Check out my Pinterest profile! https://pin.it/5XTJ23BIe
Author Archives: khalilmadihaanwar
Privacy /نجی زندگی
پرائیویسی یا نجی زندگی ایسا موضوع ہے جس پر ہمارے معاشرے میں بہت ہی کم معلومات ہیں اور اس پر بہت ہی کم بات ہوتی ہے۔ اور کئی گھرانوں میں تو اس کے بارے میں بات کرنا ہی برا سمجھا جاتا ہےاور اس کو غرور، خودغرضی بھی سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ بین الاقوامی سطح پر پرائیویسیContinue reading “Privacy /نجی زندگی”
Poverty: The real problem or failure of the system
غربت: حقیقی مسئلہ یا نظام کی ناکامی؟ انسانوں میں دولت کی کمی یا زیادتی ہمیشہ سے رہی ہے۔ یہ اللہ کا نظام ہے کہ کسی کے کے پاس اتنا مال ہے کہ اس کی سات نسلوں کے لئے کافی ہے اور کوئی اگلے وقت کے کھانے کے لئے جدوجہد کر رہا پے۔ لیکن اگر غربتContinue reading “Poverty: The real problem or failure of the system”
اسلام میں اپنی ذات کے حقوق۔۔۔۔۔۔۔ایک بھولا ہوا فریضہ
ہم عموماً حقوق کی بات کرتے ہیں تو والدین، اولاد، شریکِ حیات اور معاشرے کے حقوق یاد آتے ہیں؛ مگر اسلام نے ایک اور اہم حق بھی سکھایا ہے ،جس کو اکثر اوقات ہم بھول جاتے ہیں یا نظرانداز کر دیتے ہیں اور وہ ہے اپنی ذات کا حق۔ یہ خود غرضی نہیں کہ انسانContinue reading “اسلام میں اپنی ذات کے حقوق۔۔۔۔۔۔۔ایک بھولا ہوا فریضہ”
علم اور عمل ساتھ ساتھ
علم حاصل کرنا ہر دور میں ہی پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہےاور ہر ذی شعور انسان کی یہ کوشش رہی کہ وہ تعلیم حاصل کرے لیکن انٹرنیٹ کے اس دور میں جب ہر طرف معلومات کا سیلاب ہے ،گلی گلی سکول کھل چکے ہیں تو علم کا حصول ہماری زندگیوں کا جزوContinue reading “علم اور عمل ساتھ ساتھ”
آخر اچھے کردار کو کیسے پہچانا جائے۔۔۔؟
جدید زمانے کے جس دور میں ہم سانس لے رہے ہیں ‘ہر طرف مصنوعی چمک دمک ہے۔ہر کوئی نمائش میں مصروف ہے۔یعنی جس کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی کوشش میں ہے کہ کسی طرح میں اپنے اس حاصل سے دوسرے کو متاثر کر سکے یا نیچا دکھا سکے۔ یہ نمائش کسی بھی چیزContinue reading “آخر اچھے کردار کو کیسے پہچانا جائے۔۔۔؟”
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کی زندگی بالکل ہموار ہو، جسے کسی مسئلے کا سامنا نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی ایک ایسی سڑک ہے جو کبھی سیدھی، کبھی کچی، اور کبھی بے حد ناہموار ہوتی ہے۔ اس سڑک پر چلتے ہوئے ہمیں ہر طرح کے موڑ، جھٹکے اور رکاوٹیں ملتی ہیں۔مگر اصل سوال یہ نہیں کہ سڑک کیسی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم ڈرائیونگ کیسے کرتے ہیں۔کچھ لوگ اپنی زندگی کی گاڑی کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: “میں کیا کروں، حالات ہی ایسے ہیں”، اور یوں وہ اپنی سمت، اپنی رفتار، حتیٰ کہ اپنی منزل کا اختیار بھی کھو دیتے ہیں۔ ان کے لیے ہر مشکل ایک جواز بن جاتی ہے، ہر رکاوٹ ایک بہانہ۔اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو سڑک کے ناہموار ہونے کے باوجود اپنی گرفت مضبوط رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر موڑ پر بریک کب لگانی ہے، رفتار کب کم کرنی ہے، اور کب ہمت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ وہ حالات کو الزام دینے کے بجائے اپنی مہارت کو بہتر بنانے پر توجہ دیتے ہیں۔زندگی بھی بالکل ایسی ہی ہے۔ہمیں ہر لمحہ مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم فوراً حل کر سکتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہماری بساط سے باہر ہوتے ہیں۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جہاں ہماری اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ یہاں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ مسئلہ کتنا بڑا ہے، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہم اس کے سامنے خود کو کتنا سنبھال پاتے ہیں۔اپنے ردعمل پر قابو رکھنا، اپنے جذبات کو متوازن رکھنا، اور مشکل حالات میں بھی اپنے ذہن کو پرسکون رکھنا—یہی وہ اصل صلاحیت ہے جو ایک مضبوط انسان کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔کیونکہ سچ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ حالات کو کنٹرول نہیں کر سکتے، لیکن ہم اپنے ردعمل کو ضرور کنٹرول کر سکتے ہیں۔اگر حالات خراب ہو جائیں تو یہ کہنا آسان ہے کہ “میرے مسائل ہی ایسے تھے کہ حل ممکن نہ تھا”، مگر اصل ہمت یہ ہے کہ انسان خود سے سوال کرے: “میں نے ان حالات میں خود کو کیسے سنبھالا؟”زندگی کی سڑک ہمیشہ ہموار نہیں ہوگی، مگر اگر ہماری گرفت مضبوط ہو، تو ہم ہر ناہمواری کو عبور کر سکتے ہیں۔مدیحہ انور
ہماری زندگی اکثر بڑی کامیابیوں کے انتظار میں گزر جاتی ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ جب بڑا گھر ہو جائے گا، اچھی گاڑی آ جائے گی، یا کوئی نمایاں مقام مل جائے گا تب دل کو سکون نصیب ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سکون کا راستہ بڑی کامیابیوں سے نہیں بلکہ چھوٹی خوشیوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ صبح کی پہلی کرن جب کھڑکی سے اندر آتی ہے، چائے کی پیالی سے اٹھتی بھاپ، کسی اپنے کی مسکراہٹ، ماں کی دعا، بچے کی معصوم بات، یا کسی اجنبی کا خلوص سے کیا گیا سلام—یہ سب چھوٹی خوشیاں ہیں۔ ہم اکثر انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی لمحات دل کی تھکن اتارتے ہیں۔آج کی تیز رفتار زندگی میں ہم نے خوشی کو ایک منزل بنا لیا ہے، حالانکہ خوشی ایک کیفیت ہے جو راستے میں بکھری ہوتی ہے۔ اگر ہم رک کر ان لمحوں کو محسوس کریں تو اندازہ ہوگا کہ قدرت نے ہمیں ہر دن بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ شکرگزاری کا جذبہ انہی چھوٹی خوشیوں کو بڑا سکون بنا دیتا ہے۔ جب انسان شکر ادا کرتا ہے تو دل میں اطمینان اترتا ہے، بے چینی کم ہوتی ہے اور سوچ مثبت ہو جاتی ہے۔ڈیجیٹل دنیا نے ہمیں بہت کچھ دیا، مگر ساتھ ہی لمحوں کو جینے کی صلاحیت بھی کم کر دی۔ ہم تصویر لینے میں مصروف رہتے ہیں مگر منظر کو محسوس نہیں کرتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کبھی فون ایک طرف رکھ کر اپنوں کے ساتھ بیٹھیں، ہنسی بانٹیں، خاموشی کو سنیں اور اپنے رب کی دی ہوئی نعمتوں پر غور کریں۔سکون باہر نہیں، ہمارے اندر ہے۔ جب ہم چھوٹی چھوٹی باتوں میں خوشی تلاش کرنا سیکھ لیتے ہیں تو بڑے مسائل بھی چھوٹے لگنے لگتے ہیں۔ زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ ہم ہر دن میں چھپی خوشیوں کو پہچانیں، انہیں سمیٹیں اور دل میں جگہ دیں۔یاد رکھیے، بڑی خوشیاں کبھی کبھار ملتی ہیں، مگر چھوٹی خوشیاں روز دستک دیتی ہیں۔ جو ان دستکوں کو سن لیتا ہے، وہی حقیقی سکون پا لیتا ہے۔کیا آپ نے پتہ ہے کہ آپ کو کس چیز سے خوشی ملتی ہے؟ آپ کی روزمرہ زندگی کی وہ کون سی چھوٹی خوشی ہے جو آپ کو سب سے زیادہ سکون دیتی ہے؟کمنٹ میں ضرور شیئر کریں 💫مدیحہ انور
چھوٹی خوشیاں،بڑا سکون
کب بولنا ہے… اور کب خاموش رہنا ہے؟یہ سوال جتنا سادہ لگتا ہے، زندگی میں اتنا ہی گہرا ہے۔اللہ کے آخری پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔۔”أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا”یعنی”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں، تو ہم انہیں دو عالی مرتبت اشخاص سے اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: “جو خاموش رہا، وہ فلاح پا گیا” جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بات کرنے کے معاملے میں قول ہے: “بولو تاکہ پہچانے جاؤ” تو پھر سوال یہ ہے کہ… کب بولیں؟ اور کب خاموش رہیں؟کیونکہ انسان کی پہچان اس کی گفتگو سے ہوتی ہے—الفاظ اس کے شعور، ظرف اور کردار کا آئینہ ہوتے ہیں۔اس لئے جب انسان بولتا ہے تو وہ درحقیقت اپنا تعارف کرا رہا ہوتا ہے چاہے وہ اپنے بارے میں گفتگو نہ بھی کر رہا ہو۔جبکہ اگر کوئی شخص اگر خاموش ہے اور وہ کسی محفل میں بات نہیں بھی کر رہا تویہ خاموشی اس کے کردار کی کمزوری کی نہیں، بلکہ حکمت کی علامت ہے۔تو کیسے تعین ہو کہ کب بولنا درست ہے اور کب خاموش رہنا صحیح۔۔۔ہمیں ان دونوں عظیم الشان ہستیوں کے اسوہ حسنہ سے پتا چلتا ہے کہ۔✔️ جب حق دبایا جا رہا ہو — بولو✔️ جب کسی کی عزت پر حرف آ رہا ہو — بولو✔️ جب سچ کہنا ضروری ہو — بولولیکن۔۔۔۔۔❌ جب بات صرف انا کی ہو اور اپنی ذات کی ہوتو — خاموش رہو❌ جب الفاظ کسی کا دل توڑ سکتے ہوں — خاموش رہو❌ جب بحث بے مقصد ہو — خاموش رہویاد رکھیں… ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، اور ہر بات کرنا بہادری نہیں ہوتا۔خاموشی اگر سچ چھپانے کے لیے ہو تو بزدلی ہے، اور اگر فتنے کو روکنے کے لیے ہو تو عبادت ہے۔آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کب بولنا چاہیے اور کب خاموش رہنا بہتر ہے؟مدیحہ انور#fikr_o_amal_ke_naqoosh #madihaanwar #silence #مدیحہ_انور #فکرو_عمل_کے_نقوش
کامیابی اپنے ساتھ تنہائی لاتی ہے
زندگی میں ہر انسان کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے خواب پورے کرے، عزت پائے اور دوسروں میں نمایاں نظر آئے،کوشش بہت سے لوگ کرتے ہیں لیکن کامیابی چند لوگوں کو ملتی ہے۔آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اور غور کریں کہ آپ کے خاندان یا حلقہ احباب Continue reading “کامیابی اپنے ساتھ تنہائی لاتی ہے”