جدید زمانے کے جس دور میں ہم سانس لے رہے ہیں ‘ہر طرف مصنوعی چمک دمک ہے۔ہر کوئی نمائش میں مصروف ہے۔یعنی جس کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی کوشش میں ہے کہ کسی طرح میں اپنے اس حاصل سے دوسرے کو متاثر کر سکے یا نیچا دکھا سکے۔ یہ نمائش کسی بھی چیزContinue reading “آخر اچھے کردار کو کیسے پہچانا جائے۔۔۔؟”
Tag Archives: #فکروعمل کے نقوش، #fikr_o_amal_ke_naqoosh
ہماری زندگی اکثر بڑی کامیابیوں کے انتظار میں گزر جاتی ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ جب بڑا گھر ہو جائے گا، اچھی گاڑی آ جائے گی، یا کوئی نمایاں مقام مل جائے گا تب دل کو سکون نصیب ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سکون کا راستہ بڑی کامیابیوں سے نہیں بلکہ چھوٹی خوشیوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ صبح کی پہلی کرن جب کھڑکی سے اندر آتی ہے، چائے کی پیالی سے اٹھتی بھاپ، کسی اپنے کی مسکراہٹ، ماں کی دعا، بچے کی معصوم بات، یا کسی اجنبی کا خلوص سے کیا گیا سلام—یہ سب چھوٹی خوشیاں ہیں۔ ہم اکثر انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی لمحات دل کی تھکن اتارتے ہیں۔آج کی تیز رفتار زندگی میں ہم نے خوشی کو ایک منزل بنا لیا ہے، حالانکہ خوشی ایک کیفیت ہے جو راستے میں بکھری ہوتی ہے۔ اگر ہم رک کر ان لمحوں کو محسوس کریں تو اندازہ ہوگا کہ قدرت نے ہمیں ہر دن بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ شکرگزاری کا جذبہ انہی چھوٹی خوشیوں کو بڑا سکون بنا دیتا ہے۔ جب انسان شکر ادا کرتا ہے تو دل میں اطمینان اترتا ہے، بے چینی کم ہوتی ہے اور سوچ مثبت ہو جاتی ہے۔ڈیجیٹل دنیا نے ہمیں بہت کچھ دیا، مگر ساتھ ہی لمحوں کو جینے کی صلاحیت بھی کم کر دی۔ ہم تصویر لینے میں مصروف رہتے ہیں مگر منظر کو محسوس نہیں کرتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کبھی فون ایک طرف رکھ کر اپنوں کے ساتھ بیٹھیں، ہنسی بانٹیں، خاموشی کو سنیں اور اپنے رب کی دی ہوئی نعمتوں پر غور کریں۔سکون باہر نہیں، ہمارے اندر ہے۔ جب ہم چھوٹی چھوٹی باتوں میں خوشی تلاش کرنا سیکھ لیتے ہیں تو بڑے مسائل بھی چھوٹے لگنے لگتے ہیں۔ زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ ہم ہر دن میں چھپی خوشیوں کو پہچانیں، انہیں سمیٹیں اور دل میں جگہ دیں۔یاد رکھیے، بڑی خوشیاں کبھی کبھار ملتی ہیں، مگر چھوٹی خوشیاں روز دستک دیتی ہیں۔ جو ان دستکوں کو سن لیتا ہے، وہی حقیقی سکون پا لیتا ہے۔کیا آپ نے پتہ ہے کہ آپ کو کس چیز سے خوشی ملتی ہے؟ آپ کی روزمرہ زندگی کی وہ کون سی چھوٹی خوشی ہے جو آپ کو سب سے زیادہ سکون دیتی ہے؟کمنٹ میں ضرور شیئر کریں 💫مدیحہ انور
چھوٹی خوشیاں،بڑا سکون
کب بولنا ہے… اور کب خاموش رہنا ہے؟یہ سوال جتنا سادہ لگتا ہے، زندگی میں اتنا ہی گہرا ہے۔اللہ کے آخری پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔۔”أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا”یعنی”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں، تو ہم انہیں دو عالی مرتبت اشخاص سے اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: “جو خاموش رہا، وہ فلاح پا گیا” جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بات کرنے کے معاملے میں قول ہے: “بولو تاکہ پہچانے جاؤ” تو پھر سوال یہ ہے کہ… کب بولیں؟ اور کب خاموش رہیں؟کیونکہ انسان کی پہچان اس کی گفتگو سے ہوتی ہے—الفاظ اس کے شعور، ظرف اور کردار کا آئینہ ہوتے ہیں۔اس لئے جب انسان بولتا ہے تو وہ درحقیقت اپنا تعارف کرا رہا ہوتا ہے چاہے وہ اپنے بارے میں گفتگو نہ بھی کر رہا ہو۔جبکہ اگر کوئی شخص اگر خاموش ہے اور وہ کسی محفل میں بات نہیں بھی کر رہا تویہ خاموشی اس کے کردار کی کمزوری کی نہیں، بلکہ حکمت کی علامت ہے۔تو کیسے تعین ہو کہ کب بولنا درست ہے اور کب خاموش رہنا صحیح۔۔۔ہمیں ان دونوں عظیم الشان ہستیوں کے اسوہ حسنہ سے پتا چلتا ہے کہ۔✔️ جب حق دبایا جا رہا ہو — بولو✔️ جب کسی کی عزت پر حرف آ رہا ہو — بولو✔️ جب سچ کہنا ضروری ہو — بولولیکن۔۔۔۔۔❌ جب بات صرف انا کی ہو اور اپنی ذات کی ہوتو — خاموش رہو❌ جب الفاظ کسی کا دل توڑ سکتے ہوں — خاموش رہو❌ جب بحث بے مقصد ہو — خاموش رہویاد رکھیں… ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، اور ہر بات کرنا بہادری نہیں ہوتا۔خاموشی اگر سچ چھپانے کے لیے ہو تو بزدلی ہے، اور اگر فتنے کو روکنے کے لیے ہو تو عبادت ہے۔آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کب بولنا چاہیے اور کب خاموش رہنا بہتر ہے؟مدیحہ انور#fikr_o_amal_ke_naqoosh #madihaanwar #silence #مدیحہ_انور #فکرو_عمل_کے_نقوش
کامیابی اپنے ساتھ تنہائی لاتی ہے
زندگی میں ہر انسان کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے خواب پورے کرے، عزت پائے اور دوسروں میں نمایاں نظر آئے،کوشش بہت سے لوگ کرتے ہیں لیکن کامیابی چند لوگوں کو ملتی ہے۔آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اور غور کریں کہ آپ کے خاندان یا حلقہ احباب Continue reading “کامیابی اپنے ساتھ تنہائی لاتی ہے”