عادتوں کی طاقت: پرانی عادات نئی سوچ پر غالب آ جاتی ہیں۔
ماحولیاتی اثر: انسان کا ماحول اس کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔
فوری فائدے کی خواہش: انسان اکثر طویل مدتی فائدے کے بجائے فوری آسائش کو ترجیح دیتا ہے۔
اسلام دراصل اس نفسیاتی حقیقت کا علاج تربیت، محاسبۂ نفس اور نیت کی اصلاح کے ذریعے کرتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں محاسبۂ نفس کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ انسان جب اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے تو اس کے اندر اصلاح کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں علم آہستہ آہستہ عمل میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
اگر ہر انسان اپنے علم کا تھوڑا سا حصہ بھی اپنی زندگی میں نافذ کر لے تو نہ صرف اس کی اپنی شخصیت سنور سکتی ہے بلکہ معاشرہ بھی بہتر ہو سکتا ہے۔
درحقیقت علم سے عمل تک کا سفر ہی وہ راستہ ہے جہاں سے حقیقی اصلاح اور حقیقی کامیابی شروع ہوتی ہے۔
مدیحہ انور

آخر اچھے کردار کو کیسے پہچانا جائے۔۔۔؟
جدید زمانے کے جس دور میں ہم سانس لے رہے ہیں ‘ہر طرف مصنوعی چمک دمک ہے۔ہر کوئی نمائش میں مصروف ہے۔یعنی جس کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی کوشش میں ہے کہ کسی طرح میں اپنے اس حاصل سے دوسرے کو متاثر کر سکے یا نیچا دکھا سکے۔
یہ نمائش کسی بھی چیز کی ہو سکتی ہے…… کسی اعلی ادارے کی ڈگری کی،برانڈڈ کپڑوں کی ،بیگز اور جوتوں کی۔۔۔۔حتی کی ہیر کلر کی بھی۔۔۔۔۔
اور کوئی اپنی لیٹیسٹ گاڑی پر نازاں ہے اور دوسروں کو یہ محسوس کرانا چاہتا ہے کہ دیکھو میرے پاس کیا اعلی اور مہنگی گاڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ کے دیئے ہوئے مال کو خرچ کرنے میں ہرگز کوئی برائی نہیں۔۔۔حدیث میں آتا ہے:
“إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ” (صحیح مسلم)
ترجمہ: “بے شک اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔”
لیکن یہ سب سے کم ظرفی اور لو آ ئی کیو لیول کی نشانی ہے کہ انسان دوسرے شخص کو اپنی آسانی اور سہولت کے لئے حاصل کی گئی چیزوں سے متاثر کرنے کی کوشش کرے یا اس سے بھی دو قدم آگے جا کر دوسرے کو کم تر ثابت کرنے کی خواہش رکھے اور اس میں اپنی خوشی تلاش کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے لباس، گاڑی، گھر، بینک بیلنس یا ظاہری نمود و نمائش سے نہیں بلکہ اس کے علم، کردار اور اس علم پر عمل سے متعین ہوتی ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے انسانیت پر گہرے نقوش چھوڑے، انہیں ان کی دولت یا ظاہری شان و شوکت کی وجہ سے یاد نہیں رکھا گیا بلکہ ان کے علم، حکمت، اخلاق اور خدمت کی وجہ سے یاد رکھا گیا۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ” (سورۃ الزمر: 9)
ترجمہ: “کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟”
یہ آیت علم کی عظمت کو واضح کرتی ہے۔ اسلام نے علم کو انسان کی بلندی اور ترقی کا ذریعہ قرار دیا ہے، لیکن صرف علم کافی نہیں، بلکہ اس علم پر عمل بھی ضروری ہے۔ بے عمل علم ایسے چراغ کی مانند ہے جو دوسروں کو روشنی دے مگر خود اندھیرے میں رہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ” (المعجم الاوسط للطبرانی)
ترجمہ: “لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔”
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی فضیلت کا معیار اس کا دوسروں کے لیے نفع بخش ہونا ہے، نہ کہ اس کی ظاہری حیثیت یا مالی مقام۔
ایک شخص اعلیٰ ڈگریوں کا حامل ہو سکتا ہے لیکن اگر اس کے اخلاق خراب ہوں، وہ دوسروں کی تذلیل کرے، جھوٹ بولے اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرے تو اس کی تعلیم اس کے کردار کو بلند نہیں کر سکتی۔ اس کے برعکس ایک عام تعلیم یافتہ شخص، جو سچائی، دیانت داری، ہمدردی اور انصاف کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے، معاشرے میں کہیں زیادہ عزت اور احترام حاصل کرتا ہے۔
اسلام نے انسان کی عظمت کا اصل پیمانہ تقویٰ اور کردار کو قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ” (سورۃ الحجرات: 13)
ترجمہ: “بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔”
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا” (جامع ترمذی)
ترجمہ: “تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے سب سے قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے۔”
بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے دور نے ظاہری کامیابی کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے دی ہے۔ لوگ اپنی زندگی کے بہترین لمحات، قیمتی اشیاء اور آسائشیں دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں جبکہ کردار، اخلاق اور علم جیسی حقیقی خوبیاں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ نتیجتاً بہت سے لوگ دوسروں کی ظاہری چمک دمک دیکھ کر احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں، حالانکہ اصل کامیابی کا تعلق اندرونی شخصیت سے ہے، نہ کہ ظاہری سامان سے۔
ایک باکردار انسان جہاں بھی جاتا ہے عزت کماتا ہے۔ اس کی گفتگو میں شائستگی، رویّے میں نرمی، معاملات میں دیانت داری اور فیصلوں میں انصاف جھلکتا ہے۔ ایسے لوگ معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کے پاس چاہے دنیا کی بڑی دولت نہ ہو، لیکن ان کی عزت دلوں میں ہوتی ہے۔
زندگی کا مقصد دوسروں کو متاثر کرنا نہیں بلکہ خود کو بہتر انسان بنانا ہے۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ برانڈز، گاڑیاں اور مہنگی اشیاء وقتی چیزیں ہیں، جبکہ علم، اخلاق اور کردار ایسی دولت ہیں جو زندگی بھر انسان کے ساتھ رہتی ہیں اور مرنے کے بعد بھی انسان کے لیے صدقۂ جاریہ بن سکتی ہیں۔
آخر میں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ دنیا کی نگاہیں اکثر ظاہری چیزوں کو دیکھتی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ” (صحیح مسلم)
ترجمہ: “اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔”
لہٰذا اگر ہم واقعی کامیاب اور باعزت بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی توجہ ظاہری نمائش کے بجائے علم حاصل کرنے، اس پر عمل کرنے اور اپنے کردار کو سنوارنے پر مرکوز کرنی ہوگی۔ یہی وہ پیمانہ ہے جو انسان کی اصل قدر و قیمت متعین کرتا ہے، اور یہی وہ سرمایہ ہے جو ہر دور میں انسان کو بلند مقام عطا کرتا ہے۔
مدیحہ انور

دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کی زندگی بالکل ہموار ہو، جسے کسی مسئلے کا سامنا نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی ایک ایسی سڑک ہے جو کبھی سیدھی، کبھی کچی، اور کبھی بے حد ناہموار ہوتی ہے۔ اس سڑک پر چلتے ہوئے ہمیں ہر طرح کے موڑ، جھٹکے اور رکاوٹیں ملتی ہیں۔مگر اصل سوال یہ نہیں کہ سڑک کیسی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم ڈرائیونگ کیسے کرتے ہیں۔کچھ لوگ اپنی زندگی کی گاڑی کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: “میں کیا کروں، حالات ہی ایسے ہیں”، اور یوں وہ اپنی سمت، اپنی رفتار، حتیٰ کہ اپنی منزل کا اختیار بھی کھو دیتے ہیں۔ ان کے لیے ہر مشکل ایک جواز بن جاتی ہے، ہر رکاوٹ ایک بہانہ۔اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو سڑک کے ناہموار ہونے کے باوجود اپنی گرفت مضبوط رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر موڑ پر بریک کب لگانی ہے، رفتار کب کم کرنی ہے، اور کب ہمت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ وہ حالات کو الزام دینے کے بجائے اپنی مہارت کو بہتر بنانے پر توجہ دیتے ہیں۔زندگی بھی بالکل ایسی ہی ہے۔ہمیں ہر لمحہ مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم فوراً حل کر سکتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہماری بساط سے باہر ہوتے ہیں۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جہاں ہماری اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ یہاں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ مسئلہ کتنا بڑا ہے، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہم اس کے سامنے خود کو کتنا سنبھال پاتے ہیں۔اپنے ردعمل پر قابو رکھنا، اپنے جذبات کو متوازن رکھنا، اور مشکل حالات میں بھی اپنے ذہن کو پرسکون رکھنا—یہی وہ اصل صلاحیت ہے جو ایک مضبوط انسان کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔کیونکہ سچ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ حالات کو کنٹرول نہیں کر سکتے، لیکن ہم اپنے ردعمل کو ضرور کنٹرول کر سکتے ہیں۔اگر حالات خراب ہو جائیں تو یہ کہنا آسان ہے کہ “میرے مسائل ہی ایسے تھے کہ حل ممکن نہ تھا”، مگر اصل ہمت یہ ہے کہ انسان خود سے سوال کرے: “میں نے ان حالات میں خود کو کیسے سنبھالا؟”زندگی کی سڑک ہمیشہ ہموار نہیں ہوگی، مگر اگر ہماری گرفت مضبوط ہو، تو ہم ہر ناہمواری کو عبور کر سکتے ہیں۔مدیحہ انور

ہماری زندگی اکثر بڑی کامیابیوں کے انتظار میں گزر جاتی ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ جب بڑا گھر ہو جائے گا، اچھی گاڑی آ جائے گی، یا کوئی نمایاں مقام مل جائے گا تب دل کو سکون نصیب ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سکون کا راستہ بڑی کامیابیوں سے نہیں بلکہ چھوٹی خوشیوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ صبح کی پہلی کرن جب کھڑکی سے اندر آتی ہے، چائے کی پیالی سے اٹھتی بھاپ، کسی اپنے کی مسکراہٹ، ماں کی دعا، بچے کی معصوم بات، یا کسی اجنبی کا خلوص سے کیا گیا سلام—یہ سب چھوٹی خوشیاں ہیں۔ ہم اکثر انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی لمحات دل کی تھکن اتارتے ہیں۔آج کی تیز رفتار زندگی میں ہم نے خوشی کو ایک منزل بنا لیا ہے، حالانکہ خوشی ایک کیفیت ہے جو راستے میں بکھری ہوتی ہے۔ اگر ہم رک کر ان لمحوں کو محسوس کریں تو اندازہ ہوگا کہ قدرت نے ہمیں ہر دن بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ شکرگزاری کا جذبہ انہی چھوٹی خوشیوں کو بڑا سکون بنا دیتا ہے۔ جب انسان شکر ادا کرتا ہے تو دل میں اطمینان اترتا ہے، بے چینی کم ہوتی ہے اور سوچ مثبت ہو جاتی ہے۔ڈیجیٹل دنیا نے ہمیں بہت کچھ دیا، مگر ساتھ ہی لمحوں کو جینے کی صلاحیت بھی کم کر دی۔ ہم تصویر لینے میں مصروف رہتے ہیں مگر منظر کو محسوس نہیں کرتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کبھی فون ایک طرف رکھ کر اپنوں کے ساتھ بیٹھیں، ہنسی بانٹیں، خاموشی کو سنیں اور اپنے رب کی دی ہوئی نعمتوں پر غور کریں۔سکون باہر نہیں، ہمارے اندر ہے۔ جب ہم چھوٹی چھوٹی باتوں میں خوشی تلاش کرنا سیکھ لیتے ہیں تو بڑے مسائل بھی چھوٹے لگنے لگتے ہیں۔ زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ ہم ہر دن میں چھپی خوشیوں کو پہچانیں، انہیں سمیٹیں اور دل میں جگہ دیں۔یاد رکھیے، بڑی خوشیاں کبھی کبھار ملتی ہیں، مگر چھوٹی خوشیاں روز دستک دیتی ہیں۔ جو ان دستکوں کو سن لیتا ہے، وہی حقیقی سکون پا لیتا ہے۔کیا آپ نے پتہ ہے کہ آپ کو کس چیز سے خوشی ملتی ہے؟ آپ کی روزمرہ زندگی کی وہ کون سی چھوٹی خوشی ہے جو آپ کو سب سے زیادہ سکون دیتی ہے؟کمنٹ میں ضرور شیئر کریں 💫مدیحہ انور
چھوٹی خوشیاں،بڑا سکون

کب بولنا ہے… اور کب خاموش رہنا ہے؟یہ سوال جتنا سادہ لگتا ہے، زندگی میں اتنا ہی گہرا ہے۔اللہ کے آخری پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔۔”أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا”یعنی”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں، تو ہم انہیں دو عالی مرتبت اشخاص سے اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: “جو خاموش رہا، وہ فلاح پا گیا” جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بات کرنے کے معاملے میں قول ہے: “بولو تاکہ پہچانے جاؤ” تو پھر سوال یہ ہے کہ… کب بولیں؟ اور کب خاموش رہیں؟کیونکہ انسان کی پہچان اس کی گفتگو سے ہوتی ہے—الفاظ اس کے شعور، ظرف اور کردار کا آئینہ ہوتے ہیں۔اس لئے جب انسان بولتا ہے تو وہ درحقیقت اپنا تعارف کرا رہا ہوتا ہے چاہے وہ اپنے بارے میں گفتگو نہ بھی کر رہا ہو۔جبکہ اگر کوئی شخص اگر خاموش ہے اور وہ کسی محفل میں بات نہیں بھی کر رہا تویہ خاموشی اس کے کردار کی کمزوری کی نہیں، بلکہ حکمت کی علامت ہے۔تو کیسے تعین ہو کہ کب بولنا درست ہے اور کب خاموش رہنا صحیح۔۔۔ہمیں ان دونوں عظیم الشان ہستیوں کے اسوہ حسنہ سے پتا چلتا ہے کہ۔✔️ جب حق دبایا جا رہا ہو — بولو✔️ جب کسی کی عزت پر حرف آ رہا ہو — بولو✔️ جب سچ کہنا ضروری ہو — بولولیکن۔۔۔۔۔❌ جب بات صرف انا کی ہو اور اپنی ذات کی ہوتو — خاموش رہو❌ جب الفاظ کسی کا دل توڑ سکتے ہوں — خاموش رہو❌ جب بحث بے مقصد ہو — خاموش رہویاد رکھیں… ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، اور ہر بات کرنا بہادری نہیں ہوتا۔خاموشی اگر سچ چھپانے کے لیے ہو تو بزدلی ہے، اور اگر فتنے کو روکنے کے لیے ہو تو عبادت ہے۔آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کب بولنا چاہیے اور کب خاموش رہنا بہتر ہے؟مدیحہ انور#fikr_o_amal_ke_naqoosh #madihaanwar #silence #مدیحہ_انور #فکرو_عمل_کے_نقوش

کامیابی اپنے ساتھ تنہائی لاتی ہے
زندگی میں ہر انسان کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے خواب پورے کرے، عزت پائے اور دوسروں میں نمایاں نظر آئے،کوشش بہت سے لوگ کرتے ہیں لیکن کامیابی چند لوگوں کو ملتی ہے۔
آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اور غور کریں کہ آپ کے خاندان یا حلقہ احباب میں کون ہے جو سب سے نمایاں ہے ؟
نمایاں ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں کسی کے پاس روپیہ پیسہ زیادہ ہو سکتا ہے اور کوئی اپنی عقل و فکر کی وجہ سے سب سے الگ تھلگ نظر آتا ہے۔
ایسے لوگ کا میابی ملنے کے بعد یوں محسوس ہوتے ہیں کہ جیسے وہ مغرور ہو گئے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے قریبی لوگ ان سے دور ہو جاتے ہیں بلکہ ناراضگی کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔
لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ کامیابی صرف خوشیاں ہی نہیں لاتی بلکہ اپنے ساتھ ایک خاص قسم کی تنہائی بھی لے آتی ہے۔
جب انسان اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے تو اسے بہت سی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ اسے اپنی نیند، آرام، دوستوں کی محفلیں اور کئی بار اپنے قریبی رشتوں تک سے فاصلہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ وہ وقت جو دوسروں کے ساتھ ہنسی مذاق میں گزر سکتا تھا، وہ اپنی محنت اور جدوجہد میں صرف ہو جاتا ہے۔ یہی جدوجہد اسے دوسروں سے الگ کر دیتی ہے۔
کامیاب انسان کی سوچ بھی بدل جاتی ہے۔ وہ عام باتوں سے زیادہ اپنے مقصد پر توجہ دیتا ہے۔ اس کی ترجیحات مختلف ہو جاتی ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اسے سمجھ نہیں پاتے۔ کچھ لوگ حسد کرنے لگتے ہیں، کچھ دور ہو جاتے ہیں اور کچھ صرف فائدے کے وقت قریب آتے ہیں۔ ایسے میں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ ہر ساتھ دینے والا واقعی مخلص نہیں ہوتا۔
بعض اوقات کامیابی انسان کو اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں وہ سب کے درمیان ہوتے ہوئے بھی خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ لوگ اس کی کامیابی کو دیکھتے ہیں مگر اس کے پیچھے چھپی قربانیوں، آنسوؤں اور خاموش جدوجہد کو نہیں سمجھتے۔ یہی احساس تنہائی کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
تاہم یہ تنہائی ہمیشہ منفی نہیں ہوتی۔ کبھی یہی تنہائی انسان کو خود کو بہتر سمجھنے، اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور مزید مضبوط بننے کا موقع دیتی ہے۔ یہ اسے سکھاتی ہے کہ اصل کامیابی صرف مقام حاصل کرنے میں نہیں بلکہ خود کو سنبھالنے میں بھی ہے۔
لہٰذا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کامیابی اپنے ساتھ تنہائی ضرور لاتی ہے، لیکن یہی تنہائی انسان کی شخصیت کو نکھارتی اور اسے زندگی کے اصل معنی سمجھاتی ہے۔
قائد اعظم ہوں یا علامہ اقبال ،گوتم بدھ ہوں یا با گورو نانک سب کے سب اپنی ذاتی زندگی میں تنہا تھے۔
کیونکہ تنہائی ہی میں اپنے اصل کو پا لینے کا راز چھپا ہے۔
مدیحہ انور
#مدیحہ_انور #فکرو_عمل_کے_نقوش #fikr_o_amal_ke_naqoosh #madihaanwar #solitude
#SuccessInSolitude
